شیریں رحمان کی ایسی حرکت سامنے آ گئی کہ ہنگامہ برپا ہو گیا !

2

اسلام آباد ۔ پاکستان میں وی آئی پی کلچر کی وجہ سے عام آدمی بری طرح پس رہا ہے جبکہ وی آئی پیز پروٹوکول سے لطف اندوز ہوتے ہیں،پیپلز پارٹی عام آدمی کے نام پر سیاست کرتی ہے اور گذشتہ دنوں چترال سے واپسی پر پی آئی اے کے طیارے میںچیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی پی آئی اے کی اکانومی کلاس میں سفر کی تصویریں شئیر کرکے وی آئی پی کلچر کی مخالفت کی گئی لیکن اب پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنماءسینیٹر شیری رحمان کے لئے ایک پاکستانی فیملی کی نشست کو کینسل کردیا گیا اور انہیںو ی آئی پی کلاس میں سفر کرایا گیا۔ کراچی میں فلاحی کاموں کے لئے سوشل میڈیا پر”فکس اٹ“ کے نام سے مہم شروع کرنے والے عالمگیر خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک آدمی کی کہانی شیئر کی ہے جس میں آدمی کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز وہ اسلام آباد ائر پورٹ پر پہنچے جہاں ہم نے سیرین ائر لائن کی پرواز ای آر 503 کے ذریعے جانا تھا اور ہم نے پہلے ہی ٹکٹیں حاصل کر لی تھیں،ہماری پرواز 4بجے روانہ ہونا تھی اور ہمیں پہلے سے حاصل کی گئی نشستوں2C،2D،2Eاور2Fکے بورڈنگ پاس بھی دے دئیے گئے جس کے بعد ہم ڈیپارچر لاونج میں چلے گئے،30منٹ کے بعد میرے بڑے بیٹے احمد کا نام پکارا گیا جب میں کاﺅنٹر پر گیا تو مجھے بتایا گیا کہ ہمیں سیٹ 2ایف تبدیل کرنا ہوگی،میں نے انکار کردیا ، کچھ دیر کے بعد سپروائزر آگئی اور اس نے مجھے بتایا کہ سسٹم کی خرابی کے باعث آپ کو سیٹ 2سی دے دی گئی ، میں نے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک ہی سیریز کی نشستوں میں مسئلہ پیدا ہوجائے ، وہ خاتون چلی گئی اور اس کے بعد ایک اور خاتون بھی آگئی جس کے بعد وہی کہانی دہرائی گئی جب میں نے خاتون سے ثبوت مانگا تو اس نے کہا کہ ایک خاتون کے لئے کتنا مشکل کام ہوتا ہے اور اسے اپنی فیملی کی سپورٹ کرنا ہوتی ہے اس خاتون نے مجھ سے تعاون کرنے کو کہا ، میں نے خاتون سے کہا کہ مجھے اصل کہانی بتاﺅ تو پھر اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے بیٹے کی محمد کی سیٹ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحما ن کو دے دی گئی ہے،اس لئے آپ میرے ساتھ تعاون کریںورنہ میرے لئے مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ خاتون کی منت و سماجت کے بعد میں نے محمد کا بورڈنگ پاس اس کے حوالے کردیا۔

یہ پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے یہاں پر وی آئی پیز کو فائدہ دینے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں،اس وی آئی پی کلچر کو فروغ دینے میں کہیں نہ کہیں ہماراہاتھ بھی ضرور ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *