معروف مذہبی رہنما جنسی زیادتی کیس میں مجرم قرار !

111

چندی گڑھ ۔ بھارت کی ایک عدالت نے ڈیرہ سُچا سودا کے روحانی پیشوا گرمیت رام رحیم سنگھ کو جنسی زیادتی کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو پیر کے روز سنایا جائے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گرمیت رام رحیم سنگھ 2002 سے جاری مقدمے کی سماعت کیلئے پنکچولہ کی عدالت میں پیشی پر 200 کاروں کے قافلے میں آئے۔ عدالت نے انہیں کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے پیر کے روز فیصلہ سنانے کا اعلان کردیا جس کے بعد ڈیرہ سچا سودا شریف کے روحانی پیشوا کو گرفتار کرکے امبالہ کی جیل منتقل کردیا گیا۔

گرمیت رام رحیم کی پیشی کے موقع پر پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں میں سیکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی اور دونوں ریاستوں میں پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ آرمی کو بھی سٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔ گرمیت رام رحیم کی پیشی سے پہلے ہی ان کے ڈیڑھ لاکھ پیروکار پنکچولہ اور ڈیرہ سچا سودا کے ہیڈ کوارٹر سرسہ میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔

View image on TwitterView image on Twitter

Visuals of Army vehicles in the vicinity of Panchkula's Special CBI Court 

پولیس نے عدالت کے حکم کے بعد گرمیت رام رحیم سنگھ کو گرفتار کرکے امبالہ جیل منتقل کردیا ہے ، پیر کے روز گرمیت سنگھ کو جیل میں ہی سزا سنائی جائے گی۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ملزم کو سات سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

View image on TwitterView image on Twitter

Dera Chief  found guilty of rape: Heavy security near Panchkula's Special CBI Court 

واضح رہے کہ 2002 میں گرمیت رام رحیم سنگھ کی دو عقیدت مند خواتین نے اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو خط لکھ کر اپنے روحانی پیشوا پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد وزیر اعظم کے حکم پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اور 15 سال بعد آج (جمعہ کو) کیس کا فیصلہ سنادیا گیا ہے۔

: Ram Rahim Singh's convoy in Panchkula on way to Special CBI Court (Earlier Visuals) 

خیال رہے کہ رام رحیم سنگھ کے پورے بھارت میں کروڑوں پیروکار ہیں، ان کی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ صرف دہلی شہر میں ان کے عقیدت مندوں کی تعداد 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے،وہ مذہبی پیشوائی کے علاوہ فلم پروڈکشن، ڈائریکشن اور گلوکاری بھی کرتے ہیں۔ وہ بھارت کے ان 36 وی وی آئی پی لوگوں میں شامل ہیں جنہیں زی کیٹگری کی سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے، جو کسی بھی عام وی آئی پی سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *