شوگر کوٹڈ

gul-nokhaiz

مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ''اگر میاں بیوی کے تعلقات کشیدہ رہتے ہیں تو اس سے مرد کو شوگر ہونے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ امریکی یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی خاتون پروفیسر کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے بعد نوک جھونک اور خاتون کی شکایتیں ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتیں بلکہ اس کے صحت پر اچھے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین نے اس کے لیے ایک ہزار سے زائد شادی شدہ جوڑوں کا 5 سال تک مطالعہ کیا جن کی عمریں 57 سے 85 سال تھی، ان میں سے 389 جوڑوں کے کسی ایک رکن کو آخر میں شوگر کا مرض لاحق ہو گیا تھا۔ ماہرین نے اپنے 5 سالہ مطالعے میں نوٹ کیا کہ منفی ازدواجی زندگی نہ صرف مردوں میں شوگر کو روکتی ہے بلکہ اگر کوئی اس مرض کا شکار ہو تو وہ اس کی بہتر نگرانی اور علاج میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ شکایتی بیویاں شوہر کے کھانے پینے اور صحت کے معاملات پر بھی نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں اور اس طرح سے وہ شوگر کے مرض سے دور رہتے ہیں جب کہ اس کے برخلاف شادی شدہ خواتین کی پُرسکون زندگی شوگر کو 5 سال کے لیے ٹال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کی بیوی جھگڑالو ہے اور شکوہ کرتی رہتی ہے تو اس سے آپ کے جسم پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ایسے مرد شوگر جیسے امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق خواتین میں اس کا الٹ اثر ہوتا ہے یعنی خوشگوار زندگی گزارنے والی خواتین میں شوگر سے متاثر ہونے کا خدشہ بہت کم ہوتا ہے‘‘ ... تحقیق ختم ہوئی!
اگر یہ واقعی درست ہے تو اصولی طور پر پاکستان میں کسی شوہر کو شوگر نہیں ہونی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں جس شادی شدہ بندے کو شوگر نہ ہو‘ سمجھ جانا چاہیے کہ موصوف گھر میں نہایت ''عزت‘‘ سے رہتے ہیں۔ میں نے تو جب سے یہ تحقیق پڑھی ہے احتیاطاً عوامی مقامات پر چینی کا استعمال کم کر دیا ہے تاکہ احباب کو تاثر دیا جا سکے کہ گھریلو فضا کتنی خوشگوار ہے۔ میرے وہ دوست جنہیں ابھی تک شوگر نہیں ہوئی انہیں بھی یہ مرض لاحق کروانے کے لیے سنجیدگی سے کوششیں کرنی چاہئیں‘ کہیں ایسا نہ ہو شوگر نہ ہونے کے چکر میں عزتِ سادات بھی جائے۔ اور وہ دوست جو اِس مرض کا شکار ہو چکے ہیں انہیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ انہیں بیٹھے بٹھائے ایک اچھی بیوی کا شوہر ہونے کا این او سی مل گیا ہے۔ آج کے بعد اگر آپ کا کوئی دوست چائے میں دو چمچ چینی کی ڈیمانڈ کرے تو ایک لمحے میں سمجھ جائیں کہ قبلہ بذات خود اور ان کی بیگم ایک پیج پر نہیں۔
امریکن یونیورسٹی نے تو تحقیق میں پانچ سال لگا دیے‘ اگر وہ مجھ سے رابطہ کرتے تو میں بلا تحقیق انہیں کچھ ایسی چیزیں بتاتا جو سو فیصد درست ثابت ہوتیں۔ مثلاً یہ کہ جن شوہروں کی بیویاں لڑائی کے دوران گھریلو برتنوں کا استعمال کرتی ہیں ان کے شوہر زندگی میں بہت سے خطرات کو پیشگی بھانپ لیتے ہیں۔ جن کی بیویاں شکی ہوتی ہیں ان شوہروں کے موبائل سکیورٹی لاک جیسی خرافات سے پاک رہتے ہیں۔ جن کی بیویاں بات بات پر شکوے کرتی ہیں وہ رات کو جلدی سونے اور صبح اٹھ کر جلدی دفتر روانہ ہونے کی نعمت پا جاتے ہیں۔ چونکہ ہر عمل کا ایک ردِ عمل ہوتا ہے لہٰذا بیویاں اگر مختلف مزاج کی ہوں تو لامحالہ شوہروں کے مزاج میں بھی اُسی حساب سے تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ جھگڑالو بیویوں کے بہت سے فائدے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے آج تک دریافت نہیں ہو سکے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ جس گھر میں جھگڑالو بیوی ہوتی ہے وہاں آپ کا کوئی رشتہ دار بلا وجہ ہی منہ اٹھائے نہیں چلا آتا۔ یاد رہے کہ یہاں ''آپ کے رشتہ دار‘‘ سے مراد صرف آپ ہی کے رشتہ دار ہیں‘ بیگم کے ماں‘ باپ ‘ بھائی‘ بھابی‘ ماموں‘ چچا اس سے مستثنیٰ ہیں۔
جھگڑالو بیوی کے ہوتے ہوئے آپ محلے میں بلا وجہ نیک اور معصوم مشہور ہو جاتے ہیں۔ آپ بے شک تین وقت کے جواریے ہوں لیکن اگر بیگم جھگڑالو ہے اور ہر وقت چیختی چلاتی ہے تو یقین کر لیجئے کہ اہل محلہ یہی سمجھتے ہیں کہ یا تو آپ ایک شریف اور خاندانی آدمی ہیں یا ''ڈورے مان‘‘ ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کے شادی شدہ مردوں کی اکثریت شریف اور خاندانی قرار پاتی ہے۔ جھگڑالو بیویاں عموماً دل کی بُری نہیں ہوتیں‘ صرف ہاتھ کی بُری ہوتی ہیں۔ ایسے میں انسان کو صرف دل پر دھیان دینا چاہیے‘ دل ٹوٹے تو کبھی نہیں جڑتا‘ ہاتھ پائوں کی ہڈی کے تو ایک سو ایک ڈاکٹر موجود ہیں۔ جھگڑالو بیوی کا یہ فائدہ کیا کم ہے کہ اس کے ساتھ بازار جاتے ہوئے آپ کو ہر وقت ایک تحفظ کا احساس رہتا ہے۔
بعض بیویاں اونچا بولتی نہیں اونچا سنتی ہیں‘ شوہر اگر کہے کہ آج میری بہن آ رہی ہے تو یہ جواب میں یا تو خاموش رہتی ہیں یا ہلکا سا ''ہوں‘‘ کر دیتی ہیں۔ شوہر دوبارہ کنفرمیشن چاہے تو آگے سے ''والیوم ٹین‘‘ میں آواز آتی ہے... ''آہو! سن لیا اے‘ میں کوئی ڈوری نئیں۔‘‘ لیکن کبھی کبھی بندے کا تجزیہ غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے‘ مثلاً میرے ایک دوست کو شبہ ہوا کہ اُن کی اہلیہ اونچا سننے لگی ہیں۔ موصوف ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور کوئی دوائی طلب کی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مریض کو دیکھے بغیر کیسے دوا تجویز کی جا سکتی ہے۔ دوست نے درخواست کی کہ چونکہ اہلیہ بہت غصیلی ہیں لہٰذا وہ کبھی نہیں مانیں گی کہ انہیں ثقل سماعت کا عارضہ ہے لہٰذا آپ اندازے سے کوئی دوا لکھ دیجئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ لمحے سوچا‘ پھر بولے ''ایک کام کیجئے! صرف اتنا پتا کر لیجئے کہ آپ کی اہلیہ کتنا اونچا سنتی ہیں؟ اس کے بعد مجھے دوا کی مقدار تجویز کرنے میں آسانی رہے گی۔‘‘
دوست نے حیرت سے پوچھا‘ یہ مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کتنا اونچا سنتی ہیں؟‘‘
ڈاکٹر نے اطمینان دلایا کہ ''بڑا آسان طریقہ ہے‘ پہلے اپنی اہلیہ کو 15 فٹ کے فاصلے سے آواز دیجئے‘ اگر وہ نہ سنیں تو پھر 10 فٹ کے فاصلے سے آواز دیجئے... اگر پھر بھی کوئی رسپانس نہ آئے تو مزید قریب جائیے اور پانچ فٹ کے فاصلے سے آواز دیجئے... جتنے فاصلے سے وہ آواز سن لیں وہ فاصلہ مجھے آ کر بتا دیجئے، میں سمجھ جائوں گا کہ دوا کی مقدار کیا رکھنی ہے‘ علاج آسان ہو جائے گا‘‘
قبلہ بہت خوش ہوئے اور فوراً گھر پہنچے۔ بیگم کچن میں کھانا تیار کر رہی تھی۔ انہوں نے اپنے بوٹ وغیرہ اتارے‘ بیڈ روم سے کچن کا فاصلہ اندازے سے ناپا اور 15 فٹ کے فاصلے سے آواز لگائی ''بیگم آج کھانے میں کیا ہے؟‘‘۔ جواب میں ''پن ڈراپ سائیلنس‘‘ رہی... فوراً اٹھے‘ پانچ قدم آگے بڑھے اور اب کی بار 10 فٹ کے فاصلے سے آواز لگائی ''بیگم ! آج کھانے میں کیا پکا ہے؟‘‘۔ جواب ندارد۔ یہ پانچ قدم مزید آگے بڑھے اور لگ بھگ کچن کے دروازے پر پہنچ کر تیسری دفعہ بولے ''بیگم آج کھانے میں کیا پکا ہے؟‘‘۔
ہانڈی میں ڈوئی گھماتی ہوئی بیگم ایک جھٹکے سے مُڑیں اور پوری قوت سے چلائیں ''وے کنی دفعہ دساں... آلو قیمہ پکا اے‘‘۔

(گل نوخیزاختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)


اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *