نوازشریف کو کیوں نکالا گیا؟

tariq ahmed

میں اپنے کالموں اور پوسٹوں میں مسلسل لکھ رھا ھوں۔ تیسری افغان جنگ کا آغاز ھونے جا رھا ھے۔ جس میں پاک فوج حصہ لے گی۔ ادھر یمن اور شام عراق کے میدان جنگ میں بھی ھماری افواج کی ضرورت ھے۔ جنرل راحیل شریف پہلے ھی سعودی عرب میں سنی مسلم ممالک کی افواج کے سربراہ بن چکے ہیں ۔ نواز شریف ان دونوں جنگی زونز میں پاک افواج کو بھیجے سے انکار کر چکے تھے۔ خاص طور پر یمن اور قطر کے ایشوز پر نواز شریف حکومت نے اپنی غیر جانبداری قائم رکھی تھی۔ نواز حکومت کا یہ بھی خیال تھا۔ ھم پہلے ھی اپنی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصروف ھیں۔ یمن اور عراق شام کی شورش میں ملوث ھونے سے پاک افواج اوور سٹریچ ھو جائیں گی۔ اور ایران کے ساتھ تعلقات بھی بگڑ جائیں گے۔ افغانستان، یمن اور عراق شام میں کودنے سے نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی میں بے پناہ اضافہ ھو جائے گا۔ بلکہ پاکستان کی ترقی کرتی معیشت بھی رک جائے گی اور سی پیک کو شدید نقصان پہنچے گا ۔ اور پاکستان عدم استحکام کا شکار ھو جائے گا۔ انہی قومی تحفظات کی وجہ سے نواز شریف حکومت نے اپنے ذاتی دوستوں یعنی سعودیوں کو انکار کر دیا ۔ حالانکہ ان سعودیوں کے نواز شریف پر بے شمار احسانات تھے۔ اس ابھرتی خطرناک صورتحال کا مقابلہ کرنے اور سعودی امریکی دباؤ سے نکلنے کے لیے نہ صرف ملک کو تیزی سی معاشی طور پر خود کفیل بنانے کی کوشش کی گئ۔ بلکہ سفارتی طور پر وسط ایشیا، روس اور چین کی جانب روابط استوار کیے گئے۔

Image result for nawaz sharif

لیکن نواز شریف کی ان پالیسیوں کی سپورٹ کرنے کے بجائے مڈل ایسٹ اور سعودی عرب میں نوکریاں کرنے والے جرنیلوں نے سعودی اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر نواز شریف کو حکومت سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی۔ یاد رھے۔ سعودی کراون پرنس اور وزیر دفاع محمد بن سلمان ایک بتیس سال کا نوجوان ھے۔ جو پہلے سے موجود قانونی ولیعہد کو اپنے باپ کی مرضی سے ھٹا کو آگے آیا ھے۔ شہزادہ محمد نوجوان ھونے کی وجہ سے خاصہ خود سر اور جوشیلا شخص واقع ھوا ھے۔ سعودی شیعہ رہنماؤں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ تب سے سعودی ایران سفارتی تعلقات منقطع ھیں۔ یمن میں لگاتار بمباری کے باوجود حوثی باغیوں سے قبضہ نہیں چھڑوایا گیا۔ یہی حال شام میں ھے۔ قطر کا صرف اتنا قصور تھا۔ کہ اس نے سعودی عرب کے پیچھے لگ کر ایران سے اپنے تعلقات منقطع نہیں کیے۔ دوسری جانب نواز شریف نے نہ صرف شہزادہ محمد کو یمن میں فوج بھیجنے سے انکار کیا۔ بلکہ سنی افواج کا حصہ بھی بننے سے انکار کر دیا۔ اور اس سے بڑھ کر یہ جرم کیا۔ کہ ایران کے ساتھ آزادانہ تعلقات قائم رکھے۔ قطر کے ساتھ ایل پی جی گیس کا معاہدہ کیا۔ جس سے پاکستان میں گیس کی لوڈشیڈنگ تقریبا ختم ھو گئ۔ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ، پانچ ارب ڈالر تک کی برآمدات، پانچ ھزار میگاواٹ ایرانی بجلی کی فراہمی اور سی پیک میں ایران کی شمولیت ۔ یہ صورتحال کچھ ممالک کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ جب سے نواز شریف نے سعودی عرب کو انکار کیا تھا۔ نواز شریف کی مشکلات کا آغاز ھو گیا تھا۔ اور پانامہ لیکس کا استعمال شروع ھوا۔ ٹرمپ کے سعودی دورے میں نوازشریف کو باقاعدہ بے عزت کیا گیا۔ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان میں کلبھوشن یادیو کو نکالا گیا۔ اور جب نواز حکومت نے پالیسی کے تحت راحیل شریف کو سعودی عرب جانے کے لیے نوٹیفکیشن سے انکار کیا۔ تو ڈان لیکس کو نکال لیا گیا۔ اور جونہی یہ نوٹیفکیشن جاری ھوا۔ ڈان لیکس کا معاملہ حل ھو گیا۔ اگر ان تمام واقعات کو آپس میں جوڑا جائے تو تصویر مکمل ھو جاتی ھے۔ مقصد نواز شریف کو نکالنا تھا۔ تاکہ کچھ طاقتور اندرونی و بیرونی افراد کی اناووں کو مطمئن کیا جائے اور پالیسیاں تبدیل کی جائیں ۔ کچھ لوگ اس سازش کا باقاعدہ حصہ تھے۔ کچھ کو استعمال کیا گیا۔ اور کچھ مثالیت پسند خواب دیکھ رھے تھے۔ اور کچھ نواز شریف سے نفرت کرتے تھے۔ ورنہ کرپشن اور احتساب کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اور وقت اسے ثابت بھی کر رھا ھے ۔ اللہ سے خیر مانگنی چاھیے ۔ جو جمہوری سیٹ اپ بچا ھے۔ وہ چلتا رھے۔ تاکہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ورنہ حالات بہت بگڑ جائیں گے۔ اس لیے کہ انہی ریٹائرڈ جرنیلوں کے پر اسرار دورے اب بھی جاری ھیں ۔ اور ایک کیر ٹیکر حکومت کی بازگشت سنائی دے رھی ھے۔ جو ان بیرونی ایجنڈوں کو پورا کر سکے۔ وہ الگ بات کہ اچھے خاصے چلتے پاکستان کا بیڑا غرق ھو جائے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *