مکڑی کا بوسہ !

وحید اسحاق بٹ

waheed ishaq butt

ہم عموما"  بچوں اور خصوصا" لڑکیوں میں کیڑے مکوڑوں،اور رینگنے والے کیڑوں سے کا خوف پیدا کرتے ہیں جس سے وہ ساری زندگی نہیں نکل پاتے حالانکہ ہمیں علم ہے کہ  سانپوں میں وہ  زہریلی نسل بہت کمیاب ہے  جس کے کاٹنے سے موت واقع ہوجاتی ہے،-خوف اگر ہماری سرشت میں چلا جائے تو کیا گُل کھلاتا ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے-

ایک امریکن دوشیزہ کہیں دور دراز"ونڈر لینڈ"میں تعطیلات گذارنے گئی-خوبصورت ساحلوں کی رنگینیوں میں وہ ایسی کھوئی کہ اسے احساس تک نہ ہوا کہ کب ایک چھوٹی سی مکڑی اس کے سفید مخملیں جسم پر چڑھی اور جسم کے خطوط کے ساتھ ساتھ محرابی اٹھکیلیاں بھرتی رہی - اسی امنگ اور ترنگ میں اچانک مکڑی کا دل چاہا کہ دوشیزہ کے جسم پر بوس و کنار بھی کر لیا جائے- یہ خیال آتے ہی مکڑی نے اس نے اسکے ادھ کھلے سینے پر اپنے نازک سے نشتر چبھو دیے-درد کی شدت اتنی کم تھی کہ دوشیزہ کو احساس تک نہ ہوااور وہ آنکھیں موندے پرسکون اندازمیں پڑی رہی-کچھ  دیر بعد دوشیزہ کی آنکھ کھلی تواسے محسوس ہوا کہ اس کے سینے پر ہلکی ہلکی آنچ سی سلگ رہی ہے - اس نے فورا" اپنی میک کٹ سے آئینہ نکال کر دیکھا تو لگا کہ سینے کو اوپر ہلکا سا سرخ رنگ کا جلنے کا ایک نشان ہے-

تعطیلات ختم ہو گیئں،دوشیزہ واپس وطن لوٹی دوستوں کو اپنےٹرپ کی کہانیاں سنائیں- کچھ روز بعد اdoshس کے  سینے کا نشان نہ صرف بڑا ہو گیا بلکہ ایک گلٹی کی شکل میں ابھر کر سامنے آگیا-اسے  پریشانی ہؤئی۔ڈاکٹر کودکھایا اور معمولی ساآپریشن تجویز ہو گیا--ڈاکٹرز نے تسلی دی کہ آپریشن کے دوران صرف مخصوص متاثرہ حصے کو سن کیا جائے گا اور دوشیزہ اپنے سامنے یہ آپریشن ہوتا دیکھ سکے گی-آپریشن ہوا اور ڈاکٹرز دنگ رہ گئے-اس ابھار میں کوئی پیپ یا خون نہیں تھا بلکہ ابھار کے اندر چھلانگیں مارتی سینکڑوں ننھی منی مکڑیاں مچل رہی تھیں- !!!وہاں موجود ڈاکٹروں اور نرسوں کی چیخیں نکل گیئں -دوشیزہ کی آنکھیں یہ منظر دیکھ کر پھیل گئیں، خوف کا ایک مہیب احساس اس کے دماغ پر حاوی ہوگیا اور وہ کچھ ہی لمحوں میں اس خوف کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئی-"مکڑی کا خوف" اسےھارٹ اسٹروک کر گیا !!!

بعدمیں معلوم ہوا کہ یہ مکڑیاں بے ضررتھیں اور آپریشن کے بعد ان کا کوئی وجود باقی نہیں رہنا تھا، لیکن خوف نے دوشیزہ کی جان لے لی- یہی خوف ہماری زندگیوں کو تباہ کرتا ہے-آئیے اپنے بچوں کو اس خوف سے نکالیں اور انہیں بتائیں کہ سارے کیڑے یا حشرات الارض زہریلے نہیں ہوتے ۔۔۔اور یہ بھی بتائیں کہ زیریلے حشرات الاض سے نمٹنے کا کیا طریقہ ہے اور ان سے کس طرح اپنی حفاظت کی جاسکتی ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *