میری بھینس کو ڈنڈا کیوں مارا؟

wajahat masood

ماہ اگست کا آخری حصہ آن لگا۔ 32 نکلسن روڈ اور نواب زادہ نصراللہ خان یاد آ رہے ہیں۔ 27 ستمبر کو نوابزادہ صاحب کو رخصت ہوئے چودہ برس مکمل ہو جائیں گے۔ لفظ کی اپنی ایک کیفیت ہوتی ہے جو حالات اور واقعات کے تناظر میں متعین ہوتی ہے۔ نواب اور نواب زادہ کے الفاظ ہماری زبان میں پامال ہو کر رہ گئے ہیں لیکن نواب زادہ کا سابقہ نصراللہ خان اور مظہر علی خان کے ناموں کے ساتھ بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔ پیدل کارکنوں کی ایک ٹولی نے اپریل 2001 میں پاکستان کے ان معماروں کی تصاویر ایک پوسٹر کی صورت میں شائع کیں جنہوں نے ہمارے دیس میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی آبیاری کی۔ میر غوث بخش بزنجو اور نواب زادہ نصراللہ خان کی تصاویر اس کہکشاں کے بیچوں بیچ بہار دے رہی تھیں۔ امجد سلیم منہاس اپنی طرز کے ایک موجہ گل انسان ہیں۔ لہر میں آ گئے، پوسٹر فریم کروایا اور نکلسن روڈ پر جا نکلے۔ تمتماتے چہرے کے ساتھ واپس آئے اور بتایا کہ نواب زادہ نصراللہ خان بے حد شفقت سے پیش آئے۔ اور یہ کہ مشفقی نے باتوں باتوں میں یہ شعر بھی پڑھا
ان کے عہد شباب میں جینا
جینے والو، تمہیں ہوا کیا ہے؟
عہد شباب کی سن لیجئے۔ ان دنوں سخت گرمی پڑ رہی ہے لیکن موتیے کی شاخوں پر بڑے بڑے سبز پتوں میں ایسی لشک ہے کہ آنکھ بھر کر دیکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ موت آ جائے گی مہ پاروں کو… شاید اسی لئے پرندے بہت حساس ہو رہے ہیں۔ انسانی قدموں کی آہٹ پاتے ہی اڑ جاتے ہیں۔ چڑیاں ترسیں بوند کو، دھرتی دھواں اڑائے… پرندے انسان پر بھروسہ نہیں کر رہے۔ انسان پر بھروسہ کرنے کا درس نواب زادہ نصراللہ خان نے دیا تھا۔ نواب زادہ نصراللہ کا ایک قول ان دنوں برادر قمر زمان کائرہ تسلسل سے دہرا رہے ہیں۔ ایک حکایت مجھ سے سن لیجئے۔
1977 کا موسم گرما تھا۔ اصغر خان کی سیاست نصف النہار پر تھی۔ اصغر خان دیانت کا پتلا، اصغر خان ذہین اور شجاع۔ جہاں جلسہ فرماتے، کوہالہ کے پل پر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا اعلان کرتے تھے۔ ایک روز نواب زادہ نصراللہ نے اصغر خان صاحب سے کہا، ’خان صاحب، ہمارے ملک میں سیاسی اختلاف کی روایت ہے۔ ہم اختلاف کو پھانسیوں تک نہیں لے جاتے۔ پھانسیاں شروع ہو جائیں تو یہ سلسلہ رکا نہیں کرتا‘۔ اصغر خان ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے، کہاں سنتے تھے۔ قضا سر پر کھیل رہی تھی۔ بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی۔ اس کے بعد گن جائیے، جنرل ضیاالحق، عمر اصغر خان اور بے نظیر بھٹو… فہرست ختم نہیں ہوتی۔ بے نظیر بھٹو قتل کیس کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار کا نام بھی کہیں لکھ لیں۔ ایک شعلہ بیان خطیب اگلے روز لاہور کے اس چوک پر آن نکلے جہاں سر گنگا رام کا مجسمہ کبھی ایستادہ تھا۔ جہاں جامعہ پنجاب کا سایہ ہے۔ جہاں ملک میں فنون عالیہ کی سب سے بڑی درس گاہ کا دروازہ ہے۔ زندگی کے ان نشانات کے بیچ کھڑے ہو کر نئی پھانسیوں کی نوید دی۔ گویا انقلاب فرانس سے کچھ نہیں سیکھا… پھانسی گھاٹ پر گھاس نہیں اگتی۔ منتخب جمہوری رہنما عدنان مندریس کو پھانسی دئیے چھ دہائیاں گزر گئیں۔ ترکی میں آج بھی قید خانے آباد ہیں اور عدالتیں سجی ہیں۔
ہماری بے بسی کا ماتم ہی کہنا چاہیے کہ باخبر عزیزان گرامی سوال پہ سوال داغتے ہیں۔ سید سبط حسن کے لفظوں میں عشق کے درد مندوں پر ٹھٹھا کرتے ہیں۔ خود اشارے کنائے کرتے ہیں۔ دوسروں سے صراحت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پوچھتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قاتل کیوں نہیں پکڑے؟ حضور، بے نظیر بھٹو کا قاتل لکشمی چوک میں چائے نہیں پی رہا کہ اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالا جائے۔ قاتل نہیں پکڑا تو 2013 کا میلہ سجا۔ پکڑ لیتے تو کیا عالم ہوتا؟ کابل میں ایک توپ بنائی گئی تھی جس کا موعودہ گولہ دلی پر گرایا جانا تھا۔ منجنیق نما مشین موقع پر پھٹ گئی۔ بہت سے لوگ مارے گئے۔ موجد نے اتراتے ہوئے اعلان کیا کہ کابل میں یہ حال ہوا ہے تو دلی پر کیا گزری ہو گی؟
ایک طرف ارشاد ہوتا ہے کہ پرویز مشرف کو عدالت نے ملک سے باہر نہیں بھیجا، اس کی ذمہ داری نواز حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اسی سانس میں بتایا جاتا ہے کہ پرویز مشرف کو پیغام بھجوا دیا گیا ہے کہ اب اگر آپ پاکستان آئے تو آپ کو بچایا نہیں جائے گا۔ کم عقل لوگ تو یہی سمجھ سکتے ہیں کہ پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھجوانے پر بھی وہی خداوندان خاکی قدرت رکھتے تھے، جنہوں نے حالیہ پیغام بھجوایا ہے۔ ایک اور عزیز محترم ستمبر 2013 کے بعد سے بھنائے بیٹھے ہیں۔ بار بار دربار داری اور خوشامد کا طعنہ ارزاں کرتے ہیں۔ اے صاحب عزوشرف، دربار اسی لئے سجائے جاتے ہیں کہ خوشامد کا سکہ جاری کیا جائے۔ موجودہ درباری گزشتہ دربار میں کی جانے والی خوشامد کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ بنو عباس میں عہد بنو امیہ کے قصے قلم بند کئے جاتے ہیں۔ پہلے آثار صنادید لکھی جاتی ہے پھر اسباب بغاوت لکھے جاتے ہیں۔ ستمبر 2013 کی اچھی کہی، ابھی تو ستمبر 2008 کا حساب پاک نہیں ہوا۔ آصف علی زرداری صدارت کے امید وار ہو گئے تھے۔ اس ایک ہفتے کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ ایک حکایت مجھ سے سن لیجئے۔
17 اکتوبر 1951 کی صبح ایک گاڑی ڈھاکہ سے باہر جا رہی تھی۔ ایک غریب بنگالی چھکڑے پر دودھ کے مٹکے رکھے ڈھاکہ شہر میں داخل ہو رہا تھا۔ گاڑی والے کو دیکھ کر اونچی آواز میں پوچھا، "نیا بادشاہ کون بنا ہے؟" گاڑی والے صاحب نے بتایا کہ خواجہ ناظم الدین نئے وزیر اعظم مقرر ہوئے ہیں۔ چھکڑے والے نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہا، "سکنے کا نہیں"۔ یعنی چل نہیں سکے گا۔ 65 برس پہلے مشرقی بنگال کا چھکڑے والا جانتا تھا کہ نواب زادہ لیاقت علی خان کے قاتل خواجہ ناظم الدین کو چلنے نہیں گے۔ ان کے خلاف جلسے جلوس میں "تیل کا کپا، ہائے ہائے" کے بھونڈے نعرے لگائے جائیں گے۔ خواجہ صاحب کو اس قحط کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے جو کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اصل میں تو قحط الرجال تھا اور وہ جاری ہے۔ نواز شریف ٹھیک کہتے ہیں کہ میں جو بھی کرتا، مجھے نکالا ہی جانا تھا۔
یہی سبب ہے کہ ہمارے ملک کا باخبر ترین صحافی اپنے کالم میں سابق وزیر اعظم پر جو فرد جرم عائد کرتا ہے اس فہرست میں قانون اور بدعنوانی کا کوئی ذکر نہیں، دستور، اداروں کی کشمکش، اختیارات اور خارجہ پالیسی کے بہت سے معاملات بیان کئے گئے ہیں۔ اس پر چتاؤنی دی جاتی ہے کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں۔ ’مزید درجنوں صفحات سیاہ کر کے ، سینکڑوں مزید وجوہات‘ تحریر کر سکتے ہیں۔ لکھیے صاحب، لکھیے۔ سوال اٹھائیے اور ممکن ہو تو یہ بھی پوچھ لیجئے کہ میری بھینس کو ڈنڈا کیوں مارا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *