’’وزیراعظم‘‘ کی واپسی

mujeeb-ul-rehman

''وزیراعظم‘‘ نوازشریف سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے نتیجے میں (ایک بار پھر) وزیراعظم ہائوس خالی کرکے لاہور، اپنے گھر واپس پہنچ چکے ہیں۔ ان کے انداز و اطوار جوں کے توں ہیں۔ گھبراہٹ ہے نہ تھرتھراہٹ،سکون اور اطمینان کے ساتھ نئی صورت حال سے نبٹنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ جی ٹی روڈ کے استقبال نے ان میں نیا اعتماد اور نیا جوش و خروش بھر دیا ہے۔ ان کے لئے یہ تجربہ نیا نہیں۔ پہلے بھی دوبار وہ اس لذت سے آشنا ہو چکے ہیں۔1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے اپوزیشن لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو سے ساز باز کرکے یا ان کی شہ پا کر قومی اسمبلی تحلیل کی تھی کہ اس وقت آئین کے مطابق صدر پاکستان کو یہ صوابدیدی اختیار حاصل تھا کہ وہ اگر سمجھے کہ امور حکومت آئین کے مطابق نہیں چل رہے تو اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا حکم جاری کر دے۔ غلام اسحاق خان نے نوازشریف کے ساتھ وہ کیا جو اس سے پہلے وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کر چکے تھے۔ اس وقت انہیں اپوزیشن لیڈرغلام مصطفی جتوئی اور وزیراعلیٰ پنجاب (نوازشریف) کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ دستور میں 58(2)B داخل تو بھٹو حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی ملک گیر (اور بے نظیر) تحریک کے نتیجے میں کی گئی تھی۔ اس وقت جو بحران پیدا ہوا، حکومت اور اپوزیشن جس طرح آپس میں الجھے۔ انتخابات میں جس طرح منظم دھاندلی کی گئی اوراس کے بعد احتجاج کا سلسلہ جس طرح دراز ہوا اس نے یہ احساس پیدا کیا کہ اگر (1973ء کے آئین کا) صدرمٹی کا مادھو نہ ہوتا اور کوئی صوابدیدی اقدام کرنے کا اختیار اسے حاصل ہوتا تو نوبت مارشل لا تک نہ آتی۔ وہ فیصلہ کن اقدام کرکے جمہوریت کو بچا لیتا۔ اس سوچ کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق کے نافذ کردہ مارشل لاء کے دوران آئین میں ترمیم کرکے صدارتی اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا۔ صدر کو صرف قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار ہی نہ ملا، مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کا حق بھی حاصل ہو گیا۔ صوبوں میں گورنروں کی تعیناتی بھی اس کی منشا کی محتاج ہو گئی۔85ء کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پارلیمنٹ نے بہت ردو قدح کے بعد مارشل لائی ترامیم کے بڑے حصے پر مہر توثیق ثبت کر دی اور دوتہائی اکثریت سے اسے کتاب ِآئین میں داخل کر دیا۔
عام خیال یہ تھا کہ اگر 1977ء کے سے حالات پیدا ہوں گے تو پھر صدارتی اختیار بروئے کار آئے گا، لیکن وزیراعظم محمد خان جونیجو کی اسمبلی کے خلاف جب جنرل ضیاء الحق نے ہتھوڑا چلایا تو(میرے جیسے) اکثر مبصرین کو حیران کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معاملات کو اس حد تک پہنچانے والوں میں چند اخبار نویس بھی شامل تھے اور پیپلزپارٹی کی خاموش تائید بھی (اس اقدام کو) یوں حاصل تھی کہ اسے آئندہ جماعتی بنیاد پر ہونے والے انتخابات میں شرکت کا موقع مل رہا تھا۔ محمد خان جونیجو بے چارے غیر ملکی دورے سے واپس آئے تھے کہ اس افتاد سے پالا پڑ گیا۔ انہوں نے اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا۔ جنرل ضیاء الحق سے باقاعدہ الوداعی ملاقات کرکے خصوصی طیارہ حاصل کیا اور اپنا سامان لاد کر سندھڑی پہنچ گئے۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے انہیں اسلام آباد ایئرپورٹ کا وی آئی پی لائونج استعمال کرنے کی (فراخدلانہ) اجازت بھی دے دی گئی کہ اس سے پہلے سابق ہوتے ہی وزیراعظم کا یہ استحقاق بھی ختم ہو جاتا تھا۔
محمد خان جونیجو کی طرف سے (یا اپنی طرف سے) شاید خواجہ طارق رحیم نے نیم دلی سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جو سپریم کورٹ پہنچی تو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف مرزا اسلم بیگ کی مداخلت کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکی۔ سپریم کورٹ نے جونیجو اسمبلی کی تحلیل کو تو غیر آئینی قرار دے دیا لیکن ان کی حکومت بحال نہ کی کہ اس وقت کی فوجی قیادت محترمہ بے نظیر بھٹو پر مائل بہ کرم تھی اور عام انتخابات کے راستے میں خلل ڈالنا اسے منظور نہیں تھا... بعد میں یہ صدارتی اختیار (وزیراعظم) بے نظیر بھٹو کے خلاف استعمال ہوا۔ نوازشریف اقتدار میں آئے تو ان کے اقتدار کا بھی اسی چھری سے جھٹکا کر دیا گیا۔ وہ براہ راست سپریم کورٹ جا پہنچے۔ دستور کی دفعہ 184کے تحت پہلی بار اس نوعیت کی درخواست دائر کی گئی اور اسے منظور بھی کر لیا گیا۔وزیراعظم نوازشریف چند روز اقتدار سے باہر گزار کر پھر اپنے ایوان میں جا براجے۔ صدر غلام اسحاق سے کشمکش نے پھر ان کو چین سے حکومت نہ کرنے دی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو اس طرح زچ کیا کہ دونوں ایک دوسرے کی قیمت پر اپنا اقتدار قربان کرنے پر تیار ہو گئے۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ کی نگرانی (یا گواہی) میں صدر غلام اسحاق خان نے استعفا دے دیا اور نوازشریف نے نئے انتخابات کے لئے اسمبلی تحلیل کر دی۔ یوں بے نظیر بھٹو کی دوسری ٹرم کا راستہ ہموار ہو گیا۔ نوازشریف کو وزیراعظم ہائوس میں واپسی نصیب نہ ہوئی۔
1997ء میں بے نظیر بھٹو کے اپنے مقرر کردہ صدر سردار فاروق لغاری نے ان کو اقتدار سے محروم کر دیا، نئے انتخابات کے نتیجے میں نوازشریف کو دوتہائی اکثریت حاصل ہوگئی، وزیراعظم ہائوس میں پھر ان کا پرچم لہرانے لگا۔ دستور میں ترمیم کے ذریعے صدر پاکستان کو ایک بار پھر 1973ء کے اصلی آئین کے سانچے میں ڈھال دیا گیا اور اسمبلی تحلیل کا اختیار سلب ہو گیا۔ صدر سے محفوظ ہو کر وزیراعظم اپنے ہی مقرر کردہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کے ہتھے چڑھ گئے۔ انہوں نے وزیراعظم کی اجازت کے بغیر کارگل کی جنگ چھیڑ کر پاکستان اور بھارت کے درمیان تیزی سے بڑھتے ہوئے امن عمل کو سبوتاژ کر دیا تھا۔ بھارت کے جوابی اقدام سے لینے کے دینے پڑ چکے تھے۔ امریکی صدر کو درمیان میں ڈال کر وزیراعظم نوازشریف فوجی مہم جوئوں کی ''چہرہ بچائی‘‘ میں کامیاب ہو گئے، لیکن آرمی چیف سے اعتماد کا رشتہ ختم ہو چکا تھا۔ اسی بداعتمادی نے انہیں چلتا کرنے پر مجبور کیا لیکن فوجی کمانڈروں نے آئینی وزیراعظم کے بجائے اپنے باغی سردار کا ساتھ دیا۔ وزیراعظم کو ہتھکڑیاں، مقدمے اور نتیجتاً جلا وطنی نصیب ہوئی۔
اب سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے وزیراعظم نوازشریف کو لاہور واپس بھجوا دیا ہے۔ ان کے خلاف نیب کے ریفرنسز بھی تیار کئے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔ نظرثانی کی اپیل دائر کی جا چکی ہے لیکن اس کی سماعت شروع نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ انتہائی (یا آخری) عدالت ہے لیکن اس نے ابتدائی عدالت بن کر وزیراعظم کے خلاف اقدام کر ڈالا ہے۔ اس فیصلے پر کئی سوالات اٹھے ہیں،سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ کیا نظرثانی کی درخواست اپیل کا متبادل ہو سکتی ہے؟ اس کا فوری جواب تو نہیں میں ہے، پھر (اپیل کے حق کے بغیر)انصاف کے فطری تقاضے کیسے پورے ہوں گے، شاید اسی کے لئے فل کورٹ کی تشکیل کی درخواست کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں تلور کے شکار پر سپریم کورٹ کے ایک فل بنچ نے پابندی لگائی تو نظرثانی کی درخواست کا برسوں پرانا معمول بدل کر اسے (عملاً) اپیل کے طور پر سنا گیا۔دیکھتے ہیں تلور کا شکار کرنے والے شیر سے کیسے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔ اس کے شکار کا شوق انہیں کہاں کہاں لے جاتا اور کہاں کہاں سے واپس لاتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *