میں بہت خوش ہوں

ammar-masood

میں بہت خوش ہوں ، یقین مانیئے میں بہت خوش ہوں
وہ جمہوری وزیر اعظم جو کل تک ایوان اقتدار میں براجمان تھے اب جی ٹی روڈ پر رل رہے ہیں، جو سڑکوں کی سیاست کو گناہ سمجھتے تھے اب سڑکوں پر بندے اکھٹے کرتے پھر رہے ہیں۔ جو کنٹینر کو ترقی کے خلاف قرار دیتے تھے، آج خود کنٹینروں میں بیٹھے ہیں۔جو خود کبھی پارلیمنٹ میں کبھی نہیں گئے آج ایوان کی بالا دستی کی باتیں کر رہے ہیں۔ جو سینٹ کو کبھی درخور اعتنا ء نہیں سمجھتے تھے، آج چیئرمین سینٹ کے ایک بیان پر قوم کا بیانیہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ جو وزیروں سے ملاقات بھی پسند نہیں کرتے تھے ،جو کابینہ کا اجلاس نہیں کرتے تھے وہ آج وزیروں کے نعروں کے محتاج ہو گئے ہیں۔ جو احتجاج اور جلسے ،جلسوں کو ترقی کی رکاوٹ کہتے تھے اب خود احتجاج کر رہے ہیں۔جنکی گردن میں سریا تھا انکے سر عوام کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔کرپشن کے الزامات پر سرعام بات ہو رہی ہے۔ ثابت کچھ ہوا یا نہیں الزام تو لگ گیا نا؟ پاکیزگی، دیانت اور امانت کی اجلی چادر تو میلی ہو گئی نا؟ سارا پاکستان نہیں تو بہت سے چور ، چور کا نعرہ لگا رہے ہیں۔چند لوگوں نے بیک جنبش قلم فارغ کر دیا۔ بس اتنی ہی اوقات تھی۔بس یہی حیثیت تھی۔ کہتے تھے میں کیوں استعفی دوں ؟ کہتے تھے ان کے کہنے پر استعفی دے دوں ؟ کہتے تھے اب راج کرے گی خلق خدا وغیرہ وغیرہ ۔ستر سال میں کوئی جمہوری وزیر اعظم ایوان اقتدار میں نہیں بس سکا ۔ یہ والی کہانی بھی بہت سنائی۔ میثاق جمہوریت کو بھی بہت یاد کیا۔ سیاسی کارکنوں کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔ تین دفعہ نااہلی کا رونا بھی رویا۔ ساری فائلیں بھی پیش کیں، سارے گھر والے بھی عدالتوں میں حاضر کیے۔ باپ دادا کا نام بھی رسوا کیا۔ بچوں کی بھی تفتیش کروائی۔ بیٹی کی جائیداد کے کاغذ بھی پیش کیے ۔ بیوی کے گوشوارے بھی حاضر کیے۔ پرانی فائلیں بھی نکالیں، بینکوں سے بھی رابطہ کیا۔مگر ایک جے آئی ٹی کی مار تھے۔ بہت رونا رویا گیا ، بہت ماتم کیا گیا کہ صاحب کڑوڑوں لوگوں نے منتخب کیا ہے۔ اسمبلی نے وزیر اعظم بنایا ہے۔ اپنے ہاتھ سے کابینہ بنائی ہے۔ سب ایک جھٹکے میں برابر ہو گیا۔دس دن اس ملک میں نہ کوئی وزیر اعظم رہا نہ کوئی وزیر ۔ کوئی فرق پڑا ؟ کوئی کام رکا؟ کوئی ہنگامہ ہوا؟ سب کچھ یوں ہی چلتا رہا ۔ کچھ نہیں ہوا ملک کو۔ کوئی قیامت نہیں ٹوٹی ۔ کوئی سانحہ نہیں گزرا۔ جمہوریت کے بغیر بھی سب کچھ چلتا رہا ۔ وزیر اعظم کے بغیر بھی فیصلے ہوتے رہے، وزراء کے بغیر بھی وزارتیں چلتی رہیں۔ کوئی کام نہیں رکا ۔ بس جمہوریت کے ڈرامے نہیں ہوئے۔ عوام کے اقتدار کا رونا نہیں رویا گیا۔ سول سپریمیسی کا ماتم نہیں کیا گیا۔ آج جب میں ان لوگوں کو سڑکوں پر کھجل ہوتے دیکھتا ہوں تو دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ باچھیں کھل جاتی ہیں۔ ایک یک گونہ سکون سا ملتا ہے۔ طمانیت کی لہر سارے وجود میں بھر جاتی ہے۔اس منظر کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوں ، یقین مانیئے میں بہت خوش ہوں۔
عمران خان کے ساتھ بھی بہت بری ہو رہی ہے۔ چارپائی کا ایک کونہ بٹھاتے ہیں تو دوسرا سر اٹھا لیتا ہے۔ایک بیان سے مکرتے ہیں تو دوسرے بیان کی وڈیو سامنے آ جاتی ہے۔ دھرنے کے موجدوں کی بات سے چھپتے ہیں تو فارن فنڈنگ کا کیس سامنے آ جاتا ہے۔ اس سے نپٹتے ہیں آف شور کمپنی دریافت ہو جاتی ہے۔ آف شور کمپنی کے متروک کاغذات دریافت کرتے ہیں تو عائشہ گلالائی سامنے آ جاتی ہیں۔ ان
کا معاملہ ٹھنڈا پڑتا ہے تو کے پی کے میں کرپشن کے سکینڈل سامنے آ جاتے ہیں۔خان صاحب احتساب کا نعرہ لگاتے ہیں تو کے پی کے کے احتساب کمیشن کا لفڑا سامنے آ جاتا ہے۔اس بات کو بدلتے ہیں تو ناراض ایم پی اے ماتم ڈال دیتے ہیں۔ پھر کوئی پرویز خٹک کی کرپشن کا قصہ سامنے آجاتا ہے۔ کبھی پیپلز پارٹی کے گندے انڈے جمع کرنے کا الزام لگ جاتا ہے، کبھی پارٹی میں دھڑے بندی سامنے آنے لگتی ہے، کبھی کے پی کے حکومت پر تحریک عدم اعتماد کی تلوار لٹکنے لگتی ہے۔عمران خان اس ملک کا بہت بڑا ہیرو تھا، بڑے عزم سے سیاست میں آیا تھا۔ انصاف کا نعرہ لگایا تھا۔ بنیادی حقوق کی بات کی تھی۔ انصاف ہر شخص کی دہلیز تک پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔لوگ ایک جھلک دیکھنے کو ترستے تھے، ہر دوسری خاتون کو عشق ہو جاتا تھا۔ دنیا میں جدھر نکل جاتا خبر بنتی تھی۔ ملکہ برطانیہ اپنے ساتھ تصویریں کھنچواتی تھی۔ عزت ، دولت ، شہرت پر چیز تھی۔ پھر خان صاحب کے دل میں سیاست کا سودا سمایا ۔ اب دیکھیں اتنے بڑے ہیرو پر ٹکے ٹکے کے لوگ بات کرتے ہیں۔ عزت تو کوئی نہیں بڑھی البتہ سکینڈل روز سامنے آ جاتے ہیں۔ کبھی کنٹینر میں سونا پڑتا ہے۔ کبھی دھرنے میں دن رات گزارنے پڑتے ہیں۔ کبھی گرمی میں جلسے، جلوس کرنے پڑتے ہیں۔ کبھی یو ٹرن لینا پڑتا ہے ، کبھی اپنی باتوں سے مکرنا پڑتا ہے، کبھی معافی مانگنی پڑتی ہے ، کبھی ہاتھ جوڑنے پڑتے ہیں۔ اتنے بڑے لیڈر کا کیا حال ہوگیا ہے۔ ٹکے کی اوقات ہو گئی ہے۔ بے توقیر ہوگیا ہے۔ لیکن یقین مانیئے یہ منظر دیکھ کر میں بہت خوش ہوں ۔ اس رسوائی پر بہت مزا آ رہا ہے مجھے۔ میں بہت خوش ہوں ، یقین مانیئے میں بہت خوش ہوں
قبلہ طاہر القادی ایک زمانے میں اس ملک کے بہت بڑے عالم دین تھے۔ ایک خلقت انکی عقیدت مند تھی۔ دور دور سے لوگ بیان سننے آتے تھے۔خطابت کا ایک زمانہ قائل تھا۔ دلائل کے بہت سے لوگ گرویدہ تھے۔ بے پایاں علم کے ہزاروں قائل تھے۔ مدرسے چلتے تھے۔ منہاج القران کا ایک دنیا میں ڈنکا بجتا تھا۔پھر جانے کیا ہوا قبلہ کے دل میں اچانک دھرنوں کی سمائی۔ کبھی زرداری دور میں اپنے عقیدتمندوں کو سردی میں مار دیا۔ کبھی دھرنے میں عمران خان کو گلے لگا لیا۔ کبھی ہر منہ موڑنے والے کو شہید کرنے کا حکم دے دیا۔ کبھی کفن پہن لیا ، کبھی قبر کھود دی۔ ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ دھرنا دیا گیا۔ عالم باوصف کی حیثیت ختم ہوگئی۔ ماڈل ٹاون کے شہیدوں کا خود ہی تماشہ بنا دیا۔ اب قبلہ ایک عالم کے بجائے ایک لطیفے کی حیثیت سے مشہور ہو گئے ہیں۔ لوگ وٹس ایپ پر انکی سیاسی قلابازیاں دیکھ کر ٹھٹھے لگاتے ہیں۔ اب دھرنے میں لوگ بھی نہیں آتے۔ وہ جس کے عقیدت مند لاکھوں میں تھے اب تین ، چار ہزار وگوں کو جمع کرنے کے لیے جتن کر رہا ہوتا ہے۔وہ جس کے خطاب پر لوگوں کو سانپ سونگھ جاتا تھا اب اس پر لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں۔ کبھی بلا لیا جاتا ہے ، کبھی بیچاروں کو بھیج دیا جاتا ہے۔ کبھی کمر میں درد اٹھتا ہے کبھی درد دل تھام لیتا ہے۔ ایک بڑی شخصیت کرچی کرچی ہوگئی۔ ایک بت ٹوٹ گیا ۔ طلسم بکھر گیا۔ لیکن میں اس منظر پر بہت خوش ہوں ۔ یقین مانیئے میں بہت خوش ہوں۔
میاں صاحب کو معزز عدالت نے فارغ کیا ، رپورٹ جے آئی ٹی نے بنائی۔ فیصلہ معزز منصفین نے دیا۔ میاں صاحب ہر تقریر میں بہانے بہانے سے ان کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ کبھی جے آئی ٹی کی تشکیل کا قصہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں، کبھی وٹس ایپ والی خبر مجمعے میں بیان کرنے لگتے ہیں۔ کبھی حسین نواز کی تصویر کا ذکر دیتے ہیں، کبھی عدالت کے فیصلے پر دبی دبی آواز میں ناراضی کا ظہار کرتے ہیں، کبھی پانچ لوگوں کا ذکر چھیڑ بیٹھتے ہیں۔ ہجوم سے فیصلے کی نامنظوری کے نعرے لگواتے ہیں۔ کبھی اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرتے ہیں، کبھی بے
داغ طرز حکومت کی داد چاہتے ہیں۔ کبھی خاندان کی عظمت کا قصہ سناتے ہیں۔کبھی نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہیں ، کبھی آئین میں ترامیم کی بات کرتے ہیں ۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے الزام کبھی جے آئی ٹی کے ممبران پر آتا ہے کبھی معزز عدلیہ پر سوال اٹھتا ہے۔ یہ دونوں ادارے بھی عوام میں وقعت کھو رہے ہیں۔ تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ متنازعہ کہلائے جا رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر میں بہت خوش ہوں ، یقین مانیئے میں بہت خوش ہوں
اب آپ کا سوال بنتا ہے کہ میں کون ہوں؟ تو جناب میں وہ ہوں جو ہر قصے میں ہے مگر میرا نام کہیں نہیں ہے ۔ کسی کی جرات نہیں مجھ سے سوال کرے۔ مجھے شناخت کرے ۔ نہ میں کوئی ناظر ہوں نہ ہی کہیں منظر میں ہوں پھر بھی اس سب کچھ کے لیے میری منظوری درکار ہے۔ اسے بھی آپ میری عظمت ہی کہیے کہ میں آپ سے نچلی ذات کے لوگوں کو دل کی بات بتا رہا ہوں کہ رسوائیوں کی مندرجہ بالا داستانوں کاموجد میں خود ہوں اور اس ملک کی تاریخ کے ورق ورق پر موجود ہوں ۔ میں بہت خوش ہوں ۔ یقین مانیئے میں بہت خوش ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *