سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام کھلا خط

عزت مآب ثاقب نثار صاحب
چیف جسٹس
سپریم کورٹ آف پاکستان
اسلام آباد

درخواست بسلسلہ اجرائی اجازت مقدمہ بخلاف پانامہ کیس بنچ

جناب عالی!

ایک اہم اور قومی نوعیت کا استغاثہ بذریعہ ای میل ، میں آپکو ارسال کر رہا ہوں جس کا تعلق سپریم کورٹ کے ان معززججوں کے مس کنڈکٹ سے ہے کہ جنہوں نے پاناما کیس کا فیصلہ دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ میڈیا پہ بھی رپورٹ ہوا کہ گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے پبلک جلسوں سے اپنے خطاب میں یہ انکشاف کیا تھا کہ پاناما کیس کی سماعت کرنے والے فاضل ججوں کو نواز شریف نے 10-10 ارب روپے کی رشوت کی پیشکش کی تھی - یہ الزام جھوٹا ہے یا سچا ، اس سے قطع نظر یہ بہت سنگین نوعیت کا الزام ہے کہ جس پہ ججوں کو واضح طور پہ فوری قانونی کارروائی کرنی چاہیئے تھے یعنی اگر یہ بات سچ تھی تو نواز شریف کے خلاف رشوت کی پیشکش کرنےکے جرم پہ قانون کو حرکت میں لایا جنا چاہیئے تھا اور اگر یہ الزام جھوٹ تھا تو پھرنواز شریف کو بدنام کرنے کے جرم پہ عمران خان اور شیخ رشید کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیئے تھی ۔۔۔ لیکن ان ججوں نے ایسا کچھ بھی نہ کیا اور یوں یہ حضرات اپنے منصب کے تقاضوں کی تکمیل سے انتہائی شدید روگردانی کے مرتکب ہوئے۔نیز اسکے علاوہ اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو عدلیہ کی نیکنامی پہ حرف گیری سے متعلق بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان دونوں مذکورہ سیاسی رہنماؤں کے لگائے گئے الزامات سے ان معزز ججوں کا دامن بھی آلودہ ہوتا ہے کیونکہ ان الزامات کی رو سے تو یوں ظاہر کیا گیا ہے کہ جیسے پاناما کیس کے معزز جج صاحبان ان حضرات سے بیرون عدالت بھی رابطے میں تھے اور اس قسم کی ( نام نہاد ) اندرونی باتیں ان سے شیئر کیا کرتے تھے- یوں ان ججز کی جانب سے اس قبیح الزام کا قرار واقعی نوٹس نہ لیا جانا نہایت غیر پیشہ وارانہ طرز عمل کے مترادف ہے اور اس مرحلے پہ انکی پراسرار خاموشی کا صریح مطلب ان الزامات کی تائید و تصدیق کے ہم معنی ہے جو کہ دوسرے فریق کے خلاف ایک کھلی جانبداری کے مساوی ہے -

جناب عالی !

پاناما کیس پہ سارے ملک کی نظریں‌ لگی ہوئی تھیں‌ لیکن میری رائے میں بدقسمتی سے چونکہ ججوں‌ نے اوپر بیان کردہ وجوہ کی بناء پہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض سے سنگین غفلت برتی ہے اور اسکے تحت مقدمے کے ایک فریق کے غلط بیانات پہ خاموش رہ کر انہیں سند اعتبار بخشی ہے اور دوسرے فریق کو رشوت ستانی کا مجرم سمجھے جانے میں مدد دی ہے چنانچہ میں یہ باور کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتا ہوں کہ یہ جج حضرات اب اس کیس کے حوالے سے مشتبہ ہوچکے ہیں اور اس امر کے اہل نہیں رہے کہ اس کیس کی نظر ثانی کی اپیل کی سماعت کرسکیں-

استدعا:-

اوپر بیان کردہ وجوہ کی بناء پہ میری آپ سے اور معمزز عدالت کی فل بنچ سے یہ درخواست ہے کہ وہ مذکورہ ججز کے اس صریحا" مس کنڈکٹ کے خلاف درکار قانونی کارروائی عمل میں لائیں اوران ججز کو اپنے مس کنڈکٹ کی وجہ سے پاناما کیس کی سماعت نہ کرنے دیں‌ نیز نظرثانی کی اپیل کی شنوائی کے لیے کسی دیگر بنچ کی تشکیل کی جائے-

میری آپ سے عاجزانہ گزارش یہ بھی ہے کہ براہ مہربانی میری اس درخواست کو ایک باضابطہ مقدمے میں‌ تبدیل کردیا جائے جوکے پاناما کیس میں فیصلہ سنانے والی بنچ کے خلاف ہے اور چونکہ یہ معاملہ فی الواقع قومی مفد کا ہے چنانچہ اسے آپکے سامنے اس امید کے ساتھ رکھ رہا ہوں‌کہ آپ اسے قرار واقعی اہمیت دینگے-یہاں‌ یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں‌ کہ چونکہ میرے پاس مستحکم مالی وسائل دستیاب نہیں ، چنانچہ استدعا ہے کہ یا تو اس کیس میں سرکاری وکیل کی خدمات حاصل کی جائیں ورنہ میں‌ خود پیش ہوکے اس ضمن میں اپنے دلائل پیش کرنے کا خواستگار ہوں!

والسلام

درخواست گزار

syed arif mustafa

سید عارف مصطفیٰ
Ph: 0313-8261098
9/10 فائیو ڈی ، ناظم آباد نمبر 5 ، کراچی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *