ٹرمپ  کی موشگافیاں 

عبدالباسط

abdul basit (2)

ڈونلڈ ٹرمپ بڑی مشکل سے سعودی عرب کا دورہ کر کے کچھ انسان ہونے کا شک پڑا تھا ہوا تھا ۔لیکن اچانک ایسا کیا ہوا کہ پھر وہ مرتد ہو گیا ۔لگتا ہے سعودی عرب کے شاہی کھانوں کا خمار اتر گیا ہے اور اس نے بیان داغ کر اپنے داغوں کو مزید بڑھا لیا ہے۔دوست پوچھ رہا تھا وجہ کیا بنی اتنا سخت بیان دینے کی ،میں نے کہا دو وجوہات ممکنہ ہو سکتی ہیں ایک تو یہ جناب نے خوب چڑھا لی ہے اور دوسری لگتا ساتھ،، سور ،،کی پوری ران ہی کھا گے ہیں اب اس کے اثرات کب تک رہتے ہیں یہ وقت بنائے گا ۔یہ ڈونکی ٹرمپ صاحب نہیں بول رہے جناب اس کے پیچھے سی پیک کی وجہ سے پیدا ہونے والا کینسر پھوڑا ہے ،بڑی کوشش کی بڑا دباؤ بھی ڈالا گیا بڑے پیغام بھی ،دھمکیاں بھی ،کہ چائنہ سے دور ہی  رہیں۔ لیکن جب ہر بات کا جوان ناں  میں ملا تو تلملایا بلکہ بڑبڑایا،یہ بڑبڑاہٹ نہیں بوکھلاہٹ ہے ۔وہ اچھا بزنس مین تو ہو سکتا ہے سیاست دان نہیں ۔ایسا بے وقوف انسان ہے جس کو امریکہ والے بھی سیریس نہیں لیتے ،جس کی گھر میں عزت نہ ہو باہر خاک ہونی ہے ۔ٹرمپ کی تلملاہٹ ،خفگی،اور گیدڈ بھبھکی ہم نے سنی بھی ہے اور جواب بھی دینا جانتے ہیں ۔ہم سیاست میں حریف ہو سکتے ہیں لیکن اپنے وطن کے لیے ایک ہیں ۔ٹرمپ صاحب عمران سے زرداری تک ،عوام سے حکمران تک ایک ہیں ۔یہ ملک ہے کوئی امریکن کالونی نہیں۔بھارت کی دم پر  چائینہ کا رکھا پاؤں اپنے اثرات دیکھا رہا ہے۔ٹرمپ صاحب ہم ۲۰۰۱ سے آپ ہی کی مسلط کردہ جنگ کو لڑ رہے ہیں ۷۰ ہزار لوگ ،بموں ،گولیوں ،اور دھماکوں کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں ۔ہمیں اس کا ادراک بھی ہے اور درد بھی ۔

Image result for funny trump

اب آپ کو یاد آگیا سب کچھ ،تیرے تین ہزار سورمے مرے اور میرے اس سے زیادہ جوان سرحدوں پر اور ملک کی سلامتی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ہم جذباتی ضرور ہیں۔لیکن آپ جیسے بھیڑیوں کے ساتھ نصف صدی سے لڑ رہے ہیں۔آپکی نس نس سے واقف ہی ۔زمینی حقائق اور ٹرمپ کے بیان میں بہت فرق ہے۔اب پاکستان کو دھمکی دینا دنیا کی اکنامک پاور کو للکارنے کے مترادف ہے ۔مالک نے پاک سر زمین ہی ایسی بنائی ہے۔جس کی جغرافیائی اور اسٹریجک اہمیت نے روس سے چین اور پھر امریکہ تک کو مجبور کر دیا ہے ۔پاکستان کی بقا ان سپر پاوروں کی بقا ہے ۔ہماری ایک نسل جو اب جوان ہے اس کو امریکہ کی جنگ میں جھونکا گیا اور ہم پرائے کی جنگ کو چند ٹکوں اور معمولی فوائد کے عوض لڑتے رہے۔ٹرمپ صاحب ہم کسی کی جنگ لڑ سکتے ہیں تو اپنی کیوں نہیں ؟پالیسی بنانا آسان اور اس کو لاگو کرنا بہت مشکل کام ہے ۔جب سے ٹرمپ صاحب نے بیان دیا ہے اس وقت سے اب تک ہماری قوم میں اتحاد اور لیڈروں میں یک جہتی کی فضا دیکھنے کو ملی ہے۔اللہ کرے ہر دو ماہ بعد کوئ ٹرمپ نما بھیڑیا بیان دیتا رہے اور ہم متحد ہو کر جواب دیتے رہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *