ممتاز علی بھٹو بھی تحریک انصاف میں شامل ہونے جارہے ہیں

اسلام آباد (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عید کے بعد سندھ میں سیاسی مورچہ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور عمران خان کے دورہ سندھ کے دوران سندھ نیشنل فرنٹ پارٹی کے چیئرمین سردار ممتاز علی بھٹو کااپنی پارٹی کو تحریک انصاف میں ضم کرنے کا بھی امکان ہے،جب کہ سندھ نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکٹری اطلاعات انور گجر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سے بات چیت چل رہی ہے کافی پیش رفت ہوئی ہے عوام کو جلد خوشخبری دینگے ۔۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سندھ میں پارٹی کو مضبوط کرنے اور اپنااگلا سیاسی ہدف آصف علی زرداری کو بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے لئے پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کردیئے ہیں۔ عید کے بعد باقاعدہ طور پر چیئرمین تحریک انصاف میں ڈیرے ڈالیں گے اس حوالے سے عمران خان نے سندھ فرنٹ پارٹی کے چیئرمین سردار ممتاز علی بھٹو سے رابطہ کیا ہے اور انہیں تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی جس پر سردار ممتاز علی بھٹو نے تحریک انصاف میں شمولیت کی چند شرائط رکھیں جنہیں تحریک انصاف نے قبول کرلیا ہے ان شرائط میں سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سے کسی بھی قسم کی مفاہمت نہ کرنے اور سندھ میں گزشتہ دور حکومت کے دوران زیادتیوں کے ازالے کی شرط شامل تھیں شرائط میں چیئرمین تحریک انصاف کو خود سندھ میں ٹائم اور بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور انہیں سزا دلانے کی شرط بھی شامل ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ سابق رکن سندھ اسمبلی اور سابق وزیراعظم کے ایڈوائزر میر بخش بھٹو کو پاکستا تحریک انصاف سندھ کا صدر بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاہم اس کیلئے اگلے چند روز میں اس کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو تحریری طو رپر فرنٹ پارٹی لاڑکانہ میں بڑا جلسہ کرکے پاکستان تحریک انصاف میں ضم ہونے کا اعلان کیا جائے گاذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کے حلقہ لاڑکانہ این اے 207 سے خود الیکشن لڑنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ سردار ممتاز بھٹو شہید ذولفقار علی بھٹو کے حقیقی کزن ہیں اور سندھ کے گورنر اور وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں ، 2013کے انتخابات سے قبل سندھ نیشنل پارٹی مسلم لیگ ن میں ضم کی گئی تھی جس کے بعد ممتاز بھٹو کے فرزند اور سابق ایم پی اے امیر بخش بھٹو کو وزیراعظم نواز شریف کا ایڈوائزر مقرر کیا گیا تھاتاہم مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کی جانب سے اہمیت نہ ملنے کے باعث انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے کر سندھ نیشنل پارٹی کو حکومت سے علیحدہ کر لیا تھا۔ اس حوالے سے جب سندھ نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکٹری اطلاعات انور گجرسے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سندھ نیشنل پارٹی کی پاکستان تحریک انصاف سے بات چیتچل رہی ہے اور اس پر کافی پیش رفت بھی ہوئی ہے تاہم حتمی فیصلہ جلد ہو جائے گا اور عوام کو اس حولے سے جلد ہی خوش خبری دیں گے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *