میں بہت اچھی گالیاں نکال سکتی ہوں

فائزہ رشید

college

لوگ سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں گالیاں نہیں نکال سکتیں، غلط۔۔۔۔نکال سکتی ہیں لیکن نکالتی نہیں- میں نے جب سے پی ٹی آئی کے خلاف کچھ حقیقتیں بیان کرنا شروع کیں تو میری تحریر کے نیچے اور ان باکس میں ایسی ایسی غلیظ گالیاں دی گئیں کہ بیان سے باہر ہیں- میں چاہتی تو ان سے کہیں زیادہ اچھی گالیاں دے سکتی تھی، گالیاں مجھے بہت اچھی طرح آتی ہیں- لیکن پھر یہ سوچ کر چپ کر گئی کہ جو بے غیرت لوگ ایک لڑکی کو گالی دے سکتے ہیں وہ اپنے گھر کی خواتین کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہوں گے- میں نے بہت سے ایسے لوگوں کے سٹیٹس پڑھے ہیں جن کی پروفائل میں جاکر دیکھیں تو وہ ڈاکٹر ، انجینئر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ نکلتے ہیں لیکن ان کے سٹیٹس پر ایسی ایسی بازاری زبان استعمال ہورہی ہوتی ہے کہ لگتا ہے ہیرا منڈی میں تعلیم حاصل کی ہے- پچھلے دنوں ایف سی کالج لاہور کے ایک اردو کے پروفیسر ڈاکٹر صاحب کا سٹیٹس پڑھا تو یقین نہیں آیا، موصوف نے ن لیگ سے نفرت کا اظہار کچھ یوں کیاکہ "کوئی بتائے کہ کیا وزیراطلاعات بننے کے لیے منہ پر کتا باندھنا ضروری ہے؟"یاد رہے کہ بدقسمتی سے میں بھی مذکورہ پروفیسر کی شاگردہ رہ چکی ہوں

koi

یہ جملہ سن کر مجھے ایک دھچکا سا لگا، یہ بات مہذب زبان میں بھی ہوسکتی تھی لیکن کیا کوئی پڑھا لکھا، پروفیسر، ڈاکٹر، بچوں کو ادب کی تعلیم دینے والا ایسا جملہ بول سکتا ہے؟ اور اگر بول سکتا ہے تو اس کے جواب میں کوئی میرے جیسی یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ  "کیا  جیسے استاد کے منہ میں خنزیر کی زبان ہونا ضروری ہے؟"تم ایک استاد ہو، تمہاری کلاس میں جو لڑکے لڑکیاں پڑھتے ہیں ان میں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، ن لیگ،جماعت اسلامی، ہر پارٹی کو کوئی نہ کوئی پسند کرنے والا ہوگا- تم انہیں کیا میسج دے رہے ہو؟ کیا تم پی ٹی آئی کے ترجمان ہو؟ ایف سی کالج کی انتظامیہ تمہارے خلاف کیوں نہیں ایکشن لیتی؟تم کیسے استاد ہو کہ دعویٰ ادیب ہونے کا اور زبان بازاری-کیا کسی سیاسی پارٹی سے مخالفت کا مطلب ایسی دشنام طرازی ہے؟ تم تو وہ پاکستان بنانا چاہتے ہو جہاں ہر مخالف کی ماں۔۔۔۔۔۔۔کے رکھ دی جائے-سیاست کا اتنا شوق ہے تو پروفیسری چھوڑو اور الیکشن لڑو، جو کام تم کر رہے ہو اس کے تم لائق نہیں، جو نسل تمہارے ہاتھوں تیار ہورہی ہے وہ مستقبل میں کیا گل کھلائے گی کچھ اندازہ ہے تمہیں؟ اور ہاں یہ جو لوگ مجھے ان باکس میں گالیاں دے رہے ہیں ان سے بھی اب میں نمٹوں گی، میں ان کی عورتوں کو نہیں ان کے مردوں کو گالیاں دوں گی، آپ نے کبھیا مردوں والی گالیاں نہیں سنی ہوں گی، لیکن مجھے آتی ہیں اور ایسی آتی ہیں کہ جس کو گالی دوں گی وہ تین دن تک ٹکور کرتا رہے گا- بہت ہوچکا، پی ٹی آئی والوں نے عمران خان کی شکل میں جو الطاف حسین بنایا ہوا ہے اس بت کو توڑنا ہوگا- اور ابتداہوچکی- آئیے بسم اللہ کیجئے !


اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *