آئن اسٹائن کے قصبے سے ہٹلر کے برلن تک

yasir pirzada

یہ ’’کاپوت‘‘ ہے، برلن سے قریب پینتالیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع ایک قصبہ، ہم یہاں ایک جھیل کے کنارے کھڑے ہیں، جھیل کے اردگرد درختوں کے جھنڈ ہیں جو جنگل کا سماں پیش کر رہے ہیں، تا حد نگاہ پھیلی اِس جھیل میں مرغابیاں تیر رہی ہیں، کہیں کہیں لوگ کشتی رانی کر رہے ہیں، آئن اسٹائن کی کشتی بھی یہیں ہوا کرتی تھی، یہ کشتی اس کے ایک امیر دوست نے تحفے میں دی تھی۔ جھیل کے ساتھ ایک پکا راستہ ہے جہاں آپ واک کر سکتے ہیں، آئن اسٹائن اپنے گھر سے نکل کر یہاں ٹہلنے آیا کرتا تھا۔ راستے کے کنارے پر بنچ بنے ہیں، ٹھنڈی ہوا اور خوشگوار موسم میں یہاں سے جھیل کا نظارہ اور بھی دلکش ہو جاتا ہے، ذرا دور پرے ایک قطار میں ریستوران ہیں جن کی کرسیاں جھیل کے اوپر سجائی گئی ہیں، وہاں بیٹھ کے کافی سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ سامنے ایک پُل ہے جس کے اوپر سے ٹرین گزر رہی ہے، اور ذرا پیچھے ایک فیری ہے جو ایک موٹی لوہے کی تار سے بندھی ہے جس کا دوسرا سرا ایک بجلی کی موٹر کھینچتی ہے جس کی مدد سے فیری چلتی ہے، جس پر سوار ہو کر آپ جھیل کے دوسرے کنارے تک جا سکتے ہیں۔ ہم بہت دیر تک وہاں کھڑے رہے، درختوں کے پیچھے سے جھانکتے سورج کو دیکھتے رہے، اس خوبصورت منظر کو اپنی آنکھوں میں سمیٹنے کی کوشش کرتے رہے، تھوڑی دیر بعد ہمیں یوں لگا جیسے ہم زمین کے کسی ایسے ٹکڑے میں کھڑے ہیں جسے جنت نامزد کیا جا سکتا ہے۔ شاید اسی لئے آئن اسٹائن نے بھی کاپوت کے اپنے گھر کو ’’پیراڈائز‘‘ کہا تھا۔
آئن اسٹائن کا گھر یہاں سے دس پندرہ منٹ کی واک پر تھا، ہم وہاں پہنچے تو چھ بجنے میں چند ہی منٹ باقی تھے، قریب تھا کہ دروازہ بند کر دیا جاتا مگر قسمت اچھی تھی کہ داخلہ مل گیا۔ عظیم سائنس دان کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا، کاپوت والا گھر کہنے کو تو اس کی گرمیوں کی رہائش گاہ تھی مگر اپنی زندگی کا بڑا حصہ اُس نے یہیں گزارا، وہ جھیل میں کشتی چلاتا اور پاس کے جنگل میں اکثر اکیلے چہل قدمی کرنے نکل جاتا۔ اِس گھر میں اُس زمانے کے مشاہیر اُس سے ملنے آتے اور اس کے سادہ طرز زندگی کو دیکھ کر حیران رہ جاتے، اُس کی بیوی کہتی کہ خدا کے لئے ڈھنگ کے کپڑے تو پہن لیا کرو، لوگ کیا کہتے ہوں گے! آئن اسٹائن کا جواب ہوتا ’’وہ مجھ سے ملنے آتے ہیں، اگر کوئی میرے کپڑے دیکھنا چاہتا ہے تو اسے میری الماری دکھا دیا کرو۔‘‘ اس گھر کی کہانی بہت عجیب ہے۔ آئن اسٹائن کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر برلن کے مئیر نے پیشکش کی کہ شہر اپنے اس عظیم سپوت کو خراج تحسین کے طور پر برلن کے نواح میں ایک گھر تحفتاً دینا چاہتا ہے، آئن اسٹائن کی بیوی جب اُس گھر کو دیکھنے گئی تو گھر کے مالک نے اسے اندر ہی نہیں آنے دیا۔ مئیر نے عندیہ دیا کہ اگر آئن اسٹائن چاہے تو یہ گھر خالی کروایا جا سکتا ہے مگر آئن اسٹائن نے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا کہ میں کسی کو اُس کے گھر سے محروم نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے بعد آئن اسٹائن کو کئی گھر اور پلاٹ دکھائے گئے مگر اُس کے آرکیٹکٹ نے سب کو مسترد کر دیا، اس دوران آئن اسٹائن خود کو کچھ کچھ پراپرٹی ڈیلر سا محسوس کرنے لگا اور اس پوری مشق سے بیزار ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مئیر کو بعد میں علم ہوا کہ وہ آئن اسٹائن کو گھر یا پلاٹ سے متعلق ایسی کوئی پیشکش کرنے کا مجاز ہی نہیں تھا اور پھر آئن اسٹائن نے بھی ایسی تمام آفرز مسترد کرتے ہوئے یہ گھر خود بنایا، بس بیوی سے احتیاطاً پہلے پوچھ لیا کہ ’’ہمارے بینک اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہیں؟‘‘ اب جس پلاٹ پر یہ گھر تعمیر ہے وہ درختوں کے جھنڈ میں گھرا ہے، پورا گھر لکڑی سے تعمیر شدہ ہے اور اس کا نقشہ خود آئن اسٹائن نے اپنی نگرانی میں بنوایا تھا۔ یہ گھر اب اُس طرح سے میوزیم تو نہیں مگر اس کی پوری تاریخ یہاں محفوظ ہے۔ شام ڈھلنے کو تھی، میں نے وزیٹرز بک میں اپنے تاثرات قلم بند کئے اور پھر ہم آئن اسٹائن کے قصبے کو الوداع کہہ کر واپس برلن آ گئے۔
کہتے ہیں یورپ کے تمام شہر ایک سے ہیں، شہر کے بیچ بہتا دریا، دو چار تاریخی چرچ، ان کے آس پاس شاہی قلعے، عجائب گھر، اوپرا ہاؤس، سٹی سینٹر، کافی ہاؤسز، سڑک کے کنارے کیفے اور شاندار ٹرین اسٹیشن۔ برلن نے یہ تاثر بدل دیا۔ برلن میں دریا ضرور ہے مگر بہتا دکھائی نہیں دیتا، شرمایا شرمایا سا رہتا ہے، ریلوے اسٹیشن شاندار نہیں بلکہ بے حد عالیشان ہے اور شہر کا خاصا کیفے، ریستوران، گرجا گھر یا اوپرا ہاؤس نہیں بلکہ دوسری جنگ عظیم کی تاریخ ہے جو یورپ کے شاید ہی کسی دوسرے شہر کے پاس ہو، اور یہ بیک وقت اِس شہر کی خوش قسمتی بھی ہے اور بد قسمتی بھی۔ خوش قسمتی اُن کے لئے جو آج برلن میں رہ رہے ہیں اور اُس تاریخ سے سبق سیکھ رہے اور بدقسمتی اُن کے لئے جو دوسری جنگ عظیم میں یہاں بستے تھے اور جنہوں نے ہٹلر کا برلن دیکھا تھا۔ یہ وہ برلن تھا جس میں ہٹلر کی ایجنسیوں نے ہر شخص کی فائل بنائی ہوئی تھی، آج وہ تمام ریکارڈ اوپن ہے، لوگ جا کر اپنی فائلیں دیکھ سکتے ہیں۔ جس شام ہم برلن پہنچے تو برادرم شاہد گوندل نے ایک گھنٹے اور پندرہ منٹ میں ہمیں جرمنی ہی نہیں بلکہ فرانس کی تاریخ بھی رٹا دی اور ساتھ ہی ایک مختصر سا لیکچر قدیم مصری تاریخ پر بھی دے ڈالا، ہمیں یوں لگا جیسے موصوف تاریخ پر ایک کریش کورس کروانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ گوندل صاحب بظاہر جرمنی میں رہتے ہیں مگر دل پاکستان میں دھڑکتا ہے، بظاہر نوجوان ہیں مگر علم بڑے بوڑھوں والا رکھتے ہیں اور بظاہر کھلنڈرے لگتے ہیں مگر اپنے نظریات میں سنجیدہ اور ڈٹ جانے والے انسان ہیں۔ برلن میں ہٹلر کا بنکر دکھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب سوویت فوجیں یہاں سے بارہ کلومیٹر دور رہ گئیں تو ہٹلر کو خبر ہوئی، اُس نے اپنے کمانڈروں سے مشورہ کیا جن میں جوزف گوئیبلز اور اُس کی بیوی بھی شامل تھی، ہٹلر نے انہیں اجازت دی کہ جو بھی اسے چھوڑ کر جانا چاہے وہ جا سکتا ہے، گوئیبلز کی بیوی نے اس موقع پر کہا کہ وہ ایسا سورج نہیں دیکھنا چاہتی جس کی روشنی میں ہٹلر نہ ہو۔ بعد میں گوئیبلز نے اپنی بچیوں سمیت خودکشی کرلی۔ خود ہٹلر نے بھی اسی بنکر میں خود کو ، اپنے کتے کو اور اپنی محبوبہ کو گولی ماری اور پھر اُس کے حکم کے مطابق اُس کی لاش کو جلا دیا گیا کیونکہ ہٹلر نہیں چاہتا تھا کہ سوویت فوج کے ہاتھ اُس کی لاش لگے اور وہ اسے نشان عبرت بنائیں۔ ہٹلر کا جبڑا اور یونیفارم آج بھی روس کے عجائب گھر میں محفوظ ہیں جبکہ برلن میں اب بنکر کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا، فقط ایک بورڈ ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ یہاں بنکر ہوا کرتا تھا، سوویت فوجیں پولینڈ کے راستے شاہراہ وارسا سے برلن میں داخل ہوئیں اور پھر جرمنی کو ہٹلر سے آزاد کروایا۔ اس زمانے کے روسی ٹینک آج بھی نمائشی طور پر برلن میں نظر آتے ہیں۔ دیوار برلن اب نظر نہیں آتی، کہیں کہیں اس کی باقیات محفوظ ہیں جس پر دنیا بھر کے آرٹسٹوں کو بلا کر نقش و نگار بنوائے جاتے ہیں، مشرقی اور مغربی برلن میں کسی زمانے میں زمین آسمان کا فرق ہوا کرتا تھا، مشرقی برلن سے دیوار پھاند کر آنے والوں کو گولیاں مار دی جاتی تھیں، جب یہ دیوار تعمیر کی گئی تو گویا ایک لکیر تھی جو شہر کے بیچوں بیچ کھینچ دی گئی، خاندان ٹوٹ گئے، دوست بچھڑ گئے، ایک بٹوارہ تھا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوا۔ اب مشرقی حصہ اتنا تعمیر ہو چکا ہے کہ اُس کی چکا چوند کے آگے مغربی حصہ ماند پڑتا ہے، مشرقی طرز کی پرانی عمارتوں کا طرز تعمیر بالکل مختلف ہے اور اُن میں ’’ہٹلر پن‘‘ جھلکتا ہے، انہی عمارتوں کے درمیان اب جدید عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جس سے شہر کا facadeکچھ چوں چوں کا مربہ بن گیا ہے مگر یہ عمومی طور پر شہر کے جاہ جلال میں کوئی فرق نہیں آیا۔
ہٹلر کا برلن وہ شہر ہے جب فاشزم اپنے عروج پر تھا، لاکھوں لوگ ہٹلر کے دیوانے تھے، جب وہ شہر کی مرکزی شاہراہ پر جلسہ کیا کرتا تو بلا مبالغہ لاکھوں لوگ کھڑے ہو کر ’’ہے ہٹلر‘‘ کا نعرہ لگاتے، اس کے کمانڈر جاں نثار تھے، جرمنی کی کمپنیاں جو آج اپنی خفت مٹانے کے لئے مختلف خیراتی اداروں کو نازی ازم سے متعلق لاکھوں یورو فنڈ دیتی ہیں اُس وقت ہٹلر کی ہمنوا تھیں، ایک ایسی ہی کمپنی نے ہٹلر کی ایجنسی SSکی وردی کا ڈیزائن بنایا تھا۔ آج اسی برلن میں ہٹلر کا نام لینا جرم ہے، ہٹلر کا نعرہ لگانے پر دو سال قید ہے، فاشزم گالی بن چکا ہے۔ تاریخ کا سبق سچا بھی ہے اور سفاک بھی، سیکھنے کی نیت ہونی چاہئے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *