کیا مادر ملت کو قتل کیا گیا؟

محمد اقبال قریشی

muhammad iqbal qureshi

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی وفات سب کے لیے ایک اندوہناک سانحہ تو تھا لیکن اس کی پراسراریت کسی معمہ سے بھی کم نہ تھی ۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ محترمہ کی موت طبعی طریقے سے نہیں ہوئی بلکہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جنوری 1972 میں غلام سرور نامی ایک شخص نے محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے عدالت میں ایک درخواست سماعت کے لیے دائر کی۔ اس درخواست کے حوالے سے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ ممتاز محمد بیگ نے ایک شخص غلام سرور ملک کی دفعہ 176 ضابطہ فوجداری کے تحت درخواست کی سماعت کے لیے 17جنوری کی تاریخ مقرر کی ۔ درخواست کا متن یہ تھا :
'' غلام سرور ملک نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ میں پاکستان کا ایک معزز شہری ہوں اور محترمہ فاطمہ جناح سے مجھے بے انتہا عقیدت ہے، مرحومہ قوم کی معمار اور عظیم قائد تھیں۔ انہوں نے تمام زندگی جمہوریت اور قانون کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی۔ 1964 میں جب انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تو وہ عوام کی امیدوں کا مرکزبن گئیں۔ وہ اس ٹولے کی راہ میں جو ہر صورت اقتدار سے چمٹا رہنا چاہتا تھا، زبردست رکاوٹ تھیں اور یہ ٹولہ ہر قیمت پر ان سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ''
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ 7 جولائی 1964 کو محترمہ فاطمہ جناح رات کے گیارہ بجے تک ایک شادی میں شریک تھیں اور وہ ہشاش بشاش تھیں جبکہ 9 جولائی کو اچانک یہ اعلان کر دیا گیا کہ وہ انتقال کر گئیں ہیں۔ ان کی تجہیز و تکفین کے وقت عوام کو جنازے کے قریب نہیں جانے دیا گیا اور یہاں تک کہ انہیں ان کے آخری دیدار کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس دوران جو آخری دیدار کرنا چاہتے تھے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس پھینکی گئی۔

Image result for fatima jinnahحکومت کی طرف سے درج بالا سنگین اقدامات کے تناظر میں یہ افواہیں عام تھیں کہ محترمہ فاطمہ جناح کے جسم پر زخموں کے نشانات ہیں لیکن جلد ہی ان افواہوں کو دبا دیا گیا۔ غلام سرور ملک نے اپنی درخواست میں کہا کہ مجھے یہ تشویش رہی کہ محترمہ فاطمہ جناح کو کہیں قتل نہ کیا گیا ہو۔ 2 اگست 1971 میں ایک مقامی اردو روزنامے میں یہ خبر شائع ہوئی کہ محترمہ فاطمہ جناح کو قتل کیا گیا ہے۔ اس خبر میں غسل دینے والوں کے بیانات بھی شائع ہوئے، جس میں ہدایت علی عرف کلو غسال نے یہ کہا تھا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے جسم پر زخموں کے گہرے نشانات تھے اور ان کے پیٹ میں سوراخ بھی تھا جس سے خون اور پیپ بہہ رہی تھی۔ غسال نے کہا تھا کہ محترمہ کے خون آلود کپڑے اس کے پاس موجود ہیں، لیکن اس وقت کی حکومت نے نہ تو اس کی تردید کی اور نہ ہی اس معاملے میں انکوائری کی ہدایت کی گئی۔ اس کے علاوہ اس معاملے کی دیگر غسالوں نے بھی تصدیق کی تھی۔ بعد ازاں حسن اے شیخ اور دیگر معزز ہستیوں نے اس سلسلے میں اپنے شک و شبہ کا اظہار بھی کیا تھا اور یہ معاملہ اخبارات میں نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع کیا گیا اور اداریے بھی لکھے گئے۔ لیکن پھر وہی ہوا جو اب تک مملکت خداد میں ہوتا آیا ہے ، ایک اور قربانی وقت کی گرد میں چھپ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کیس کا کیا بنا ؟ شاید کسی کو معلوم ہو ۔
محترمہ فاطمہ جناح کوئی معمولی ہستی نہ تھیں ، کیا تحریک پاکستان میں قائد اعظم کے شانہ بشانہ ان تھک خدمات سرانجام دینے والیں مادرِ ملت کا ہم سب پر اتنا بھی حق نہیں کہ ان کے جنازے اور تدفین میں ہونے والی یہ بدمزگی پر سوالیہ نشان ہی ثبت کر سکیں ۔ کیونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے، اس لیے ناچیز نے پوری کوشش کی ہے کہ آپ سب کی خدمت میں مکمل تحقیق کے بعد تاریخی حوالوں کے ساتھ صرف حقائق پیش کیے جائیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *