اسٹیبلشمنٹ کی روش

usman ghazi
اگر نوازشریف نااہل نہ ہوتے تو 2018 میں ان کا سیاسی کیرئیر ناخوشگوار انداز میں ختم ہوچکا ہوتا اور اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں وہ برطرفی کی وجہ سے جارحانہ موڈ کے بجائے خراب کارکردگی کے تناظر میں دفاعی موڈ میں ہوتے۔
ابھی نوازشریف حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن کی سیاست کررہے ہیں، وزیراعظم ان کو رخصت کرتا ہے، وزیراعلی ان کو ویلکم کرتا ہے، سینکڑوں سرکاری گاڑیوں کے جھرمٹ میں وہ بچوں کو کچلتے ہوئے انقلابی بنے ہوئے ہیں۔
نوازشریف کی نااہلی بھی کرپشن کے الزامات میں نہیں ہوئی بلکہ تیکنکی معاملے پہ ہوئی، عدالت نے نااہل کرنے کے باوجود ان کو سرخرو کیا اور اگر نیب بند کمرے میں اپنی کسی کارروائی کے نتیجے میں میاں نوازشریف کو سزا دیتا ہے تو ان کو اتنا موقع مل چکا ہے کہ عوام کو اسٹبلشمنٹ کی سازش باور کرادیں۔
میاں نوازشریف اگر پارلیمان کے ٹرمزآف ریفرنسز کے ذریعے گرفت میں آتے تو یوں سڑکوں پر خود کو سرخرو قرار دیتے ہوئے نہ گھوم رہے ہوتے، ٹی اوآرز سے بچنے کے لئے میاں نوازشریف خود عدالت گئے اور کم ازکم کرپشن کے الزام میں نااہلی سے بچ گئے۔
نااہلی کسی سیاست دان اور خصوصاً اسٹبلشمنٹ کے سیاست دان کے لئے راکٹ سائنس نہیں ہوتی، لاہور ہائی کورٹ نے بھی 2009 میں میاں نوازشریف کو نااہل کیا تھا مگر بعد میں یہ وزیراعظم بنے۔
ایک دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ 80 کی دہائی میں اسٹبلشمنٹ نے پنجاب میں میاں نوازشریف اور سندھ میں مہاجر اور سندھی قوم پرستوں کو لانچ کیا تھا اور ان سب کو اسٹبلشمنٹ خود سائیڈ لائن کررہی ہے۔
الطاف حسین کا چیپٹر کلوز ہوچکا ہے، سندھی قوم پرست اپنے بنانے والوں کے گلے آچکے ہیں جس کے بعد ان کو ختم کیا جارہا ہے جبکہ پنجاب کی سیاست میں مائنس شریف خاندان کی کوششیں وہی لوگ کررہے ہیں جو ان کو لائے تھے، یہ جہاں جنرل ضیاء کے عہد کا خاتمہ ہے، وہیں اقتدار پرست لوگوں کے لئے تنبیہ بھی ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے جتنے تلوے چاٹ لئے جائیں، یہ احسان فراموش ہیں، اصل سیاست عوام کے قدموں تلے ہے۔
مائنس شریف فیملی، مائنس الطاف حسین یا سندھی قوم پرستوں کا خاتمہ ترقی پسند اور محب وطن حلقوں کے لئے خوشی کی بات تو ہے مگر المیہ یہ ہے کہ بظاہر انہیں اس لئے ختم کیا جارہا ہے تاکہ ان کی جگہ نئے چہرے متعارف کرائے جائیں۔
اسٹبلشمنٹ کو یہ روش ترک کرنا ہوگی کیونکہ اس کا ملک وقوم کو کوئی فائدہ نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *