نحوست

محمد طاہرM tahir

سیاست ہماری معاشرتی زندگی کا سب سے بڑا شجرِ خبیث بن چکاہے۔اس مکروہ کاروبار نے ہماری قومی حیات کی تمام سرگرمیوں پر غلبہ پالیا ہے۔ اسی کے زیرِ اثر ہماری اجتماعی حیات کا آہنگ مسلسل بگڑتا جار ہا ہے۔
ایک اچھے نظامِ حکومت کی خوبی یہ ہے کہ وہاں ایک بُرا کام انتہائی مشکل سے ہو سکتا ہے۔ جب کہ ایک بُرے نظامِ حکومت میں ایک اچھا کام نہایت مشکل سے ہو پاتا ہے۔ ہمارا گردوپیش یہ ہے کہ یہاں کوئی بھلے سے بھلا کام دشوار سے دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔ یقینایہ نظام اپنے باطن میں ہی نحوست زدہ ہوچکا ہے۔ یہ ہمارا عمومی المیہ ہے خواہ ہماری سیاست آمرانہ دائرے میں ہو یا جمہوری دائرے میں ہو۔ اگر آمریت اور جمہوریت دونوں طرز کی حکومتوں سے قومی زندگی میں کوئی جوہری بدلاؤ نہ آتا ہو توپھر یہ خرابی اِن نظاموں سے بڑھ کر کہیں اور ہے۔ اور اس کا علاج بھی جمہورکی بالادستی کے خواب ناک نعروں سے آگے کہیں اور ہے۔ مسئلہ ہمارے سیاسی مزاج کا ہے۔ جو جمہوری اور آمرانہ کسی بھی طرزِ حکومت میں یکساں طور پر بروئے کا رآتاہے۔ ہمارے وہ خواب جو جمہور کی بالادستی اور آمریت سے بیزاری کے عالم میں دیکھے گئے ایک سیاہ ترین شب کے آسیب زدہ خواب ثابت ہوئے۔ میاں نوازشریف نے جس جمہوریت کی بالادستی کے نام پر میثاقِ جمہوریت کی لیلیٰ کو سجایا سنوارا تھا،وہ تو’’ اُس بازار‘‘ کی مخلوق ثابت ہوئی۔جس کے دانتوں میں مرورِ ایّام سے گھڑے پڑ گئے تھے۔ اور جس کے چہرے پر پوتھے ہوئے غازے اُس کی عمرِرفتہ کی کُہنہ کہانیوں کے شرمناک اظہار کو روکنے سے عاجز ہیں۔
پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے انتخابات میں ہر سیاسی جماعت نے اپنا مسلک واضح کر دیا ہے۔ جس کا واحد عقیدہ محض ’’مفادات‘‘ ہیں۔ کسی بھی جماعت کا کسی بھی جماعت سے کوئی اختلاف نہیں۔ اور کوئی بھی جماعت کسی بھی جماعت سے کبھی بھی اتحاد کر سکتی ہے۔سیاسی جماعتوں کے درمیان اُصولی اختلافات کی ہر کہانی محض طوطا کہانی ہے۔تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے سے مختلف مگر ایک دوسرے کی طرح ہی سوچتے ہیں۔ قومی مفادات کے نام پر جاری سرکاری اقدامات کی وقعت بھی بس اتنی ہی ہے کہ کب کون سا کام سیاسی مقاصد کے لئے موزوں ہے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے جاری دوڑ بھی اس سے مختلف کوئی کھیل نہیں۔ سیاست میں کھیل شماریات کا ہے اُصول وقواعد کا نہیں۔ چیئرمین سینیٹ کے لئے درکار ہندسہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کسی بھی طرح اورکسی سے بھی مل کر پورا کرنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی اگرچہ اس ہندسے کے کھیل میںآگے ہے۔ مگر اس ہندسے کو چھونے کے لئے مسلم لیگ نون بھی پیپلزپارٹی کی طرح ہی بروئے کار ہے۔ میثاقِ جمہوریت کی بات کو ایک طرف رکھئے۔ صرف دوخبروں کو مدِ نظر رکھئے ،بات پوری ہی سمجھ میں آجاتی ہے۔میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز سترہ برسوں کے بعد پہلی مرتبہ شہباز شریف سے رابطہ کیا ہے۔ ایک دوسری خبر بھی دلچسپ ہے۔ وزارتِ داخلہ نے سندھ حکو مت کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ صدرِمملکت کی طرف سے پھانسی پر عائد پابندی اُٹھانے کا اطلاق سزائے موت کے منتظر تمام قیدیوں پر ہوتا ہے۔ جس میں صولت مرزا کی سزابھی شامل ہے۔ اس طرح صولت کی سزا روکنے کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے جو خط پہلے جاری کیا گیا تھا اُسے ایک ’’غلطی‘‘سمجھ کر ’’سجدہ سہو‘‘ کیا گیا ہے۔ اب ذرا وہ پس منظر دھیان میں لائیں جس میں یہ دونوں خطوط جاری کئے گئے۔ جب وزارتِ داخلہ نے سزاروکنے کے متعلق خط لکھا تھا تب پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان تعلقات خراب و خستہ ہو چکے تھے۔ اور مسلم لیگ نون اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ چاہتی تھی۔اب سزا پر عمل درآمد کے لئے یہ خط ایک ایسے موقع پر لکھا گیا ہے جب پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان سندھ حکومت میں شامل ہونے پر دوبارہ بات چیت ہورہی ہے اور سینیٹ کے چیئرمین کے لئے اتفاق تقریباً ہو چکا ہے۔ایم کیو ایم اس ضمن میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اپنے مطالبات پیپلز پارٹی سے منوانے کے قابل ہو گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا صولت مرزا کا معاملہ خود اپنا بھی کوئی قانونی اور اخلاقی تقاضا رکھتا ہے؟ ہماری قومی زندگی کا ہر معاملہ سیاسی مفادات کی تحویل میں کیوں ہے؟
یہی منظر ایک اور طرح سے بھی سامنے آیا ہے۔ مسلم لیگ نون کا ایک وفد گزشتہ روز چوہدری برادران کی دہلیز کو بھی چھو آیا ہے۔اب تک مسلم لیگ نون کے حاشیہ بردار اُنہیں اصحاب قاف کی پھبتی سے یاد رکھتے آئے ہیں مگراب خواجہ سعد رفیق اور پرویز رشید نے کم وبیش سترہ برسوں کے بعد مسلم لیگ قاف سے رابطہ استوار کیا ہے۔ اس باب میں مسلم لیگ نون کے قرطاس وقلم کے معاونین ہمیں اردو زبان کی نہ جانے کون کون سی تراکیب میں ’’غیرت ‘‘ دلاتے تھے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اُس کی آنکھ میں حیا نہیں ہوتی۔معلوم نہیں ایسے قلم کی’’ سیاہی ‘‘کہاں سے آتی تھی؟مسلم لیگ نون نے اے این پی کے حوالے سے بھی اپنے تاریخی موقف اور روایتی طرزِعمل سے واپسی کی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی زبان نے جو موتی رولے ہیں اُس کے مطابق اے این پی کے سیاسی کردار سے انکار ممکن نہیں۔وہ کب ممکن تھا؟ بس اس پر زبان بند ہی رہیگی۔
سینیٹ کے انتخابات ہی نہیں اب اُس کے چیئرمین کا انتخاب بھی جمہوریت کے پُرفریب نعرے کا رُسوا کن نظارہ بننے والا ہے۔ چیئرمین کے انتخاب کی دوڑ میں شریک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے لئے اگر سیاسی طور پر یہ زیادہ سود مند ہوگا کہ دونوں ہی ایک متفقہ امیدوار کو میدان میں لائیں تو یہ جماعتیں اس سے بھی گریز نہیں کریں گی۔ پھر اس عمل کو جمہوریت کی نوخیزدوشیزہ کی پرورشِ حسن کے لئے ایک ناگزیر نسخہ بنا کر پیش کیا جائے گا۔ وہ دانشور جو سینیٹ کے انتخابات کو جمہوریت کی گاڑی آگے بڑھنے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ وہ اس بے فیض سیاست میں’’ اونگھٹے کو ٹھیلتے‘‘کا کام کر رہے ہیں۔اُن کی جمالِ بصیرت سے چمنستانِ خیال میں تو رنگ ونور کی بہار آجائیگی مگر جمہوریت کے دفترِعمل میں صرف ومحض نامرادی و رُسوائی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں آئیگا۔ جمہوریت ایک نظام حکومت کے طور پر تب ہی عوام کے لئے پرکشش نظام بنے گا جب سیاست کے تیور ٹھیک اور حصولِ اقتدار کے عمل کو اُصولی شناخت دی جائیگی۔وگرنہ نظری طور پر عوام کی بالادستی کانظام عملی طور پر خاندانی آمریت سے عبارت اور موضوعِ ملامت ہی بنا رہیگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *