ہندو چڑیل کا خواب

محمد اقبال قریشی

muhammad iqbal qureshi

1971 کی جنگ میں پاکستان کی شکست کے بعد اندرا گاندھی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت نے دو قومی نظریے کو سمندر برد کر دیاہے۔ آئیے دیکھتے ہیں ، اس ہندو چڑیل نے یہ خواب کیسے پایہ تکمیل تک پہنچایا اور اس میں نادانستہ ہماری کتنی شمولیت رہی ۔
عام طور پر 1970کے انتخابات کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن اصل میں ایسا نہیں ۔ 12نومبر 1970کو مشرقی پاکستان، بھارت ، مغربی بنگال میں انتہائی شدید نوعیت کا سیلاب آیا جس میں پانچ لاکھ اموات ہوئیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ۔ متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے پوری دنیا میں ایک مہم چلی۔ پاک فوج نے امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، تاہم مشرقی پاکستان میں اکثریتی جماعت نے امدادی کارروائیوں کو انتخابی مقاصد کے لئے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا۔ مشرقی پاکستان سے انتخابی امیدوار اپنے بیانات میں جہاں جہاں امدادی کارروائیوں کا ذکر کرتے ، وہیں پاک فوج کی انتھک کاوشوں کو نظر انداز کرجاتے ۔ مقصد مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی جماعتوں سے ووٹرز کا رجوع توڑنا تھا۔ دنیا بھر سے آنے والی امداداور اس کی تقسیم اور متاثرین سیلاب کے لئے جگہ جگہ ریلیف کیمپ قائم ہوئے۔ان امدادی کیمپس میں بھارتی ایجنسی ’را‘ کو زیادہ کھل کرکھیلنے کا موقع ملا۔ امدادی سرگرمیوں میں رفتہ رفتہ کمی آنے کے بعد مشرقی پاکستان میں جگہ جگہ قائم یہی کیمپ بعدازاں ’’مکتی باہنی‘‘کے بیس کیمپ بنے۔

Image result for indira gandhiانتخاب کے نتیجے میں عوامی لیگ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ، اس کا موقف تھا کہ چونکہ سب سے زیادہ نشستیں اس کے پاس ہیں، لہٰذا اسے حکومت سازی کی دعوت دی جائے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ اس کی شمولیت کے بغیر حکومت نہیں بنائی جاسکتی ، لہٰذا حکومت کا حق اسے حاصل ہے۔ اصولی طور پر اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ کو فیصلہ دینا تھا، مگر فیصلے میں تاخیر کے باعث، حالات بالخصوص مشرقی پاکستان میں، خراب ہوتے چلے گئے۔ دوسری جانب مشرقی پاکستان میں بھارتی خفیہ ادارے را ا ور بی ایس ایف کی کھلی مداخلت کے باعث مغربی پاکستان خصوصاً حکومت اور اس کے اداروں کے خلاف نفرت کی فضا بنائی جاچکی تھی۔ عام انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی میں تاخیر خالصتاً پاکستان کا اندرونی معاملہ تھا لیکن بھارت نے اس میں کھلی مداخلت کی۔ 1970کے انتخابات کے بعد حالات اس نہج تک پہنچ چکے تھے کہ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کے لئے اکیلے باہر نکلنا مشکل ہو چکا تھا۔ سیاسی عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے را ا ور بی ایس ایف نے ان باغیوں کی تربیت شروع کردی تھی، جنہوں نے بعدازاں پاک فوج کی وردیاں پہن کر عوامی مقامات پر حملے کئے۔ اس انتہائی خطرناک صورت حال میں شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹونے معاملات کو حل کی جانب لے جانے کی کوشش کرنے کے بجائے فقط اقتدار کی جنگ کو ہی ملحوظ خاطررکھا۔
جب مکتی باہنی بھارت کی مدد کے باوجود بھی پاکستانی فوج کے مقابلے میں کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکی تو 21نومبر 1971ء کو بھارت نے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کرکے پوری قوت کے ساتھ حملہ کردیا۔ 22نومبر کو اندرا گاندھی نے جب اپنی فوج کو مشرقی پاکستان پر علی الاعلان حملہ کرنے کا حکم دیا تو اس وقت بھی وہ کلکتہ میں تھیں۔ حملہ آور بھارتی فوج کی تعداد پانچ لاکھ تھی۔ پاک فوج سے بھاگے ہوئے بنگالی جوان، افسر اور مکتی باہنی کے دستے اس کے علاوہ تھے۔ پاک فوج کے مقابلے میں دشمن کی طاقت سات گنازیادہ تھی۔سب سے بڑھ کر منفی پروپیگنڈے کے باعث مقامی آبادی کی مدد پاک فوج کو کم حاصل تھی۔ چنانچہ 16دسمبر 1971کو پاک فوج کو ڈھاکہ ریس کورس میں ہتھیار ڈالنے پڑے۔Related image

جنرل نیازی نے جنرل اروڑا سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈالے، اپنا سروس ریوالور جنرل اروڑا کے سپرد کیا۔ ہتھیار ڈالے جانے کی دستاویز پر جنرل نیازی اور جنرل اروڑا کے دستخط تھے اور پاکستانی فوجیوں کو بھارتی سرزمین پر لے جا کر قیدی بنایا گیا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت بھارت کی بالادستی کی جنگ تھی جو اس نے پاکستان سے ناراض بنگالیوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر لڑی تھی۔ اندرا گاندھی کا خیال تھا کہ مشرق پاکستان پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت کی جھولی میں آگرے گا لیکن ایسا نہ ہوا اور مشرقی پاکستان کے لوگوں نے بھارت میں شامل ہونے کے بجائے بنگلہ دیش بنانا پسند کیا۔مکتی باہنی کے میجر ضیا الرحمان جب بنگلہ دیش کے صدر بنے تو وہ بھارت کے بجائے پاکستان کے زیادہ قریب تھے۔ان کی بیوہ بیگم خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی اور ان کی اتحادی جماعت اسلامی کو پاکستان کا دوست سمجھا جاتا ہے جس پر بھارت میں یہ کہا جانے لگا کہ اندرا گاندھی نے ایک پاکستان کو ختم کرنے کی کوشش میں دو پاکستان بنا دیئے ہیں۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آج بھی بنگالی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ تحریک پاکستان کا آغاز بنگال سے ہوا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *