کوک سٹوڈیو والو، قومی ترانہ مت بگاڑو

خضر منیر

فیس بک ایسا دوست ہے جس سے آپ کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں لیکن جب یہ فیصلہ کر لے کہ کسی چیز کو شئیر کرنا ہے تو بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ میں کوک سٹوڈیو کے گائے گئے قومی ترانے کو ایک عرصہ سے نظر انداز کر رہا تھا۔اس لیے نہیں کے قومی ترانہ مجھے پسند نہیں، بلکہ اس لیے کہ اس کی شہرت اچھی نہیں تھی۔ ۔ کسی کو بھی نیا ترانا پسند نہیں۔یہ بات مجھے الجھا رہی ہے۔ایک طرف،مجھے نئے ریمکس اور گانوں کو نئے انداز میں ڈھالا جانا بہت پسند ہے۔ جیسے کہ مجھےعاطف اسلم کا 'تاجدار حرم ' بہت پسند تھا۔

اگر آپ گوگل استعمال نہیں کر سکتے تو ایک چھوٹی سی تاریخ میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔ قومی ترانا سالوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس ترانے کی موسیقی احمد غلام علی نے 1949 میں بنائی اور الفاظ حفیظ جالندھری نے 1952 میں لکھے۔ سرکاری طور پر اسے 1954 میں قومی ترانے کے طور پر منظور کیا گیا اور اسی سال گیارہ بڑے موسیقاروں نے اسے گایا جن میں اختر عباس،اختر وصی علی،نجم آرا ،رشید ا بیگم ،غلام دستگیر،زوارحسین، کوکب جہاں، احمد رشدی، نسیمہ شاہین اور انور زہیر شامل ہے۔ قومی ترانہ بنانے میں 21 اوزار اور 38 دھنیں استعمال ہوئیں ۔

اب قومی ترانہ ہر کسی کے لیے ایک ذاتی معاملہ بن چکا ہے۔ اس کے اندر یہ خاصیت ہے کہ یہ آپ کو روک کے ہم آواز گنگنانے پر مجبور کرتا ہے۔اس کے شروع ہونے سے اس کی آخری مدھم دھن تک دل کی دھڑکن اس کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔ اس خوبصورت دھن سے فخر محسوس ہوتا ہے کہ یہ فارسی میں ہماری نمائندگی کرتی ہے، اور اس سر زمین کے بارے میں بتاتی ہے جو بھائی چارے،جلال، اور امنگوں سے بھری ہوئی ہے ۔ یہ بہت خوبصورت ہے۔ تو الجھن کو ایک طرف رکھتے ہوئے، میں نے کوک سٹوڈیو کا گایا ہوا ترانا سنا تاکہ میں فیس بک پر یہ بتا سکوں کی نئی دھن اتنی بری بھی نہیں ۔ پر ایسا نہیں ہوا۔ مجھے کچھ سجھائی نہیں دیا۔

میرے لیے قومی ترانہ اپنی اصل دھن میں اور موسیقی میں بہترین ہے۔ نہ تو یہ بہت انچی دھن میں ہے، نہ جوشیلا،نہ بہت شدت سے بھرا۔ یہ بلکل ٹھیک ہے۔ لیکن کوک سٹوڈیو میں اس سال ہمارے تمام موسیقاروں نے جو مل کر قومی ترانہ گایا اسے سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کسی پریشان اور ڈیپریشن کے شکار شخص نے گایا ہو۔ سننے والا بھی ان کی وجہ سے غمگین ہو جاتا ہے۔

ہر جدت پسند کی طرح میں بھی یہ ترانہ سن کر غمگین کا ہو گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ موسیقاروں نے اس کے ذریعے جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ دلوں کے تاروں کو ٹچ کرنے کی کوشش کی ہے اور لوگوں کو رلانے پر توجہ دی ہے۔

ترانہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے نہیں ہوئے،بلکہ مجھے ایک پل کے لیے پریشانی ہوئی کہ کیوں ایسا قومی ترانہ نہیں گا سکتے جو زندگی سے بڑا ہو، ۔ خدا جانتا ہے کی ہمیں زیادہ جوش و جذبے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی اچھا سنگر اس ترانے کو اس طرح گا سکے کہ سننے والا دل ہی دل میں پاکستانی جھنڈے کو سلیوٹ کرے اور اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو جائے۔ اس ترانے کو گانے والوں میں شفقت امانت علی، سجاد علی، قرۃ العین بلوچ ، علی حمزہ، راحت فتح علی خان، علی نور، نبیل شوکت اور علی ظفر موجود ہیں۔مجھے حیرانگی ہے کہ اس درجہ ٹیلنٹ رکھنے والے لوگ مل کر ایسا کیوں نہیں گا سکتے کہ سارے ریکارڈ ٹوٹ جائیں۔ یہ بہت ہی صلاحیت کے مالک موسیقار ہیں۔ ان کی آواز میں جادو ہے۔ لیکن ان کو ہم نے قومی ترانے پر ماتم کے سٹائل میں گانے پر چھوڑ دیا ہے؟

ہو سکتا ہے میں زیادہ جذباتی ہو رہا ہوں۔ہو سکتا ہے میں غلط ہوں۔شاید میں انہی لوگوں جیسا بن گیا جن سے میں کھلا زہن رکھنے پر بحث کرتا تھا۔ لیکن کوک سٹوڈیو کے اس ٹریک کو سن کر میں یہ اپیل کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ اپنا فارمولا بدلیں اور ۔ قومی ترانے کی اصل دھن اور موسیقی پر نئے تجربے کرنے سے گریز کریں۔


courtesy:http://aurora.dawn.com/news/1142227/dont-mess-with-my-national-anthem

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *