ہمارے بے حس سیاستدان

saleem pasha
میں کینیڈا کے شہر ٹورانٹو کے جس علاقے میں رہتا ہوں اِسے مسلم اکثریتی باشندوں کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ تھارن کلف بھی کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے انڈین،پاکستانی اور بنگلہ دیشی لوگ اپنے خاندانوں سمیت یہاں کی اونچی اونچی اپارٹمنٹس والی عمارتوں میں رہائش پذیر ہیں۔ چنانچہ یہاں کا کلچر بھی ہمارے پاکستانی اور انڈین گلی محلوں والا دکھائی دیتا ہے۔ دیسی لوگ ویسے ہی ایک دوسرے کے ساتھ کینہ رکھتے ہیں جیسا کہ مپنے پچھلے دیسوں میں، لڑائی جھگڑے کرتے ہیں اور فراڈ،جھوٹ اور چھوٹی موٹی بے ایمانی بھی کرلیتے ہیں۔ یہاں دیسی سٹورز بھی ہیں جہاں پہ آپ کو ہمارے اپنے ملکوں سے درآمد کردہ ہر اچھی بری شے ڈالروں کے عوض دستیاب ہوتی ہے۔برصغیر کے لوگ نہ تو یہاں کی صفائی کے طور طریقوں کو اپناتے ہیں اور نہ ہی کینیڈا کے صاف ستھرے ماحول کو دوست سمجھتے ہیں۔ جہاں سے گذریں گے گند پھیلاتے چلے جائیں گے۔ بچوں کی بھی اس سلسلے میں تربیت دیناضروری نہیں سمجھتے۔ٹریفک کے معاملے میں بھی روائتی اصول اپناتے ہوئے اپنا داؤ پیچ لگانے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ اپنے پچھلے ملکوں میں کرتے آئے ہیں۔ میرے لگاتار مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اگر کوئی پیدل انسان زیبرا کراسنگ سے سڑک پار کررہا ہے تو سڑک پر گاڑی کو ڈرائیو کرتے ہوئے آنیوالا کوئی گورا ہے تو اسے آپ لاکھ کہیں کہ پہلے آپ گذر جائیں میں بعد میں سڑک پار کرلوں گا تو وہ ٹس سے مس نہیں ہوگا اور آپ کوہی پہلے پیدل چل کے سڑک پار کرنا ہوگی۔ اس کے برعکس اگر کوئی دیسی ڈرائیور آرہا ہے تو اس کی پہلی کوشش یہی ہوگی کہ پیدل چلنے والوں کو نظر اندار کرتے ہوئے تیزی سے گذر جائیں گے۔اور اگر کوئی بھولے سے اشارہ کرے تو آمین کہتے ہوئے پیدل چلنے والوں کے پہلے گذرنے کے حق کو روندتے ہوئے چلے جائیں گے۔
اب آتے ہیں یہاں کی سیاسی قیادت یعنی لیڈران کی طرف جن کی عاجزی اور انکساری کی مثالیں آئے دن دیکھنے کو ملتی ہیں۔یہاں کی مشہور دا رالاسلام مسجد جو کہ اقبال فوڈز سپر سٹور کے ہمسائے میں واقع ہے، اس میں مجھے ایک بار عید کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گوری چٹی پرکشش خاتوں سبز رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس ڈوپٹہ بھی سر پر اوڑھے ہوئے ہاتھ میں ٹرے پکڑے ،جس پر کھجوریں اور چاکلیٹ دھرے ہوئے مسجد کے دروازے کے ساتھ کھڑی ہے اس کے ساتھ دو عدداور بھی مردانہ شلوار قمیض پہنے گورے کھڑے نمازیوں کو عید مبارک دے رہے ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ جنابہ خاتونِ محترم کینیڈا کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے اونٹاریو کی پریمئر یعنی وزیر اعلیٰ کیتھرین وین ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ان کی کابینہ کے وزیر ہیں۔آپ نے غور کیا کہ اتنے بڑے ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ جو کہ عاجزی اور انکساری کا پیکر بنے ہوئے ہاتھوں میں تحائف لئے مسکرا مسکرا کر آپ کو عید کی خوشیوں کی مبارکباد دے رہی ہے اور دوسری طرف آپ اپنے ملک پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ جو نمائشی طور پر خادم اعلیٰ کی پخ اپنے نام کے ساتھ لگائے پھرتے ہیں، کبھی کسی نے ان کو کسی اقلیتی مذہبی مقام پران کے کسی تہوار پراس طرح مٹھائی کا تھال پکڑ ے دیکھا ہو تو بتائیں۔ یہ نام کے خادم جب باہر نکلتے ہیں توں پورے لاؤ لشکر اورچالیس چالیس گاڑیوں کے ہجوم میں چلتے ہیں۔یہ میڈیا کے اپنے من پسند نمائندوں کو ساتھ ساتھ لیکر چلتے ہیں تاکہ وہ ان کی شان کے قصیدے قدم بہ قدم گاتے رہیں، ان پڑھ عوام کو سناتے رہیں۔
میاں نواز شریف کو ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے نا اہل کیا ہے،کسی عام آدمی نے نہیں کیا۔اب یہ اس عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکاری ہیں اور معزز ججوں کی بے توقیری کرتے پھر رہے ہیں۔آئیے میں ان کو حضرت علی علیہ سلام کی زندگی کا ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں جب وہ امیر المومنین یعنی خلیفہ وقت تھے اور ان کے خلاف قاضی کی عدالت میں ایک یہودی نے کوئی مقدمہ کردیا۔آپ سرکار کو بلایا گیا تو وہ اکیلے قاضی کے حضور پیش ہوئے ،کوئی پروٹوکول یا لاؤ لشکر ان کے ساتھ نہیں تھا اور نہ ہی پورے شہر کو بند کیا گیا۔قاضی نے عام ملزمان کی جگہ پر آپ سرکار کو کھڑا کیا اور تفتیش کی، آپ حق پر تھے لیکن آپ کے پاس اپنے موقف کو سچ ثابت کرنے کیلئے کوئی گواہ نہیں تھا۔چنانچہ قاضی نے یہودی کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔مولیٰ علی سرکار نے خاموشی سے قاضی کے فیصلے کے سامنے سر جھکایا اور چلے آئے۔ آپ خلیفہ ہوتے ہوئے بھی انصاف کی بالا دستی کیلئے خاموش رہے کوئی احتجاج نہ کیا۔تو صاحبو !اس تاریخی واقعہ کی روشنی میں کیا میاں نواز شریف کا اعلیٰ عدلیہ کے خلاف احتجاج اور دھمکیاں دینا انہیں زیب دیتا ہے؟
میرے شہر گجرات میں میاں صاحب نے اپنے احتجاجی قافلے کی گاڑیوں کے نیچے کسی غریب ماں کے کمسن بچے کو کچل دیاکیا یہی ان کی انسانیت ہے؟ کیا اس ماں کی بددعائیں آسمانوں پر بیٹھے ہوئے ربّ کے غضب کو آواز نہیں دے رہیں۔ حادثے سے بڑا سانحہ تو یہ ہو کہ اس قافلے کی کسی گاڑی میں سے کسی فرشتے اور معصوم لیڈر نے نے اتر کر اس بچے کی لاش کو دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا۔کہاں ہیں وہ سارے درباری دانشور ان اور گوئبل زجو گلالئی کے حق کے لئے مرے جارہے ہیں، ایک معصوم کی موت پر ان کی زبانیں اور قلم کس کی دولت نے جام کردئیے۔ کیا کسی ایک نے بھی وہاں اجڑے ہوئے گھر کی ماں کو پرسہ دیا ہے؟ اپنے سب بچوں کو تو خصوصی پرواز سے با حفاظت لاہور رائے ونڈ بھیج دیا گیا اور عوام کے بچوں کو سخت گرمی میں سڑکوں پر بلایا جا تا رہا اور گاڑیوں کے ٹائروں تلے روندا گیا،کچلا گیا اور پیچھے مڑ کے دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا۔10سے زیادہ ایمبولینس جو قافلے کے ساتھ تھیں کیا وہ وی آئی پی کے علاوہ کسی اور کو علاج نہیں مہیا کر سکتی تھیں؟کیاعوام کی حیثیت کیڑے مکوڑوں جیسی ہو چکی ہے؟ایسا دردناک واقعہ اگر کسی مہذب ملک میں رونما ہوا ہوتا تو کیا کہرام مچتا۔کتنے حکومتی اہلکار اپنی نوکریوں سے جاتے،اور لیڈران کی توسیاست کی دوکانداری ہی گول ہوجاتی۔یہاں تو لکڑ بھی ہضم اور پتھر بھی ہضم۔ان ڈریکولا نما لیڈران کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے لاشیں درکار ہیں۔یہ تو شکر ہے لاش ان کے اپنے کسی کارندے کی نہیں تھی ورنہ اس لاش پر وہ سیاست ہوتی اور اسے اٹھائے اٹھائے پتہ نہیں کہاں کہاں پھرتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *