فوجی ذہنیت رکھنے والے لوگ

Photo-Irfan-Hussain-sb-2

جب میں نے ضیاء دور میں فوجی حکومت کے خلاف نعرہ لگایا تو میرا بیٹا شاکر صرف 8 سال کا تھا ۔ اس نے مجھے روکا اور پوچھا کہ فوج حکومت کیوں نہیں کر سکتی ، آخر فوج کے پاس بندوق ہے۔ میں اس کا سوال سن کر حیران رہ گیا اور اسے جمہوریت اور آزادی پر لیکچر دینے لگا۔ اسے میری بات سمجھ نہیں آئی۔ وہ میری باتیں سن کر اکتا گیا اور پھر کھیلنے چلا گیا۔ 35 سال بعد اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ وہ لیکچر مجھے شاکر کی بجائے مشرف کو دینا چاہیے تھا۔ کچھ دن قبل بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے مشرف نے جمہوریت کے بارے میں کچھ عجیب باتیں کیں  باوجود اس کے کہ وہ 8 سال کے بچے نہیں تھے۔ لیکن سیاست اور سیاستدانوں کے بارے میں ایسی رائے رکھنے والے وہ پہلے شخص نہیں ہیں۔ پوری آرمی میں زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو سویلین سے بر تر سمجھتے ہیں اور ان کے بارے میں حقارت سے گفتگو کرتے ہیں۔ اپنے انٹرویو میں مشرف نے کہا: ڈکٹیٹروں نے ملک کو صحیح راہ پر ڈالا جب کہ جمہوری حکومتوں اور سویلین نے ملک برباد کیا۔ فوجی دور اقتدار میں پاکستان خوشحال ہوا۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا: تمام ایشیائی ممالک میں ترقی ڈکٹیٹروں کی وجہ سے ہوئی۔

کیا واقعی ایسا ہے؟ وہ اپنے مشرقی بارڈر کے پار دیکھ سکتے ہیں کہ بھارت ایک جمہوری حکومت کے تحت کیسے معاشی طور پر مضبوط ہو رہا ہے۔  تھوڑی دور تک نظر دوڑائیں تو میانمار کو دیکھیں جہاں جرنیلوں نے ملک کو دیوالیہ بنا دیا ہے۔ پاکستان میں جو بھی ترقی ہوئی یحیی خان کے دور میں ملک دو لخت ہوا تو وہ ساری محنت برباد ہو گئی۔ ضیاء دور میں ملک میں شدت پسندی میں اضافہ ہوا  اور ہر ڈکٹیٹر کے دور میں جمہوری ادارے تباہ ہوتے گئے۔ مشرف نے 1999 میں اقتدار پر قبضہ کے بارے میں لکھا: اس بغاوت کے پیچھے عوام کا مطالبہ کار فرما تھا۔ میرے لیے یہ ایک بڑی خبر تھی کہ اس عوام نے مشرف کی طیارے میں موجودگی کے دوران کیسے اپنی رائے قائم کر لی۔ سچ یہ ہے کہ اقتدار پر قبضہ اس لیے کیا گیا کیونکہ نواز شریف نے آرمی چیف کی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا تھا اور یہ ایک درست فیصلہ تھا۔  اگر آپ کو بلوچستان کے عوام کے لاپتہ ہونے، ان پر تشدد اور قتل و غارت کے واقعات کے پیچھے کون ہے اس بارے میں کوئی شک ہے تو دیکھیے مشرف صاحب کیا کہتے ہیں: بھارت بلوچستان میں ملوث ہے۔ جو شخص بھی ملک کے خلاف کوئی حرکت کرے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔

اپنی کتاب 'ان دی لائن آف فائر 'میں مشرف نے لکھا ہے کہ انہیں ڈاکٹر قدیر کی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو کی سرگرمیوں کا علم نہیں ہے۔ ایک خفیہ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق  پاکستان کو نارتھ کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں مدد کا راز ظاہر ہونے پر بہت تشویش ہوئی۔ یہ مان لینا کہ آرمی کو جو سکیورٹی اور ایٹمی اثاثوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہے، عبدالقدیر خان  کی لیبیا، ایران اور نارتھ کوریا  سے ہتھیار وں کی معلومات کے تبادلہ کی حرکت کا علم نہیں تھا ایسا ہے جیسے یہ مان لینا کہ بچوں کی پیدائش پرندوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر اس طرح کے نظریات محض ایک جنرل  تک محدود ہوتے تو شاید ہم کندھے اچکا کر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو اچھی صحت کی دعا دے کر اپنا راستہ لیتے۔ لیکن یہ صرف ایک شخص تک محدود نہیں ہے۔ کچھ نوجوان فوجی جوان بھی ایسا مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں کہ سویلین کو فوج کے سامنے محکوم بنے رہنا چاہیے۔ کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک پولیس افسر کو فوجی گاڑی روکنے پر پیٹا گیا ہے۔ یہ سب کہنے کے بعد یہ چیز واضح ہو جاتی ہے کہ سیاستدان اور بیوروکریٹس بھی آرمی کو اقتدار پر قبضہ کرنے کےلیے اکساتے ہیں۔ پچھلے کئی سال میں بہت سے سیاستدانوں نے  اقتدار کے نشے میں فوج کے ساتھ اتحاد کیے رکھا  اور اس طرح آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ مشرف صاحب خود فرماتے ہیں: ہم آئین کو بچانے کےلیے ملک کو تباہ نہیں کر سکتے۔ عوام کو بچانے کےلیے آئین کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

 سپریم کورٹ نے ہمیشہ ملٹری بغاوت کو کندھا دیا ہے۔ اگر جمہوری انتخابی عمل میں فوج نے مداخلت کی جیسا کہ اصغر خان کیس سے ظاہر ہے تب بھی مجرموں کے خلاف سپریم کورٹ کی طرف سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ دوسری طرف جب کسی جمہوری حکومت پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو سپریم کورٹ مداخلت کرنے میں بلکل وقت نہیں لگاتی۔ میڈیا میں بھی بہت سے چہرے ایسے ہیں جو جمہوری طرز پر قائم ہونے والی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہیں اور باوردی ہاتھی کو روم میں دیکھ کر بھی انہیں کوئی خوف نہیں آتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کیچڑ جرنیلوں پر نہیں گرتا  اور سیاستدانوں پر عجیب قسم کے بے بنیاد الزام لگا دیے جاتے ہیں۔ چونکہ ہر طبقہ کی توپیں سیاستدانوں کی طرف مڑی رہتی ہیں اس لیے سادہ لوح عوام بھی سیاستدانوں کو نا اہل اور گناہ گار سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف فوج کے سارے گناہ خود ہی دھل جاتے ہیں۔ لیکن جب کسی ڈکٹیٹر کو حکومت سے باہر کیا جاتا ہے تووہ  ملک زیادہ بری حالت میں چھوڑ کے جاتا ہے۔ اب شاکر بڑا ہو گیا ہے تو اسے اندازہ ہے کہ ملٹری رول کے کیا نقائص ہوتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ ملٹری کے دوسرے لوگ بھی اس کی طرح عقل مندی کی سوچ اختیار کریں۔

ریکارڈ کےلیے بتاتا چلوں کہ میں ایک دو بار مشرف کے گھر کھانے کے دعوت پر مدعو  ہونے کا تجربہ رکھتا ہوں اور مشرف ایک بہت اچھے میزبان ہیں۔اس کے علاوہ میرے پاس ان کے بارے میں اچھا کہنے کےلیے کچھ نہیں ہے۔


courtesy:https://www.dawn.com/news/1352421

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *