بلاول، پی پی پی، پنجاب اورسندھ 

ausaf-sheikh

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد پیپلز پارٹی کے آصف زرداری پھر سر گرم ہو گئے اور صاف الفاظ میں نا اہل نواز شریف کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے یا ان کا دوستی کا بڑھا ہوا ہاتھ پکڑنے سے انکار کردیا۔ پیپلز پارٹی کے ظاہری چیئر مین بلاول بھٹو زرداری واضع طور پر نواز شریف کو للکار رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تحریک انصاف کو بھی شدید تنقید کا ہدف بنا رہے ہیں لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں آصف علی زرداری نے صحافیوں کے سوال کے جوا ب میں کہا ہے کہ میرا چیئر مین بلاول بھٹو بتا چکا ہے کہ نواز شریف سے دوستی نا ممکن ہے اور جو میرے چیئر مین کا فیصلہ ہے وہی میرا فیصلہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آصف علی زرداری کے نواز شریف سے بیک چینل رابطے ہیں، ان دونوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا جس کی خفیہ شقیں صرف وہی دونوں اور ان کے قریب ترین ساتھی ہی جاتے ہیں دونوں آج بھی اس پر عمل کے خواہش مند ہیں۔پیپلز پارٹی پانامہ کیس کو عدالت میں لے جانے کی بھی مخالف رہی ہے اوراس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں لانے پر زور دیتی رہی اس کا مقصد صرف اور صرف مادی فائدہ حاصل کر کے نواز شریف کو بچانا تھا ، اور نواز شریف سے آنے والے انتخابات میں پنجاب سے 25 سے30 نشتیں پی پی کے لیے حاصل کرنے کی یقین دہانی اور گارنٹی لینا تھا لیکن عمران خان ، شیخ رشید، اور مولوی سراج الحق اس کیس کو عدالت میں لے گئے جس کا نتیجہ بالآخر نواز شریف کی نااہلی اور دیگر کیسز نیب کو بجھوانے کا فیصلہ کہ نیب 6 ہفتوں میں ریفرنسز تیار کر کے بھیجے اب بھی آصف علی زرداری کے نواز شریف سے خفیہ رابطوں کے درمیان بلاول بھٹو سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
بلاول بھٹو کی جب بھی اپنی الگ پہچان بننے لگتی ہے تو آصف علی زرداری درمیان میں کود پڑتے ہیں اور اپنی غیر حاضری میں بھی اپنی بہن فریال تالپور کو مسلسل بلاول بھٹو کے ساتھ لگائے رکھتے ہیں بلاول بھٹو کی الگ پہچان میں پیپلز پارٹی پنجاب اہم کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ووٹ جو کم ہو کر گذشتہ انتخابات میں 24 لاکھ رہ گیا تھا فریال تالپور کے بہت خلاف ہے اور آصف زرداری کو بھی زیادہ پسند نہیں کرتا ، آصف زرداری اور پیپلز پارٹی سندھ کے ر ہنماؤں کا مقصد ایک ہے جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب بلاول کی قابل قبول قیادت میں پارٹی کے گرے ہوئے گراف کو اوپر کرنا چاہتی ہے پیپلز پارٹی کے لیے بھی بالخصوص فریال تالپور کے احکامات ناقابل قبول ہیں شہیدمحترمہ بینظر بھٹو کی گدی پر فریال تالپور کو دیکھنا پنجاب پی پی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے عذاب سے کم نہیں۔
آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی سندھ کا مقصدصرف وہی ہے جو نواز شریف کے ساتھ خفیہ معاہدہ میں طے ہوا تھا، یہ سب لوگ زمینی حقائق سے نظر یں چرائے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی مسلسل کوششوں اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے منشورپر عمل کے باوجود عمران خان کرپشن کے خلاف اپنی تحریک اور بالخصوص پانامہ کیس کے حوالے سے ملک بھر میں خصوصاََ پنجاب میں اپنا گراف تیزی سے اوپر لے کر گیا ہے ، مسلم لیگ ن کے حصے بخرے ہو رہے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سا نیا اتحاد جنم لیتا ہے ان حالات میں پی پی کو تحریک انصاف سے محاز آرائی کا نقصان ہی ہو گا۔ مسلم لیگ ن نے گذشتہ انتخابات میں پنجاب سے 16 1سے زائد قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کی تھیں، آئندہ صورت حال بہت بد ل جائے گی، لوگ تیزی سے نئے اتحاد کی طر ف جائیں یہ کالم شائع ہونے تک بھی اس حوالے سے کچھ صورت حال واضع ہو چکی ہو گی۔
پیپلز پارٹی بھی ان حالات میں دانش مندی کا مظاہر ہ نہیں کر رہی ، ہونا تو یہ چاہیے کہ اپنے پرانے لوگوں سے رابطے کر کے انہیں واپس لانے کی کوشش کی جائے، ان لوگوں کو بھی معلوم ہے، آئندہ نواز شریف کو موقع نہیں ملے گا، مسلم لیگ ن میں ٹوٹ پھوٹ کا فائدہ تحریک انصاف نے اٹھانا شروع کر دیا ہے کس حد تک یہ بھی چند دنوں میں کھل جائے گا۔ پیپلز پارٹی کو اہم ضرورت اس کام کی ہے کہ پنجاب میں اپنا حصہ نکالنے اور ووٹرز کو دوبارہ قائل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی پنجاب کو بلاول بھٹو کے ساتھ کام کرنے دیا جائے ، مسلم لیگ ن کے ٹوٹ پھوٹ کے شکار ووٹرز اور رہنماؤں کو اپنی طرف لانے کے لیے اس تاثر کو زائل کرنا ہوگا کہ بلاول کی حیثیت صرف ظاہری چیئر مین کی ہے اصل میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور سربراہ ہیں ایسانہ ہو ا تو پیپلز پارٹی پنجاب کے مزید لوگ ٹوٹ کر تحریک انصاف یا نئے اتحادمیں چلے جائیں گئے اور آصف زرداری کی یہ دوسری بڑی غلطی پیپلز پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *