قطر کا سعودی عرب کو انکار، ایران سے ہاتھ ملالیے!

قطر ایئر ویز

قطر نے سعودی عرب سمیت چار عرب ممالک کے مطالبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایران سے اپنے تمام سفارتی رابطے بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ابھی تک سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادیوں کا قطر کے اعلان پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

قطر میں اپنے سفیر کی ایران میں واپسی کی کسی تاریخ کے بارے میں نہیں بتایا تاہم یہ اعلان قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کی اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ٹیلی فون پر رابطے کے بعد کیا گیا۔ قطر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ'دونوں نے باہمی تعلقات میں مشترکہ مفادات پر مبنی متعدد معاملات کو بہتر کرنے پر بات چیت کی۔'

بیان میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ قطر کی ہمسایہ ممالک سے تنازعے کے دوران ایران نے نہ صرف قطر ایئر ویز کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جبکہ بحری اور فضائی جہازوں کے ذریعے قطر کو روز مرہ استعمال کی اشیا بھیجیں۔سعودی عرب اور سعودی عرب

قطر میں 2016 میں اس وقت ایران سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے جب ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانوں پر حملے کیے گئے تھے۔ یہ حملے سعودی عرب کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو سزائے موت دینے پر مشتعل ہو کر کیے گئے تھے۔ تاہم اب قطر تمام شعبوں میں ایران سے اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

رواں برس جون میں جب سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت ایران نے قطر کی آگے بڑھتے ہوئے مدد کی تھی :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *