کیا جج صاحبان نظر ثانی کی اپیل کے اہل ہیں؟

syed arif mustafa

بات سخت مشکل تویقینناً ہے مگرسمجھنا آسان بھی بہت ہے ، کیونکہ یہ سارے کھیل کو کسی اور رنگ میں دکھاتی ہے ۔۔۔۔ یہ پہلے بلند آہنگ لہجے میں عمران خان نے کہی تھی اور پھر شیخ رشید نےاپنے خاص ڈھب سے دہرائی تھی۔۔۔۔ دوٹوک انداز میں برسرعام ۔۔۔۔ اور وہ بھی ایک بڑے عوامی جلسے میں۔۔۔۔کہ پاناما کیس کے فیصلے کو اپنے حق میں کرانے کے لیئے نواز شریف کی جانب سے ججوں کو دس ارب روپے رشوت کی پیشکش کی تھی ۔۔۔۔بعد میں اس تہمت میں شدید سنگینی پیدا کرنے کے لیئے مزید وضاحت یہ کی گئی تھی کہ ٹوٹل دس ارب نہیں بلکہ ہر جج کو دس دس ارب فی کس ، گویا مجموعی طور پہ 50 ارب روپے رشوت کی ترغیب دی گئی - یہ بات چونکہ اپنے اندر چونکا دینے کا بہت سامان رکھتی تھی لہٰذا اس حیرت انگیز بلکہ نفرت انگیز انکشاف پہ مجمع سے بہت سی تالیوں کا خراج کیوں نہ ملتا جو کہ بھرپور انداز میں ہاتھ کے ہاتھ ملا ۔۔ میری خواہش ہے کہ خدا کرے کہ یہ بات غلط ہو اور اسکا مقصد محض عوامی توجہ حاصل کرنا ہی ہو ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ بات محض عوام کی تالی بجنے اور جلسہ کامیاب ہوجانے پہ ختم نہیں ہوگئی بلکہ اس سنگین الزام سے ایک بہت خوفناک معاملے نے جنم لے لیا جو کہ سراسر قانونی نوعیت کا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس الزام کے کھلم کھلا عائد کیئے جانے سے اس بنچ کے فاضل ججوں کو بھی خود بخود فریق معاملہ بنالیا گیا ہے کیونکہ انکے لیئے واضح طور پہ یہ کہا گیا ہے کہ انہیں‌ سابق وزیراعظم نے خطیر رشوت کی یہ پیشکش کی تھی-اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی طرح یہ الزام معمولی نہیں کیونکہ اب اگر متعلقہ جج صاحبان وضاحت نہیں کرتے اور خاموش رہتے ہیں تو اسے محض ان کی غیر جانبدار رہنے کی کسی باوقار کوشش کے ہم معنی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس موقع پہ انکا ایسا طرز عمل صریحاً الزام لگانے والے کی تائید کے مترادف ہوگا اور اس الزام کے غلط ہونے کی صورت میں توان کی یہ خاموشی قانونی عتبار سے دوسرے فریق کے ساتھ کھلی زیادتی ہی نہیں بلکہ واضح جانبداری اور جرم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوگی ۔۔۔۔ اور۔۔۔۔اور مجھے کہنے دیجیئے کہ اس معاملے میں ایسا ہی ہوا ہے- دن کی روشنی میں لگائے جانے والے اس الزام میں چونکہ ججوں کو بھی گھسیٹ لیا گیا تھا لہذا انکی جانب سے اس دعوے کی فورا" تردید نہ کیئے جانے نے اسے انکی تصدیق کی سند عطا کردی ہے اور یوں انکی غیرجانبداری کی آڑ ہی دراصل جانبداری کے مثل بن گئی ہے-
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ معزز جج حضرات اب بھی اسی شدید عدم توازن کا شکار دکھائی دیتے ہیں کہ جیسے پہلے ہوئے تھے یعنی انہیں جہاں چپ رہنا تھا وہاں بول پڑے اور جہاں بولنا لازم تھا، وہاں چپ رہنے کو ترجیح دے بیٹھے ۔۔۔ اس ُمدعے کو لے کر جب تک کسی باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز نہ ہوجائے تب تک یہ کہنے والے کی زبان ہرگز نہیں پکڑی جاسکتی کہ اس طرح کے 'گریز' سے معزز ججوں نے واضح طور پہ الزام لگانے والے کا ساتھ دیا ہےاور ( خواہی نخواہی ) خود کو مدعی کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ایک جانبدار فریق بنا ڈالا ہے اور فریق دوم کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یوں وہ احتیاط کے نام پہ اپنے اس غیرمحتاط طرز عمل کے باعث اسی متاثرہ فریق کی فریاد کا جائزہ لینے اور داد رسی کے اہل نہیں رہے ۔۔۔

اس عاجز کی دانست میں اس معاملے کو یوں بھی جانچنے کی ضرورت ہے کہ اس اہم الزامی معاملے کو اب صرف سمجھنے اور نہ سمجھنے کی حد تک نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی صرف کہنے والے کی نیت پہ چھوڑا جاسکتا ہے کیونکہ یہ معاملہ قانونی و اخلاقی ہر دو اثرات کا ہے اور اب کوئی اپنے کہے سے بھاگنا یا پیچھے ہٹنا بھی چاہے تو کسی صورت ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ حسب محاورہ یہ بات منہ سے نکلی اور پرائی بھی ہوئی اور وہ بھی اتنی اہم اور سنگین بات ۔۔۔۔ تو اسے نظرانداز کردینا اب کسی طور ممکن ہی نہیں رہا اور یہ الزامی معاملہ سراسر قانونی بن گیا ہے -یہ بات اس تناظر میں اور بھی بہت اہمیت کی حامل ہے اوراس میں کوئی شک نہیں کہ پاناما کیس میں کئی مواقع پر سپریم کورٹ کے متعلقہ جج صاحبان کا طرز عمل احتیاط اور تدبر کے تقاضوں کے مطابق نہیں رہا ورنہ انکی جانب سے دوران سماعت گاڈ فادر اور سسیلین مافیا جیسے افسوسناک ریمارکس اگر درست بھی ہوتے تب بھی یوں دھڑلے سے لبوں پہ نہ آتےاور اس غیر محتاط طرز ادا کا نتیجہ یہ نکلا کے ایک بڑے حلقے نے اس سے بہت منفی تاثر لیا اور یہ سوچ سامنے آئی کہ معزز جج صاحبان فیصلے کے بارے میں اپنا ذہن پہلے ہی بنا چکے ہیں ۔۔

بدقسمتی سے بعد میں بنچ کی طرف سے دیئے گئے حتمی فیصلے نے اس تاثر کو بالکل پختہ کرنے میں بڑی مدد دی کیونکہ فاضل بنچ نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی کے سامنے رکھے گئے اور خوداپنے ہی تشکیل کردہ 13 سوالات کو بالکل بنیاد نہیں بنایا ، بلکہ ایک ایسے نحیف سے نکتے کو اٹھایا گیا کہ جس کی اساس ایک غیرملکی ڈکشنری کی تشریح پہ منحصر ہےاور جس کے لیئے ملکی قانون سے روگردانی کی گئی اور اس میں موجود ایک دیرینہ مستعمل اور موثر ریفرنس یعنی انکم ٹیکس آرڈیننس کو برسر عمل ہوتے ہوئے بھی قطعی نظرانداز کردیا گیا گویا زبان غیر سے شرح آرزوکا کام لیا گیا اورکوئی اگر یہ کہے کہ اس باب میں ایک غیرملکی لغت بلیک لا ڈکشنری کا استعمال اوردورازکار نتائج کی کشید "مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو " جیسی باریک بیں تحقیق کی داد پانے کی مستحق ہے تو ہرگزبے جا نہ ہوگا اور اس پہ یقینناً وہ فاضل جج اپنے قول کے پکے ثابت ہوئے ہیں کہ جنہوں نے فرمایا تھا کہ " ایسا فیصلہ دیا جائے گا کہ اسے برسوں تک یاد رکھا جائے گا "- لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فیصلہ آتے ہی یہ پہلو بھی تو سامنے آگیا کہ اب عرصے تک یہ ناخوشگوار بات بھی تو یاد رکھی جائیگی کہ اس فاضل بنچ کو ایسی بھی کیا جلدی پڑی تھی کہ کام کی پیچیدگی اور طوالت کے ٹھوس امکانات سامنے آنے کے بعد بھی جے آئی ٹی کو تحقیقات کے لیئے دیئے گئے دو ماہ کے قلیل وقت کو بڑھانے سے یکسر انکار کردیا گیا ۔۔۔ ورنہ کیا حرج تھا کہ جو اگر جےآئی ٹی کے معینہ وقت کو مزید بڑھالیا جاتا تو شاید جے آئی ٹی کو پیش کردہ تیرہ سوالات میں سے کچھ کا جواب مل پاتا اور 'جہاں‌چاہ وہاں راہ' کے مصداق پاناما کیس کی منی ٹریل تک بھی پہنچنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکل ہی آتی اور اس کیس کے فیصلے پہ کسی معقول اعتراض کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی -

لیکن بات صاف ہے ، اس کیس میں ناقابل فہم غیر ضروری عجلت کے مظاہرے اور متعدد مواقع پہ ججوں کی نامناسب ریمارکس بازی نے اس کیس کے شفاف طریقے سے فیصل ہونے کی توقع کو پہلے سے ہی بہت دھندلا دیا تھا لیکن اب جبکہ عمران خان اور شیخ رشید نے بڑھ چڑھ کے یہ الزام لگادیا ہے کہ ججوں کو رشوت کی پیشکش کی گئی تھی تو ایسے موقع پہ ججوں کی یہ خاموشی قطعی نامطلوب ہے اور بالواسطہ طور پہ ان دونوں حضرات کے دعوے کی تصدیق کے سوا اور کچھ نہیں اور یوں یہ حضرات اس افسوسناک طرز عمل سے خود کو جانبدار بنا بیٹھے ہیں ۔۔۔ بلاشبہ انہیں چاہیئے تھا کہ ان دونوں حضرات کو اس آتشین و الزامی تقریر کے بعد فوراً عدالت میں طلب کرتے اور انکے خلاف جھوٹ بولنے اور انکے کردار کو مشتبہ بنانے کے جرم پہ انکے خلاف کارروائی شروع کردیتے کیونکہ لاریب اگر انہیں رشوت کی پیشکش کی گئی ہوتی تو قانونی تقاضوں کے بموجب، یہ معزز جج حضرات اس مکروہ پیشکش کے خلاف از خود فوری سخت کارروائی عمل میں کیوں نہ لے آتے کیونکہ ایسی کسی ناجائز پیشکش تو خود ایک جرم ہے کہ جس پہ ان منصفوں‌ کی جانب سے فوری قانونی کارروائی ازبس ناگزیر تھی کیونکہ ان دونوں سیاسی گرو حضرات کے اس الزام سے تو یہ ظاہر ہورہا ہے کہ جیسے یہ معززجج صاحبان ان دونوں افراد کے رابطے میں تھے اور اندر کی باتوں کو ان سے شیئر کرتے تھے ۔۔۔ اور باالفاظ دیگر خدانخواستہ ایک ہی پیج پہ تھے-

گویا یوں باور کیا جاسکتا ہے کہ اس گھناؤنے الزام کی جتنی زد نواز شریف پہ پڑتی ہے اتتنی ہی اس معزز بینچ پہ بھی ۔۔۔۔دونوں کے دامن داغدار ہوتے ہیں ۔۔۔۔ اور یہ وہ خوفناک بات ہے کہ جسکا صاف کیا جانا بہت ضروری ہے وگرنہ شفافیت کے سب کے سب دعوے ہوا ہی میں اڑ جائیں‌ گے اور بنچ کا یہ فیصلہ قطعی مشتبہ ہوجائے گا ۔۔۔ میری دانست میں چونکہ عمران اور شیخ رشید کو بروقت عدالت میں طلب نہ کرکے معززجج صاحبان خود کو مشتبہ بنا چکے ہیں اور بہتوں کا اعتبار کھو چکے ہیں چنانچہ عین انصاف کا تقاضا ہے کہ اب وہ کم ازکم اس بنچ سے از خود علیحٰدہ ہوجائیں کہ جو اس کیس کے فیصلہ پہ کی گئی نظر ثانی کی اپیل کا جائزہ لے گی اور کوئی دوسری بنچ اس کیس کی سماعت کرے ورنہ اس ہی بنچ کی جانب سے نظرثانی کی اپیل سننا اور اپنے ہی فیصلے
کا جائزہ لینا ایک بیحد نامناسب اور نہایت غیر منصفانہ بات ہوگی-

arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *