نواز کے دعوے اور پیپلز پارٹی کے تحفظات

مرتضیٰ سولنگی

nawaz-sharif-p

ایک خاموش طبیعت منتخب وزیر اعظم جن کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا مقصود تھا اور وہ اپنی کابینہ سے بھی دوری اختیار کیے رکھتے تھے اچانک بلند و بانگ دعوے کرنے والے انقلاب کے خواہش مند سیاست دان بن گئے ہیں۔ آج کل نواز شریف بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں۔ وہ ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی بات کر رہے ہیں اور اس مقصد کےلیے گرینڈ نیشنل ڈیبیٹ کی تجویز دے رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام کے مینڈیٹ کو عزت دلوائی جائے اور غیر جمہوری اداروں کی مداخلت کو روکنے کے خواہش مند ہیں۔ نواز شریف دو درجن سے زیادہ وزرائے اعظم کے وکیل بن چکے ہیں جنہیں ایک یا دو سال سے زیادہ عرصہ تک حکومت نہیں کرنے دی گئی۔

وہ آئین سے سلیپر سیلز کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں جن کے ذریعے منتخب حکومتوں کا تختہ الٹا گیا اور پارلیمنٹ کو تحلیل کیا گیا۔ شریف صرف دعوے نہیں کر رہے بلکہ سڑکوں پر آ کر عوامی رائے کو ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چار روزہ اسلام آباد سے داتا دربار لاہور تک آنے والی ریلی پنجاب بھر کے ہر شہر سے گزری۔ اس دوران انہوں نے بار بار ایک ہی سوال دہرایا کہ 'مجھے ججز نے باہر کیوں نکالا'۔ انہوں نے مختلف اشاروں کنایوں کے ذریعے یہ کہنے کی کوشش کی کہ فیصلہ ٹرائل سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ پی ایم ایل این کے پاس قابلیت نہیں ہے کہ وہ اگلے سال جون تک ریلیاں منعقد کر سکے جب پارلیمنٹ کا دور ختم ہو گا۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ بیک چینل کے ذریعے بھی کوششیں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ فیصلے پر نظر ثانی کی پٹیشن بھی دائر کی جا چکی ہے۔

اگر وہ ان اقدامات میں کامیاب نہ ہوئے تو انہیں یا تو ہمت ہار جانی پڑے گی یا اگلے سال مارچ میں سینیٹ انتخابات سے قبل ریلیوں اور جلسوں کا سہارا لینا ہو گا اور اس طرح اپنی مظلومیت کا رونا رو کر عوام کی ہمدردی جیتنی ہو گی۔ پی پی کچھ وجوہات کی بنا پر ن لیگ کا ساتھ دینے میں ہچکچا رہی ہے۔ اس میں بہت سی تاریخ چھپی ہے۔ 90 کی دہائی میں یہ دونوں جماعتیں سخت مخالف تھیں۔ اس مخالفت کا آغاز نوازشریف نے کیا تھا جب وہ اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن کر حمید گل کی نگرانی میں اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ہوئے۔ جب بے نظیر کی حکومت 1990 میں گرائی گئی تو اس سے نواز شریف کو بہت فائدہ ہوا۔

پی پی پی نے غلام اسحاق خان کے ساتھ مل کر نواز شریف کی حکومت گرائی۔ جب مشرف نے 1999 میں نواز شریف کو حکومت سے محروم کیا تو زرداری اور بے نظیر پہلے ہی سیف الرحمان اور نواز شریف کے انتقام کا سامنا کر رہے تھے۔ نواز شریف کی حکومت کے خاتمہ سے بے نظیر کو سکھ کا سانس ملا لیکن بعد میں دونوں پارٹیاں مشرف کے خلاف متحد ہو گئیں ۔ دونوں پارٹیوں نے جمہوریت کی مضبوطی کےلیے میثاق جمہوریت کا معاہدہ کیا۔ اس کے بعد دونوں پارٹیوں کے بیچ تعلقات بہتر ہوئے۔ جب دونوں خود ساختہ طور پر جلا وطن پارٹی رہنما وطن واپس آئے اور بے نظیر کو دہشت گردوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تو دونوں پارٹیوں نے آپسی اختلافات بھلا دیے اور اگلے الیکشن کے لیے اتحاد کر لیا۔ لیکن بہت جلد ججوں کی بحالی کے معاملہ میں پارٹیوں کے بیچ دراڈ آ گئی۔

پی پی حکومت کے دور میں ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شامل رہی اور چوہدری افتخار کے ذریعے زرداری حکومت پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ میمو کمیشن اور دوسری کئی مثالوں میں شریف کی پارٹی عدالت کی مداخلت میں عدالت کے ساتھ کھڑی رہی۔ اس سے قبل زرداری حکومت نے عبدالحمید ڈوگر کے ذریعے پنجاب چیف منسٹر شہباز شریف کی حکومت ختم کروائی۔ اس کے بعد نواز نے آرٹیکل 62، اور 63 کو ہٹانے میں پی پی کا ساتھ نہیں دیا۔ اب شریف کو اسی آرٹیکل کے تحت اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

جب 2014 میں پہلا دھرنا ہوا تو پیپلز پارٹی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پارلیمنٹ کے ذریعے اس کا مقابلہ کرے۔ چوہدری نثار کی کوششوں کے باجود پیپلز پارٹی نواز حکومت کے ساتھ کھڑی رہی۔ لیکن دھرنا ختم ہونے کے فوری بعد حکومتی پارٹی اپنی پرانی حرکتوں پر اتر آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل گئی۔ وہ ایسا وقت تھا جب پارلیمنٹ کو مستقل کے لیے محفوظ کیا جا سکتا تھا اور صحیح قوانین بنائے جا سکتے تھے لیکن موقع ضائع کر دیا گیا۔ جب نیب اور رینجرز نے سندھ کے گرد گھیرا تنگ کیا تو حکومت کے وزراء اور چوہدری نثار کے ذریعے فوج کا ساتھ دیا۔ جون 16 ، 2015 کو زرداری نے فوج کے خلاف سخت زبان استعمال کی ۔ اس وقت آرمی چیف جنرل راحیل شریف تھے۔ کچھ دن بعد آصف زدردای کے ساتھ نواز شریف کی ملاقات ہونے والی تھی لیکن نواز شریف نے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے نواز شریف نے اپنے آپ کو زرداری کی تقریر اور بیان سے لا تعلق قرار دے دیا۔

آہستہ آہستہ زرداری کے لیے حالات خطرناک ہوتے گئے۔ انہیں راحیل شریف کے دور کے اختتام تک ملک سے باہر سکونت اختیار کرنا پڑی ۔ دونوں پارٹیوں کے آپسی تعلقات کو سمجھنے کے لیے اس تاریخ سے بہرہ ور ہونا بہت ضروری ہے۔

لیکن اس کے بعد بہت کچھ ہوا۔ پی پی کا پنجاب سے صفایا ہو گیا۔ اس کے زیادہ تر الیکٹیبلز پی ٹی آئی میں چلے گئے۔ پارٹی کو نئی زندگی دینے کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ عمران خان کے حملوں کا شکار اکیلے نواز شریف نہیں بلکہ زرداری بھی ہیں۔ زرداری کی طرف سے دوستی کے تمام پیشکش کا جواب عمران خان نے نفی میں دیا ہے۔ پچھلے دوسال میں نیب اور رینجرز نے سندھ حکومت کو سخت دباو میں رکھا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل سندھ اسمبلی نے نیب کے اختیارات کو محدود کرنے کا قانون پاس کیا ہے۔ اب پی ٹی آئی، ایم کیو ایم پی، پی ایم ایل ایف نے سندھ ہائی کورٹ میں اس صوبائی قانونی سازی کے بل کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

عدالت کا موڈ زیادہ اچھا نہیں نظر آتا۔ اگر صوبائی حکومت اور قانون کو باہر پھینک دیا گیا تو پی پی ایک بار پھر غیر محفوظ ہو جائے گی۔ بہت سے لوگ اس وقت جو سوال پوچھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا یہ صورتحال ایک بات پھر نواز اور زرداری کو قریب لے آئے گی یا پھر پیپلز پارٹی ایک بات پھر اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن جائے گی؟ زرداری حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک وہ اور ان کے پارٹی رہنما نواز شریف کے خلاف بولتے رہیں گے ، وہ طاقت کے کھیل میں موجود رہیں گے۔ اسی وجہ سے بہت سے سیاسی تجزیہ نگار زرداری کے نواز شریف پر حملوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اس کی بجائے ان کے بیانات کو کھوکھلے دعوے قرار دیا جا رہا ہے۔

گرینڈ نیشنل ڈیبیٹ کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاستدانوں کے بیچ اعتماد کا فقدان ہے۔ نواز شریف سیاسی جماعتوں سے بے رخی پر اپنے علاوہ کسی کو دوش نہیں دے سکتے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ منتخب حکومتوں کوسکیورٹی، خارجہ معاملات اور معاشی پالیسیوں پر فیصلوں میں ناکوں چنے چبواتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سٹیٹسمین شپ اور بیڈ گورننس بھی سیاسی پارٹیوں کی گراوٹ کی وجہ بنتے ہیں۔ تازہ ترین فیکٹر عمران خان کی پارٹی کا کردار ہے جو 90 کی دہائی میں پاکستانی سیاست کو لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ایک نئے میثاق جمہوریت کی ملک کو سخت ضرورت ہے لیکن اس طرح کا میثاق تبھی ممکن ہے جب تمام پارٹیاں عوام کو ماضی کے بارے میں سچ بتائیں، اپنی غلطیاں تسلیم کریں اور ایک نیا روڈ میپ تیار کریں۔


courtesy:http://dailytimes.com.pk/pakistan/18-Aug-17/nawazs-overtures-and-ppps-reservations

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *