متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کا بڑا کارنامہ

khalid zahid
پاکستان کی قومی سیاست میں پچھلے تیس پینتیس سالوں سے دو یا تین جماعتیں اقتدار میں رہی ہیں یا پھر اقتدار کا حصہ رہی ہیں جبکہ صوبائی سیاست کا بھی حال اس کچھ مختلف نہیں ہے خصوصی طور پر سندھ اور پنجاب میں تقریباً حکومت ایک ایک سیاسی جماعت کے پاس ہی رہی ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کچھ تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتیں صوبائی سطح پر بہت اہمیت کی حامل اور طاقتور جانی جاتی ہیں ۔ یہ جماعتیں صوبائی حکومت یا حزب اختلاف میں تو اپنا کردار ادا کرتی ہی ہیں مگر یہ وفاق میں بھی بنانے اور بگاڑنے میں اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسی ہی ایک جماعت جسے کبھی بھی اچھے لفظوں سے زیرِ بحث نہیں لایا گیامتحدہ قومی مومنٹ ہے جو اپنی ساکھ تقریباً تین دھائیوں سے سندھ کے شہری علاقوں میں بنائے ہوئے ہے ۔ سند ھ کا زیادہ تر حصہ دیہی ہے جسکی وجہ سے وہاں ہمیشہ سے پاکستان پیپلز پارٹی اپنی حکومت کیلئے واضح اکثریت حاصل کر لیتی ہے اور اسے تقریباً حکومت بنانے کیلئے کسی جماعت کی حمایت کی ضرورت نہیں ہوتی رہی بات سندھ میں حزبِ اختلاف کا تو قلیل ہونے کے باعث اہمیت نہیں رہتی۔ حکومت اپنی مرضی کا بل لاتی ہے اور اسے اکثریت سے پاس بھی کروالیتی ہے جسکا منہ بولتا ثبوت ابھی صوبہ سندھ میں نیب کے کردار پر لایا جانے والا بل ہے۔
کراچی پاکستان کی معیشت کا حب ہے جس کی بنیادی وجہ یہاں بندرگاہ ہے لاکھ کوشش کرنے کے باوجود بھی گوادر کی بندرگاہ کو کراچی کی بندرگاہ کے برابر نہیں لایا جاسکتا ۔ پاکستان کا ہر صوبہ اپنے وسائل کی بنیاد پر اپنے حقوق کیلئے لڑائی کرتا ہے یہ لڑائی سیاسی بھی ہوتی ہے اور کبھی کبھی عسکری بھی ۔ ہر صوبے کی ان تحریکوں کا احترام کیا گیا اور ہمیشہ کوشش کی گئی کے سیاسی مداخلت سے ان مسائل کو حل کیا جائے، مگر ہر دفعہ ایسا ممکن نہیں ہوسکااور عسکری کردار نبھانا پڑا اور معاملات کو طاقت کے بل بوتے پر سدھارنے پڑے جس سے بظاہر امن تو قائم ہوا مگر دیرپا نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔گاہے بگاہے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایسا صرف بلوچستان میں ہی نہیں ہوابلکہ پورا خیبر پختونخواایسے حالات سے دوچار ہے دوسری طرف جنوبی پنجاب کے علاقے جو سندھ کے زیریں علاقوں سے ملحقہ بھی ہیں اور آخر میں کراچی یاحیدرآباد۔ یہ پاکستان کی عسکری قیادت کا کمال ہے کہ پاکستان کو یک جان کرکے رکھا ہوا ہے ورنہ دشمن نے اپنا ہر حربہ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلئے آزمایا ہوا ہے۔
مذکورہ سطور میں تذکرہ کیا گیا ہے کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے ۔ جسکی وجہ سے کراچی میں کسی بھی قسم کی ایسی تحریک کو چلنے دینے کا مطلب ہے کراچی پر سے وفاقی تسلط کو کمزور کرنا اور ایسا ہی سندھ کی حکومت کا بھی سمجھنا ہے جس کی بنیاد پر کراچی کی نمائندہ سیاسی جماعت کو محدود کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ ایم کیوایم (پی) کو کمزور کرنے کا ہر حربہ آزمایہ گیا ہے اور یقیناًاس سیاسی جماعت کی آڑ لے کر کراچی میں غیر قانونی طور پر بسنے والوں نے ایم کیوایم کی بدنامی کو چار چاند لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایک طرف ایم کیوایم انتہائی منظم جماعت سمجھی جاتی ہے مگر ایم کیوایم اس تخریبی عمل کی تشخیص سے نابلد رہی جو کہ انکی انتظامی نااہلی ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ دوسری طرف ایسے شرپسند عوامل ایم کیو ایم کے سائے میں پلتے رہے اسکی ذمہ داری بھی انہیں قبول کرنی پڑے گی۔ ایم کیوایم وہ سیاسی جماعت ہے جو انتہائی مشکل حالات کے باوجود ہر بار انتخابات میں اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل کرتی رہی (کیسے پر فی الحال بحث نہیں لکھ رہا)اور اپنی سیاسی اہمیت پاکستان کے تمام اداروں کے سامنے ثابت کرتی رہی۔
سب سے پہلے تحریک پاکستان کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ تھی ۔ پاکستان بننے کے بعد سے آج تک دس پندرہ مسلم لیگ مختلف حروفِ تحجی کے ساتھ وجود میں آچکی ہیں ، پاکستان پیپلز پارٹی کا حال کچھ مختلف اسلئے ہے کہ اس نام کی اتنی زیادہ جماعتیں وجود میں آسکیں ہیں مگر پھر بھی تین چار تو ہیں، ایسا ہی کچھ حال مذہبی جماعتوں کا بھی ہے جس میں جمیعت علمائے اسلام مختلف حروف کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ان جماعتوں کے ساتھ حروف تہجی کے حروف ان شخصیات کے ناموں سے وابسطہ ہوتے ہیں جن کے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر اگلی جماعت کا وجود نمودار ہوتا ہے۔ ایم کیوایم بھی تقسیم ہوئی اور چار مختلف دھڑوں میں بٹ گئی اور چاروں اپنے اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں دھڑے بنوائے جاتے ہیں یا بن جاتے ہیں یہ ایک الگ موضوع ہے۔ مگر اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ اتحاد میں برکت بھی ہوتی ہے اور طاقت بھی تو ان چیزوں سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ان جماعتوں کو تقسیم ہوتے رہنا چاہئے اور تمام جماعتوں میں ایسے لوگوں کی نشاندہی رکھنی چاہئے جو مفاد ات کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
ایم کیوایم پاکستان نے تین نکاتی منشور جن میں اول نمبر پر پاکستان کی سالمیت کیخلاف سازشیں، دوئم بدعنوانی کا خاتمہ اور سوئم مقامی حکومت کے اختیارات شامل ہیں ، پر کثیر الجماعتی کانفرنس۲۲ اگست کرانے کا فیصلہ کیا (یہ وہ تاریخ ہے جس دن ایم کیوایم پاکستان وجود میں آئی ہے) کرانے کا فیصلہ کیا اور تمام جماعتوں کو اس میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دی گئی۔ ایم کیوایم پاکستان نے سیاسی بصیرت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی ہی جماعت سے مختلف وجوہات کی بنا پر منحرف ہوکر الگ الگ سیاسی جماعتیں بنانے والوں کودوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک جگہ مل بیٹھ کر پاکستان خصوصی طور پر کراچی کے مستقبل کی سیاست کا تانا بانا بننے کی دعوت دی ہے۔ایم کیوایم (پی) اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کی تلاش میں سرگرداں دیکھائی دے رہی ہے ۔ اگر انتخابات اپنے طے شدہ وقت پر ہوتے ہیں تو پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اسوقت کچھ بھی واضح کرنے کو تیار نہیں دیکھائی دے رہا۔ لوگوں میں بڑھتا ہوا سیاسی و قانون شعور سوچنے والوں کو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ آنے وقت میں کیا پوشیدہ ہوسکتا ہے۔
جمہوریت سیاستدانوں کو اپنی سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی کے اظہار کا بھرپور موقع فراہم کرتی ہے مگر جمہوریت اخلاقیات کو تار تار کرنے کی اجازت نہیں دیتی جیسا کہ ساری دنیا کی جمہوریتوں سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ معاشرے اپنے طے شدہ اقدار کی روش پر سیاست کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔بشری تقاضے کے تحت وقتی طور پر جذباتی ہوا جاسکتا ہے مگر جذبات کی رو میں بہتے چلے جانا اور کسی گندے نالے یا جھوڑ کا حصہ بن جانا کہیں کی دانشمندی نہیں ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول اس بات کا تقاضہ کر رہا ہے کہ سیاست کا کوئی ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے عزت اور بے عزتی میں کوئی لکیر کھینچی جائے اور اگر آئین اور قانون تمام ثبوتوں اور گواہوں کی مدد سے کسی کو گنہگار ٹھرائیں تو تمام سیاسی جماعتیں آئین اور قانون کا احترام اپنے اوپر لازم قرار دیں۔ایک دوسرے پر تہمتیں لگانا کیچڑ اچھالنا نا توانسانیت اس کی اجازت دیتی ہے اور نا ہی ہمار ا دین اس کی اجازت دیتا ہے۔ سب کی عزتیں برابر ہیں ۔ آئین اور قانون کی بالادستی سے ہی ملک طاقتور ہوگا کسی بھی انتشار سے مقابلہ کرنے کا اہل ہوگا۔
ایم کیوایم پاکستان کے اس احسن اقدام کی بھرپور پذیرائی کی جانی چاہئے اور ایم کیوایم پاکستان نا صرف کراچی بلکہ پورے ملک کیلئے اپنا مثبت پیغام پہلائے ۔ ایم کیو ایم کو پھر سے ثابت کرنا ہوگا اور ہر روز ثابت کرنا ہوگا کہ انکی سیاست عوام کیلئے ہے ناکہ مفادات کیلئے۔ اب سب سیاسی جماعتیں طے کریں کہ پاکستان کی خدمت کرنی ہے جو کچھ کرنا ہے پاکستان میں ہی کرنا ہے ناکوئی ملک سے باہر جائے گا اور ناکوئی باہر سے آئے گا۔امید کی جاتی ہے کہ اس کانفرنس سے سیاسی افق پر مثبت منظر نامہ نمودار ہو ، پاکستان اور کراچی کیلئے امید افزاء ہو (آمین)۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *