حکومت کےلیے مسائل پیدا کرنے والی آئینی شقیں

ٰڈاکٹر نیاز مرتضی

Dr niaz murtaza

نواز شریف کی نا اہلی کے بعد آرٹیکلر 62 اور آرٹیکل 63 کو 58 بی 2 قرار دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے ڈیپ سٹیٹ منتخب حکومت کو کسی بھی وقت بر طرف کر سکتی ہے۔ عدالت نے بہت سخت فیصلہ دیا ہے۔ ایک دہ تہائی اکثریت سے منتخب وزیر اعظم کو کسی ٹرائل کے بغیر محض ایک عام سی قابل وصول رقم اثاثوں میں شامل نہ کرنے پر نا اہل قرار دیا گیا۔ سر عام قتل عام کرنے والے دہشت گردوں کو بھی اپیل اور ٹرائل کا حق دیا جاتا ہے۔ نواز شریف نے غلطی کی ہے لیکن انہیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے تھی۔ میں نواز شریف کی خاطر اس فیصلے کی مخالفت نہیں کر رہا۔

اس فیصلے نے ان کو وزارت عظمی سے ہٹانے کے عمل میں سرعت پیدا کی۔ لیکن اس سے عدالت کی ساکھ بھی متاثر ہوئی اور مستقبل میں آنے والے وزرا ئے اعظم کے لیے خطرے کی گھنٹی کی شکل اختیار کر لی۔ ابھی تک میرے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس کی بنا پر میں کہہ سکوں کہ نا اہلی کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر دیا گیا ہے۔ لیکن اتنی آسانی سے وزیر اعظم کو ہٹا دینا ایک عام انسان کے لیے بھی ناقابل سمجھ ہے۔ اس لیے اس گیت کو فوری طور پر پُر کرنا لازمی ہے اگرچہ آرٹیکل 58 اور 62 میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

آرٹیکل 58 کے تحت اسٹیبلشمنٹ صدر اور عدلیہ کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ کو تحلیل کر سکتی ہے۔ اس طرح یہ انٹرم سیٹ اپ قائم کر کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے ناپسندیدہ وزرائے اعظموں سے چھٹکارا دلا سکتی ہے۔ نواز شریف کی نا اہلی کا معاملہ مشکوک ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی حکومت بچ گئی ہے۔ البتہ فیصلے سے ان کی پارٹی کی حکومت غیر مستحکم ہو سکتی ہے اور اگر نواز شریف کو نیب کیسز میں جیل بھیج دیا گیا تو اگلے الیکشن پر اس کا گہر ااثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن نیب کے کیسز میں نواز شریف کو سزا دینے کے لیے بڑے اور زیادہ مضبوط ثبوت درکار ہوں گے۔

اگرچہ ابھی بھی ممکن ہے کہ نواز شریف کو سزا دی جائے لیکن انہیں جیل بھیجنے کا معاملہ اتنا سنجیدہ اس لیے نہیں ہے کہ صدر کے پاس اختیار ہے کہ وہ انہیں معاف کر دیں۔ زندگی بھر کی نا اہلی اور نیب کی سز ا نواز شریف کی قانونی مشکلات کا خاتمہ کر کے انہیں مزید بہادر بنا سکتی ہیں۔ اور ایجنسیوں کے لیے بھی ممکن نہیں ہو گا کہ وہ پہلے کی طرح الیکشن میں دھاندلی کروائیں اور اپنی پسند کے جج لگوائیں۔ اگرچہ اسلام آباد میں عدلیہ کی آزادی واضح ہے لیکن اس کو مزید واضح کرنے کےلیے مشرف کے کیس کو فاسٹ ٹریک کرنا ہو گا اور ملٹری کورٹس کو فوری ختم کرنا ہو گا۔

یہ ایسے معاملات ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کی مشکلات کو بڑھانے کی علامت ہیں جو انہیں منتخب وزرائے اعظموں کو ہٹانے میں پیش آ سکتی ہیں۔ اس کے باوجود ایک مضبوط وزیر اعظم کو اس قدر آسانی سے ٹرائل کے بغیر بر طرف کر دینا ملکی استحکام کے لیے خطرناک ہے۔ سیاست دانوں کو چاہیے کہ ا س گیپ کو فوری طور پر فل کریں۔ لیکن اصل معاملہ آرٹیکل 62 اور 63 کی غیر واضح شقیں نہیں ہیں۔ وہ عام اور غیر مجرمانہ معاملات کو بھی خوفناک شکل دیتے ہیں اس لیے انہیں بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیشہ قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے پارلیمنٹ ممبران کو اخلاقی شکایات پر برطرف نہیں کی جاتا بلکہ قانونی جرائم جیسا کہ دھوکہ دہی جیسے کاموں پر نا اہل قرار دیا جاتا ہے۔ نواز شریف کو بھی آرٹیکل 62/63 کے تحت نہیں بلکہ آرپی اے قوانین کے مطابق اثاثے ڈیکلئر نہ کرنے پر نا اہل کیا گیا۔

چونکہ ججز نے نواز شریف کو اس قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا اس لیے انہوں نے آرٹیکل 62 ایف کو بھی شامل کر لیا۔ 2016 میں ایم این اے افتخار چیمہ کی نا اہلیت کیس میں کورٹ نے آر او پی اے لاء کا اطلاق کرتے ہوئے فیصلہ دیا اگرچہ ان کے پاس بہت حقیقی اثاثے تھے اورکوئی رقم قابل وصول نہیں تھی پھر بھی انہیں اگلے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ یہ سب معاملات ختم کرنے کے لیے آر او پی اے لاء میں بھی ترمیم کی فوری ضرورت ہے۔

سب سے بڑا ایشو آرٹیکل 184 (3) ہے جس کے ذریعے ایم پی حضرات کو بغیر ٹرائل کے نا اہل قرار دیا جاتا ہے باجود اس کے کہ ان کو آرٹیکل 10 اے کے تحت ٹرائل کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نواز شریف کےخلاف انکوائیری بہت لازمی امر تھا کیونکہ ایگزیکٹو ایجنسیوں نے نواز شریف کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تھا۔ لیکن یہی لاجک عمران خان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ تو پھر سپریم کورٹ عمران خان کے خلاف کیس 184 3 کے مطابق سماعت کیوں کر رہی ہے؟ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ آئین کی شق 184 3 کو فوری طور پر ترمیم کے ذریعے آئین سے نکال دے تا کہ کسی بھی پارلیمنٹ ممبر کو بغیر اپیل اور ٹرائل کا حق دیے نا اہل نہ قرار دیا جا سکے۔

لیکن توازن برقرار رکھنے کے لیے سیاستدانوں کے احتساب کا بہتر نظام لانا ہو گا تا کہ کرپٹ سیاستدان قانون کی گرفت سے بھاگ نہ پائیں۔ لبرل عوام کو سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن سب سے زیادہ کھٹکتا ہے جب کہ عام مڈل کلاس لوگ اس سے کوئی شغف نہیں رکھتے ۔ لبرل لوگوں کی سوچ درست ہے۔ آرمی کے ہولڈ کی وجہ سے پاکستان ایک سکیورٹی سٹیٹ بن چکا ہے جس کی وجہ سے اس ملک کی ترقی میں رکاوٹیں واقع ہو رہی ہیں۔ بھارت اور چین نے کرپشن کے باوجود بہت ترقی کی ہے۔ لیکن کوئی ریاست سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے تحت رہتے ہوئے ترقی نہیں کر سکتی۔

سول ملٹری تنازعہ ایک ادارے کے تحفظات سے پیدا ہوتا ہے ا سلیے اسے فکس کرنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ سلیز معاشرے کے اندر جنم لیتی ہے اور اسے لمبے عرصے تک چلنے والی تریاق کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ کہنا کہ سول ملٹری تعلقات کے توازن کی خرابی سیاست دانوں کی ناکامی ہے بھی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ بہت سے ممالک میں سیاستدانو ں کی خامیوں کے باوجود سول ملٹری تعلقات میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔ ہمارا آلودہ پن اور سویلین حکومت کی خرابی باقی ممالک کی مانند ہے لیکن سول ملٹری تنازعہ میں ہم دوسرے کسی ممالک کے مماثلت نہیں رکھتے۔

یہ بلکل ایک اچھی علامت نہیں ہے کہ ایک کرپٹ سیاستدان بر طرف ہونے کے بعد جیل کے اندر سے سول ملٹری تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش میں مگن نظر آئے۔ میں چاہتا ہوں کہ نواز شریف کو نیب کیسز میں سزا ملے لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ وہ سیاست میں رہ کر سول ملٹری تنازعہ کے خاتمہ کے لیے سنجیدگی سے کام کریں۔ گو نواز گو! میں اس جملے کے منفی اور مثبت دونوں معنی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ نعرہ لگا رہا ہوں۔


courtesy:https://www.dawn.com/news/1351595/problematic-articles

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *