سیکس ڈے کیا ہے؟کیوں منایا جاتا ہے؟

انتخاب: ارشد الیاس

my-body

خالق نے انسان کو مردوعورت کی صورت میں بنایا ہے۔یہ تسکین کا زریعہ بھی ہے اور نسل برقرار رکھنے کا طریقہ بھی۔کوئی مرد کسی عورت سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے تو دنیا بھر میں اس کے کچھ اصول ہیں۔ایک معاہدہ ہوتا ہے۔اسے قانونی اور سماجی حیثیت حاصل ہوتی ہے اسے نکاح کہتے ہیں۔اس میں شوہر بیوی کے اخراجات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔بچوں کی پیدائش کی صورت میں ان کے اخراجات تحفظ وغیرہ کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔بچے کو ماں باپ کا پیار توجہ ملتی ہے خاندان بنتا ہے رشتے بنتے ہیں۔بچے جوان ہو کر والدین کا خیال رکھتے ہیں۔یہ سب نکاح کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔
اس کے برعکس مردو عورت محض جنسی تسکین کے لیے کچھ وقت کے لیے بھی جنسی تعلق قائم کرتے ہیں۔مرد اس تسکین کے بدلے میں عورت کو کچھ رقم دے دیتا ہے۔اس کی بھی کئی صورتیں ہیں۔اگر یہ مدت باقاعدہ کچھ لوگوں کے سامنے طے کی جائے اور بچے کی صورت میں اس بچے کی حقوق کی ذمہ داری بھی لی جائے تو شیعہ فرقہ اسے جائز کہتا ہے۔اسی وہ متعہ کہتے ہیں جس میں کچھ دنوں کچھ ماہ کچھ گھنٹوں کے لیے بھی جنسی تعلق درست ہے۔لیکن اسے شادی یا نکاح کے عالمی معیار پر بھی دیکھا جائے تو اسے نکاح یا شادی تو نہیں کہا جاسکتا۔ہاں اگر دو جوان مردوعورت ایسا کوئی باہمی معاہدہ کرتے ہیں بعض ممالک اسے تسلیم کرتے ہیں۔لیکن ان کی حیثیت باقاعدہ شادی شدہ جوڑے جیسے نہیں ہوگی۔شادی شدہ جوڑے میں سے اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے تو کافی قانون ہیں۔لیکن اس دوسری قسم کے تعلق کو باہمی معاہدے ہی کی صورت میں دیکھا جاتا ہے۔قانونی طور پر امریکہ پاکستان اور بعض دوسرے ممالک میں جسم فروشی کی اجازت نہیں ہے۔ہاں امریکہ میں دو جوان باہمی رضامندی سے سیکس کرتے ہیں تو اس پر کوئی پابندی نہیںہے۔لیکن کوئی عورت باقاعدہ یہ دعوت دے کہ ایک گھنٹے کی جسم فروشی کی اتنی رقم ہے تو یہ غیر قانونی ہے۔اگر میں غلطی پر ہوں تو کوئی بتا سکتا ہے۔
دنیا کے بہت سے ممالک میں جسم فروشی کی اجازت ہے۔ان کے مطابق جسم عورت کی ملکیت ہے وہ جیسے چاہے اسے استعمال کرے یہ ریاست کا کام نہیں ہے کہ وہ کسی کے جسم پر کوئی حکم لگائے۔جسم فروشی کو وہاں قانونی تحفظ حاصل ہے۔مطلب وہاں کوئی بمیاری ایڈر والی عورت جسم فروشی نہیں کر سکتی۔اور اگر اس کے گاہک نے اسے اتنی رقم نہیں دی جو طے ہوئی تھی تو اس کے خلاف وہ قانونی کاروائی بھی کر سکتی ہے۔جسم فروشی سے حاصل ہونے والی آمدن پر بھی ٹٰیکس ہے بعض جگہ۔جسم فروش عورتوں کے حقوق کے لیے بھی آواز بلند کی جاتھی ہے اور یہ نعرہ بھی عام ہے کہ جسم فروشی بھی ایک کام ہے۔جسم فروش عورتوں کے حقوق کے لیے دن بھی منایا جاتا ہے۔اور مظاہرے کیے جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *