ٹرمپ کی افغان پالیسی اورجوابی آپشنز

khalid mehmood rasool

کئی ماہ کے غور و غوض اور ڈیڈ لائن کی توسیع کے بعد بالآخر ڈو نالڈ ٹرمپ نے اپنی افغان پالیسی کا اعلان کر دیا۔ اس پالیسی سے قبل انہوں نے افغان جنگ پر مامور جنرلز کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان عسکری کمانڈرز کا کام مزید مشکل یوں ہو گیا کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے اسے بے کار کی جنگ قرار دیا اور وعدہ کیا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وہ صدر بنے تو اپنے اس انتخابی وعدے سے بالآخر انہیں دستبردار ہونا پڑا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدارتی میز کے اس جانب بیٹھ کر دنیا یکسر مختلف نظر آتی ہے ، اس لئے وہی کرنے کا پڑا جو ان کے مشیروں اور عسکری صلاح کاروں نے سمجھایا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر کے لئے ایک فوجی اجتماع کا انتخاب کیا جو علامتی طور پر بہت اہم اشارہ ہے۔ بنیادی نکات میں نمایا ں باتیں کچھ یوں تھیں کہ افغانستان کی قوم سازی سے اب مزید کوئی دلچسپی نہیں۔ اب مرکزی نکتہ صرف اور صرف دہشت گردوں کا صفایا ہو گا۔ افغانستان سے انخلاء کا کوئی شیڈول نہیں ہے، جب تک اہداف پورے نہیں ہوتے امریکی جنگ جاری رہ سکتی ہے۔ مزید فوجی افغانستان میں بھیجے جائیں گے جس کی تعداد انہوں نے تو نہیں بتائی لیکن اس قبل اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع نے فوری طور پر 3,900 فوجی بھیجنے کی تصدیق کی۔ اپنے جرنیلوں کو میدان جنگ میں کھلا ہاتھ دیتے ہوئے انہیں پیش آمدہ حالات دیکھ کر فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا کہ جو زمینی حالات کا تقاضا ہو کر ڈالیں۔
صدر ٹرمپ کی تقریر نے کچھ نئے پنڈوڑا باکس اور خدشات کے کئی نئے ابواب بھی کھول دئے ہیں۔ افغانستان اور امریکہ جنگ میں ان دو ممالک کے علاوہ پاکستان ایک کلیدی کردار کا حامل رہا ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر پاکستان شاکی رہا ہے اور اپنے تحفظات کا واشگاف انداز میں اظہار کرتا رہا ہے۔ بھارت اب تک افغانستان میں دو ارب ڈالرز کے لگ بھگ سرمایہ کاری کر چکا ہے۔اس سرمایہ کاری کی آڑ میں حکومتی پالیسی حلقوں اور اشرافیہ میں بھارت اپنی جگہ بنا نے میں بہت حد تک کامیاب رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی نئی افغان پالیسی میں بھارت کے براہِ راست ایک کلیدی کردار کے لئے اصرار کیا ہے۔ اپنے مخصوص کاروباری انداز میں انہوں نے کہا کہ بھارت امریکہ کے ساتھ تجارت میں اربوں ڈالر کماتا ہے، اس لئے اسے چاہئیے کہ افغانستان میں ترقیاتی کاموں کے لئے امداد دے۔ بھارت کے دارلحکومت دہلی میں بجا طور پر اس پالیسی کی تحسین کی گئی کہ اس کے ذریعے بھارت کو علاقائی برتری اور چوہدراہٹ کا خواب پورا کرنے کی آس نظر آئی۔
صدر ٹرمپ کی تقریر میں پاکستان پر براہِ راست الزامات بھی لگائے گئے اور وارننگ بھی دی گئی۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ کا سدا بہار الزام دوہرایا کہ پاکستان میں ان شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جن سے ان کا ملک جنگ کر رہا ہے۔ ان کا یہ اعلان کہ اب ایسا نہیں چلے گا، اپنے اندر خوفناک امکانات لئے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ الزام نہ صرف ا فغانستان کی حد تک لگایا بلکہ خطے میں دیگر ممالک کے لئے بھی پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ بھارت کافی عرصے سے دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کے ملک میں دہشت گردی کے ڈانڈے پاکستان کی سرزمین سے ملتے ہیں۔ گذشتہ سال برکس کی سربراہ کانفرنس میں بھارت نے اس الزام کو اختتامی اعلانیے میں شامل کروانے کی ناکام کوشش کی کہ چین اور روس دونوں نے بھارت کے اس موقف کو رد کر دیا۔ صدر ٹرمپ حکومت کے ساتھ بھارتی سفارت اور لابنگ کی کوششیں بظاہر بار آور ثابت ہوئیں اور وہ صدر ٹرمپ سے پاکستان پر اس قدر خوفناک الزام لگوانے میں کامیاب ہوا۔
اس تقریر کی بقول شخصے ابھی سیاہی خشک نہ ہوئی تھی کہ امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن نے پاکستان کے بارے میں سخت لہجہ اور انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نوٹس پر ہے۔ اسٹیٹ آفس کی ایک اور بریفنگ میں ایک سینئر اہلکار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے اوپر پابندیا ں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔ ان پابندیوں میں ایسے ریاستی اہلکاروں کے نام بھی شامل کئے جا سکتے ہیں جن کے بارے میں امریکہ کو گمان ہے کہ وہ شدت پسندوں کی معاونت کرتے ہیں۔
پاکستان نے اس کا کیا جواب دیا اور کیا جواب دینا چاہئے، یہ بحث زور و شور سے شروع ہو گئی ہے۔ اخبارات کے صفحات دیکھیں تو بقول ایک سینئر صحافی کے ہمارے سیاستدانوں نے امریکہ کو مونہہ توڑ جواب دیا ہے۔ اب ہماری بد قسمتی کہ امریکہ صدر اور انتظامیہ ہمارے اخبارات نہیں پڑھتے۔ اختلاف اور باہمی سیاسی دشمنی میں کھرے اکثر سیاست دانوں کو اس دوران حکومت کو لتاڑنا نہ بھولا۔ کسی نےٌ حکومت ڈری ہوئی ہے ٌ کی پھبتی کسی تو کسی نے کہا کہٌ صدر ٹرمپ وہی بولی بول رہے ہیں جو نواز شریف چاہتے تھے ٌ ۔ اس سے قبل بھی اور اس پالیسی تقریر کے بعد آرمی چیف نے واشگاف انداز میں واضح کیا کہ پاکستان کو امداد کی ضرورت نہیں اور یہ کہ پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کے ضرورت ہے۔
پاکستان کے پاس کیا کیا آپشنز ہیں؟ تجزیہ کاروں اور دانش وروں کا ایک خاصا بڑا طبقہ مصر ہے کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے اور اپنی ناکامی کی خفت اور تکلیف میں ہے۔ پاکستان اس کی طرف سے معاشی، عسکری یا محدود سفری پابندیوں کا بوجھ زیادہ دیر نہیں سہار سکے گا۔ یہ تشویش بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو سکتا ہے۔ بلکہ کچھ تجزیہ کار صدر ٹرمپ کی تقریر اور بعد ازاں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے کہی جانے والی باتوں سے یہ اندیشہ بھی اخذ کر رہے ہیں کہ امریکہ پاکستان کی سرحدوں کے اندرسرجیکل کاروائیاں کر سکتا ہے۔ ایسی کاروائیوں کی مزاحمت پاکستان کو مزید مشکل میں ڈال سکتی ہے۔
ان جملہ مشکلات میں یہ بھی شامل ہے کہ پاکستان کے مالیاتی اشاریے انتہائی پریشان کن اشارے دے رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو جلد ہی اپنی بین الاقوامی مالیاتی ادائیگیوں کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا جس پر امریکہ کا براہِ راست اثر و نفوذ ہے۔آئی یم یف کے انکار یا لیت و لال کی صورت میں پاکستان کے لئے شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
تجربہ کار سفارت کاروں اور عالمی امور پر گہر ی نظر رکھنے والوں میں سے کئی ایک کا خیال ہے کہ اس نازک صورت حال میں پاکستان کے پاس بھی چند آپشنز ہیں لیکن ان آپشنز کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ استعمال کر نا ہوگا۔ تمام ریاستی اداروں میں مکمل تعاون اور اتحاد ضروری ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کو انتہائی فعال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس فورم پر سیاسی اور عسکری قیادت باہمی مشورے سے فیصلے کریں۔ امریکہ کے ساتھ تعاون میں ایک فون کال پر خود سپردگی کی بجائے فیصلے قومی سلامتی کمیٹی میں سیاسی و عسکری قیادت کرے۔ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے جس کے لئے موجودہ سیاسی گرمئی بازار کو مناسب حدود میں رکھنا ضروری ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی رسد کے لئے پاکستان کے زمینی اور ہوائی راستے نہایت اہم اور کلیدی ہیں۔ ماضی کی روایت کے برعکس اس بار فیصلے جلد بازی میں نہ کئے جائیں۔ اپنے دوست ممالک سے مشاورت اور سفارتی مدد کی کوششیں بہت ضروری ہیں۔
سی پیک منصوبوں پر کام اورمزید منصوبوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اکونومی میں خود انحصاری پہلی ترجیح ہو۔ امپورٹ کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ایکسپورٹ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ بجٹ خسارے کو کنٹرول میں لانا قومی ترجیح ہو۔ پارلیمنٹ کو اعتماد میں ضرور لیا جائے لیکن فیصلہ سازی کا اختیار قومی سلامتی کمیٹی کو دیا جائے جس کے باقاعدہ اجلاس منعقد کئے جائیں۔ صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی میں امریکی جرنیلوں کا زیادہ عمل دخل رہا ہے اور سفارت کاری کا کم۔ پاکستان کی واشنگٹن اور کابل میں سفارت کاری کو بہت بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاملات کو بالآخر مذاکراتی حل کی طرف لانے کی سعی جاری رہے۔
براہِ راست تصادم سے حتی الوسع گریز کیا جائے۔ اشتعال کی صورت میں ٹھہراؤ اور تدبر کی ضرورت ہے۔ اس دوران شدت پسند اپنی کاروائیوں سے ملک کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ، لہٰذا ٰ دہشت گردی کے خلاف کاروایؤں کو مستقل جاری رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈبل گیم کے تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی سلامتی کی ترجیحات شفاف اور شدت پسندی پر دو ٹوک بیانیہ رکھنے ہی میں ملک کی بھلائی ہے۔ پاکستان اس وقتی دباؤ کو قومی اتفاق اورخود انحصاری سے برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے، اس لئے بلا وجہ کے ہیجان اور باہمی الزام تراشی سے گریز کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *