شاباش چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

ثاقب مشتاق

saqib mushtaq

مسئلہ فقط غربت اور ناخواندگی نہیں قانون کی حکمرانی اور اس سے زیادہ اپنی مثال سے راہنمائی ہے ۔ انسانی کردار کی تشکیل آسان نہیں ۔ ایک ایک دھاگا پرونا پڑتا ہے۔ گاہے بالکل سامنے کی سچائی کو آدمی پا نہیں سکتا ۔ اس کا اپنا انداز فکر۔ اس کے تعصبات ہمالیہ جیسی رکاو ٹ بن جاتے ہیں ۔ اہل علم اسے حجاب کہتے ہیں ۔ قانون کی حکمرانی اور اقتدار کی پاسداری وہ ماحول تخلیق کرتی ہے جرم جس میں پنپ نہیں سکتا صرف سزا ہی نہیں معاشرے میں تذلیل کا خوف ہی جرائم کا سدباب کرتا ہے۔ قانون کی گرفت آسودہ معاشروں میں بھی ٹوٹ جائے تو مجرم بے خوف ہوجاتے ہیں ۔
ایک ضرب المثل ہے کہ تاخیر سے ملنے والا انصاف ، انصاف نہ ملنے کے برابر ہوتا ہے۔پاکستان کے عدالتی نظام کا ایک بڑا المیہ یہ بھی رہا ہے کہ مختلف وجوہات کی بناء پر لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہوتی رہی ہے ایک نسل سے شروع ہونے والی مقدمہ بازی بسا اوقات تیسری نسل پر آکر ختم ہوتی رہی ہے۔ تاہم موجودہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کے سرپر یہ سہرا جاتا ہے کہ انہوں نے ہر ممکن طریقے سے انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ وکلاء کی بے جا ہڑتالوں ، حیلے بہانوں سے پیشیاں لینے کے کلچر کی حوصلہ شکنی عدالتی عملے کی رشوت ستانی کی عادت کو ختم کرنے و ماتحت عدلیہ کے پاس وسائل کی کمی کو پورا کرتے ہوئے انہوں نے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ عام آدمی کو جلدی اور سستا انصاف موثر آسکے ۔ سید منصور علی شاہ کا ایک بڑا اقدام مصالحتی عدالتوں کا قیام ہے ۔ حال ہی میں لودھراں میں قائم ہونے والی مصالحتی عدالت میں 44سال سے زیر سماعت مقدمہ بازی میں دو فریقین کے مابین صلح کروا دی ۔

Image result for justice mansoor ali shah
جمرانی واہ تحصیل کہروڑپکا ضلع لودھراں کے رہائشی اسماعیل اور عبدالعزیز وغیرہ کے درمیان 26کنال اراضی کا تنازعہ عرصہ تقریبا 44سال (1973)سے چل رہا تھا ۔ کیس سول کورٹ ، سیشن کورٹ ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد واپس سول کورٹ آ گیا تھا ۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لودھراں ملک منیر احمد جوئیہ نے کیس کی نوعیت کو پرکھتے ہوئے کیس مصالحتی سینٹر کے جج سید علی وقاص بخاری کو بھجوا دیا ۔ انچارج مصالحتی سینٹر سید علی وقاص بخاری نے فریقین کے درمیان مصالحت کروا دی اور تین نسلوں سے جاری یہ دعویٰ مصلحت کے ذریعے ختم ہوگیا ۔ صلحُ پر بہت خوش ہیں اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ منصور علی شاہ ۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک منیر احمد جوئیہ اور مصالحتی جج سید علی وقاص بخاری کے شکر گزار ہیں ۔ مصلحت کے بعد محمد اسماعیل ، 80سالہ عبدالعزیز اور 60سالہ محمد اکرم نے دی نیشن کو بتایا کہ ہمارا وراثت کا کیس 44سال پرانا کیس ہے جو میرے دادا نے دائر کیا تھا اس وجہ سے ہمارے خاندان میں اختلافات تھے جو نسل در نسل چلے آرہے تھے ۔ پھر یہ کیس سپریم کورٹ سے ریمانڈ ہوکر واپس سیشن کورٹ میں آگیا جبکہ ہمارے وکلاء کا اصرار تھا کہ کیس کا فیصلہ قانون کے تحت کیا جائے ۔ جہاں پر مصالحتی سینٹر کے انچارج سید علی وقاص بخاری نے بڑی محنت کے بعد فریقین میں صلح کروا دی جس پر ہم یقیناًبہت خوش ہیں ۔لیکن دوسری طرف ہماری تین نسلیں تباہ ہوگئی ہیں ۔ نا توہم تعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکے اور نہ ہی اکیسویں صدی کی تعمیر وترقی سے اپنی نئی نسل کو روشناس بھی نہ کروا سکے ۔ہمارا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مطالبہ ہے کہ یہ مصالحتی سینٹر تحصیل لیول پر بھی قائم کیے جائیں تاکہ لوگوں کوانصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ امر مانع نہ ہو۔ جس میں کم وقت میں فریقین کا راضی نامہ ہوجائے تاکہ آنے والے نسلوں میں بھائی چارہ اور پیار محبت پھر سے ایک ہو جائے۔
پاکستان 70سال کا ہوگیا ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کو اللہ تعالی نے اُن لوگوں کے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا جو مال ودولت نہ ہونے کی وجہ سے انصاف حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ پنجاب کی عدالتی تاریخ میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کی پیشہ وارانہ خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا ۔ سید منصور علی شاہ نے جس وژن کے ساتھ مصالحتی کورٹ متعارف کروائے ہیں اور پھر اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا ہے اس کی تاریخی مثال آپ کے سامنے ہے ۔ سامنے ہے کہ 44سال کیس لڑنے کے بعد جب تین نسلیں تباہ ہوگئیں تو آخر مصالحتی کورٹ نے ان کا مسئلہ حل کروا دیا ۔ دو فریقین کے درمیان صلح کروانا ثواب بھی اور سنت رسول ﷺ بھی ۔ تو اس طرح چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ ثواب کیساتھ سنت بھی ادا کررہے ہیں ۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب کے ان اضلاع میں جہاں ابھی تک جہالت کے اندھیرے چھائے ہیں ۔ مصالحتی کورٹ امید کی کرن بن کراُبھر رہے ہیں اور اپنی ماتحت ڈسٹرکٹ عدالتوں میں فوری اور سستا انصاف بنانے کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں ۔ لودھراں میں تعینات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ملک منیر احمد جوئیہ نے اس کیس میں ذاتی دلچسپی لے کر اس فیملی کو مزید تباہی سے بچا لیا ۔جبکہ لودھراں کے مقامی سیاستدان اور جاگیردار یہ کارنامہ سرانجام کرنے سے گذشتہ 44سال سے قاصر رہے ہیں ۔ ضلع لودھراں کی سول سوسائٹی جن میں ڈاکٹر اشرف ملک (پی ایچ ڈی ) حکیم محمد آصف ( پبلک ویلفےئر آرگنائزیشن ) ڈاکٹر سید محمد جعفر رضا ۔ ڈاکٹر ثمینہ مطلوب ( الغنی ڈیلپمنٹ )چوہدری محمد علی ارائیں ۔ محمد طفیل ٹھاکر ایڈووکیٹ ۔ مرزا سلیم اختر ( اولمپیا ایسوسی ایشن ) چوہدری سلیم کمبوہ ( صدر متحدہ انجمن تاجران ) ملک عطا اللہ اعوان ( وسیب فاؤنڈیشن) تاصم مسعود بٹ ( صدر مرکزی انجمن تاجران) عفت طاہر سومرو ایڈووکیٹ ۔ ملک خادم حسین المعروف بھورا ارائیں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس 44سالہ پرانے کیس کا فیصلہ مصالحتی کورٹ کے ذریعے حل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور اس بابت کا اعادہ کیا کہ ہماری آنے والی نسلیں اب عدالتوں اور تھانوں کے چکروں سے آزادپاکستان کی تعمیر وترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریگی ۔ بلکہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے گا ۔ ضلع لودھراں کی تقریبا 70یونین کونسلوں اورتینوں تحصیلوں کے 70شہری وارڈز کے( آبادی تقریبا () لوگ اب اس بات کو آسانی سے سمجھ رہے ہیں کہ اب عدالتی نظام تبدیل ہوگیا ہے ۔ مہینوں اور سالوں میں ملنے والا انصاف اب منٹوں اور گھنٹوں میں مل رہا ہے۔ سید منصور علی شاہ جیسے ایماندار ، قابل اور فرض شناس چیف جسٹس کی نگرانی میں پنجاب کی عدالتیں سستا اور فوری انصاف دے رہی ہیں ۔ چیف جسٹس جس دن لودھراں تشریف لائے بار روم میں چیف جسٹس کے خطاب کو سننے کے لیے دور دراز سے لو گ جوق در جوق تشریف لائے جبکہ بار روم میں وکلاء سے زیادہ سول سوسائٹی سمیت عام شہریوں کی کثیر تعداد یہ بتارہی تھی کہ وہ پرانے عدالتی نظام سے تنگ آچکے ہیں آپ کے اس نئے نظام یعنی مصالحتی کورٹ ، ماڈل کورٹ وغیرہ سے مطمین ہیں ۔ لودھراں کی عوام خاص طور پر اس خاندان کے لوگوں نے 44سالہ پرانا کورٹ مصالحت کورٹ سے حل ہونے پر چیف جسٹس لاہور ہائی کور ٹ سید منصور علی شاہ۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لودھراں ملک منیر احمد جوئیہ اور انچارج مصالحتی کورٹ سید علی وقاص بخاری کو جھولیاں اٹھا کر دعائیں دیں ۔ سول سوسائٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے درخواست کی کہ مصالحتی کورٹ کو پورے پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی قائم کریں تاکہ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں کے لوگ بھی اس سہولت سے فوری اور سستا انصاف حاصل کرسکیں ۔ عمر بن الخطابؓ کے بارہ سالہ سنہری دور میں پانچ سال قحط
کے تھے۔ لوٹ مار کے کتنے واقعات رونما ہوئے ؟چھوٹی سی بچی چلی جاتی تھی ۔ امیر المومنین نے پوچھا :کون ہے یہ ؟ سننے والے دنگ رہ گئے ۔ کہا آپ کی پوتی ہے امیر المومنینؓ ۔ کم خوراکی نے اس کا چہرہ بدل ڈالا تھا ۔
مسئلہ فقط غربت اور ناخواندگی نہیں قانون کی حکمرانی اور اس سے زیادہ اپنی مثال سے راہنمائی ہے ۔ انسانی کردار کی تشکیل آسان نہیں ۔ ایک ایک دھاگا پرونا پڑتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *