معراج دین آڑھتی اور اس کا نازک اندام بکرا

ata-ul-haq-qasmi

دو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میرا کالم لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ میں نے کالم کا آغاز ہی اپنی اس ذہنی کیفیت کے بیان سے کیا اور اتفاق یہ کہ وہی کالم ہٹ ہوگئے۔ جس پر دوستوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یار! آئندہ تم کالم لکھا ہی اس وقت کرو جب تمہارا کالم لکھنے کو جی نہ چاہ رہا ہو۔ آپ یقین کریں کہ میں نے کل سے یہ پروگرام بنایا ہوا تھا کہ میں آج کالم نہیںلکھوں گا۔ تنگ آگیا ہوں روز ایک جیسے موضوعات پر کالم لکھتے لکھتے۔ چنانچہ کل میں بکر منڈی چلا گیا۔ بکرا خریدنے کے لئے نہیں بلکہ ذرا شو شا بنانے کے لئے چنانچہ کئی لوگوں نے پوچھا ’’قاسمی صاحب! کتنےبکرے خریدنے کا پروگرام بنا کر آئے ہیں؟‘‘ میں اس دوران جان بوجھ کر صرف ان بکروں کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہا تھا۔ آڑھتی جن کی قیمت لاکھوں میں بتا رہے تھے اس سے دیکھنے والوں پر اور زیادہ رعب پڑ رہا تھا!
اس د وران میری نظر ایک بکرے پر پڑی کیا حسین و جمیل بکرا تھا۔ نازک اندام سا، تھوڑی سی زنانہ جھلک بھی نمایاں تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ کئی بکرے اسے رشک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے اور ایک آدھ کو تو میں نے اسے معیوب نظروں سے بھی دیکھتے دیکھا۔ میں آڑھتی کے پاس گیا اور پوچھا ’’سنائو بھئی! کتنے پیسے مانگو گے اور کتنے میں دے دو گے؟‘‘ میں نے محسوس کیا کہ وہ میری بات پر دھیان کم دے رہا ہے اور مجھے دیکھتا زیادہ چلا جارہا ہے۔ کچھ لمحے کے بعد اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’آپ ٹی وی پر کوئی پروگرام بھی کرتے ہیں؟‘‘ میں اس کے سوال پر حیران ہو گیا ا ور میں نے کہا ’’ہاں، ’’کھوئے ہوئوں کی جستجو‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام کرتا ہوں۔‘‘ بولا ’’کیا آپ مجھےاس پروگرام میں بطور مہمان نہیں بلاسکتے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’اس میں مختلف شعبوں کے بڑے نامور لوگوں کو بلایا جاتا ہے ورنہ میںآپ کو ضرور زحمت دیتا۔‘‘ بولا ’’آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’آڑھتی!‘‘ اس پر یہ ستم ظریف کہنے لگا ’’میں نے آپ کے پروگرام میں ایک دو دفعہ مختلف شعبوں کے آڑھتی بھی دیکھے ہیں!‘‘ میں نے کھسیانا ہو کر کہا ’’ممکن ہے آپ ٹھیک کہتے ہوں مگر وہ اپنے شعبے کےبہت مشہور آڑھتی ہوںگے۔‘‘ بولا ’’تو آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں؟ یہاں کسی سے بھی پوچھیں معراج دین آڑھتی کو جانتے ہو وہ آپ کو بتائے گا میں کون ہوں۔ میں جناب سارے پاکستان کے آڑھتیوں کی انجمن کا صدر ہوں!‘‘
میں نے سوچا موضوع بدلنا چاہئے چنانچہ کہا ’’اس موضوع پر آپ سے پھر بات کرتے ہیں پہلے یہ بتائیں آپ اس بکرے کا کیا لیں گے؟‘‘ اس پر وہ ناراضی کے عالم میں بولا ’’جناب! آپ نے اسے بکرا کہا ہے۔ یہ شہزادہ ہے شہزادہ۔‘‘ میں نے کہا ’’ٹھیک ہے شہزادے کا کیا لو گے؟‘‘ پیشتر اس کے کہ میں بات آگے چلاتا، اس نے کہا ’’میں آپ کو بتا دوں کہ یہ شہزادہ جوآپ کے سامنےکھڑا ہے بڑے بڑے اونچے خاندانوں کے رشتے اس کے لئے آتے ہیں مگر یہ انکار کردیتا ہے۔‘‘ یہ سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔ میں نے کہا ’’بکریوں میں بھی اعلیٰ خاندان پائے جاتے ہیں؟‘‘ بولا ’’آپ میرے ساتھ لبرٹی چلیں۔ وہاں بڑے بڑے خاندان کی بکریاں شاپنگ کے لئے آئی ہوں گی۔‘‘ میں نے اسے ٹوکااور کہا ’’بھائی آپ انہیں بکری تو نہ کہیں۔‘‘ بولا ’’چلیں نہیں کہتا مگر میں نے ایک بکری پالی ہوئی ہے وہ میں اپنے ساتھ لےجائوںگا اسے بھی دیکھئے گا وہ اسے کسی بڑے خاندان ہی کی سمجھے گا!‘‘
میں سمجھ گیا کہ یہ شخص آڑھتی کم اور مسخرہ زیادہ ہے چنانچہ میں نے اس سے اجازت چاہی اور ابھی جانے ہی کو تھا کہ میرے کانوںمیں ایک آواز آئی ’’حضور! ایک آدھ نظر ادھر بھی ڈال لیں۔‘‘میں نے دیکھا تو یہ خوبرو بکرا تھا جس کے لئے بہت معزز گھرانوں کے رشتے آئے تھے مگر وہ انکارکرتا رہا ہے۔ میں نے کہا ’’بولو سرکار!‘‘ اس پر اس نے بایاں ہاتھ ہوا میں لہرایا۔ تھوڑی سی کمر لچکائی اوربہت ناز و ادا سے بولا ’’میں آپ کو کیسا لگا ہوں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’ایک دم شاندار‘‘ اس نے پھر کمر لچکائی اور آنکھیں مٹکاتےہوئے بولا ’’اس معراج دین آڑھتی کو تو میری قدر ہی نہیں۔ یہ پرلے درجے کا بے وقوف ہے۔ یہ مجھے پیسے لے کر کسی سیٹھ کے پاس بیچ دے گا اور وہ میرے گلے پر چھری پھیر دے گا..... اس گدھے کو علم ہی نہیں کہ میں کون ہوں، کیا ہوں۔ اس کو تو اس وقت بھی سمجھ نہیں آتی جب میں اچھے اچھے رشتوں سے انکار کرتا ہوں..... میں کیوں کسی کی زندگی خراب کروں میں پہلے کچھ بن تو لوں پھر شادی بھی کرلوں گا۔‘‘ یہ سن کر معراج دین آڑھتی دوبارہ میرے پاس آگیا اور بولا ’’آپ کو اس کی باتوں کی کچھ سمجھ آئی؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ’’کچھ کچھ تو سمجھ آگئی ہے باقی آپ سمجھا دیں‘‘ بولا ‘’یہ کہتا ہے کہ اس کے کئی بھائی بند اس وقت صف اول کے فیشن ڈیزائنز ہیں اور وہ کروڑوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان میں کئی صف اول کے اینکر بھی ہیں اور اس کا خیال ہے کہ اس میں وہ ساری جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں موجود ہیں جو ان میں ہیں..... آپ ہی اسے سمجھائیں!‘‘
میں نے ایک نظر اس نازک اندام خوبرو بکرے کو دیکھا اور اس کی ادائوں کو دھیان میں لایا اور معراج دین سے کہا ’’یہ ٹھیک کہتا ہے مجھے جب کبھی موقع ملا اس کی خواہش کی تکمیل کی طرف کوشش کروںگا۔‘‘ یہ سن کر اس نازک اندام اور نازک ادائوں والے بکرے نے کچھ ایسی مست نظروں سے مجھے دیکھا کہ چند لمحوں کے لئے مجھے محسوس ہوا کہ میرا تعلق بھی اس کے ’’قبیلے‘‘ سے ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *