پاکستان کے داماد

faisal butt

راقم ایک تارکِ وطن ہے اور ترکِ وطن کا فیصلہ خالصتاً رضاکارانہ تھا۔ راقم کا تعلّق کسی مذہبی اقلیّت سے نہیں (البتّہ اس اقلیّت سے ضرور ہے جس کے نزدیک بنیادی شہری حقوق کے تحفّظ، ذاتی ترقّی کے مواقع اور ریاستی وسائل تک رسائی میں مذہب اور فرقے کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے)۔ سیاست سے تعلّق بھی سیاستدانوں پر بلا امتیاز و تفریق تبرّیٰ بھیجنے تک محدود ہے۔ اصل حکمرانوں کے باب میں خاکسار کی پالیسی "جس کو ہو جان و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں" والی ہے۔ لہٰذا راقم کے ترکِ وطن میں ریاستی جبر کا کوئی دخل نہیں تھا۔ حالات کا جبر بھی اس حد تک تھا کہ تعلیم مکمّل کرنے کے بعد اور جگہوں کے علاوہ دو عدد جامعات میں بھی درخواستیں دیں۔ ان مین ایک تو وہ جامعہ تھی جہاں سے راقم نے خود تعلیم حاصل کی تھی اور دوسری ایک غیر ملکی جامعہ تھی جس کے نام سے اس کے طلبہ اور ملازمین کے علاوہ نہ اس زمانے میں کوئی واقف تھا نہ آج ہے۔ مادرِ علمی والے چونکہ راقم کے نام اور کام سے واقف تھے لہٰذا نوکری دینا تو درکنار انہوں نے انٹروہو کے قابل بھی نہیں سمجھا۔ اس کے بر عکس غیر ملکی جامعہ والے خاکسار کی شخصیّت اور اہلیت سے قطعی طور پر لاعلم تھے لہٰذا انہوں نے انٹروہو کا تردّد کئے بغیر ہی تقرّر نامہ بھیج دیا ("لا علمی نعمت ہے" والے مقولے کا ایک پہلو یہ بھی ہے)۔ خاکسار نے "پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ" کی بجائے بھی ہاتھ آئی نوکری نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور تارکینِ وطن میں شامل ہو گیا۔

ترکِ وطن کے بعد خاکسار پر دو انکشافات ہوئے۔ ایک تو یہ کہ راقم انتہائی محب وطن ہے۔ وطن سے محبّت کا جو جذبہ وطن میں رہنے پر قائل نہ کر سکا وہ بظاہر ترکِ وطن کے بعد اس شدّت سے موجزن ہوتا ہے کہ دل ہر آن ملک کے حالات پر کڑھتا ہے۔ خاکسار کو اس بات کا علم ان کالم نگاروں، دانشوروں اور صحافیوں کی تحاریر سے ہوا جو عموماً تارکینِ وطن کی دعوت اور خرچے پر بیرونِ ملک آتے ہیں اور واپس جا کر اپنے میزبانوں کی پاکستان سے والہانہ محبّت اور ملک کے لئے کچھ کرنے کی تڑپ کی بھرپور گواہی دیتے ہیں۔

 دوسرا انکشاف یہ ہوا کہ وطن کے اندر تو خاکسار محض ایک شہری تھا مگر وطن سے باہر آ کر ملک کے لئے اثاثہ بن گیا ہے۔ اس قدر افزائی کی وجہ وہ رقوم ہیں جو تارکینِ وطن پاکستان بھجواتے ہیں اور جو مبیّنہ طور پر زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کرتے ہیں۔ دوسروں کے بارے میں تو یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن خاکسار نے جب کبھی رقم پاکستان بجھوائی ہے تو اس کے پیچھے محض ذاتی غرض تھی نہ کہ اسٹیٹ بنک کی مدد کا جذبہ۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی معیشیت کو اگر کوئی فائدہ پہنچا تو وہ سراسر اتّفاقی تھا، خاکسار کا منشاء ہرگز نہیں۔

تاہم گھر آئی لکشمی کون ٹھکراتا ہے۔ یار لوگوں کے اصرار پر ہم تارکینِ وطن نے خود کو نہ صرف اثاثہ سمجھنا شروع کر دیا ہے بلکہ اس اثاثے کی مناسب دیکھ بھا کے لئے مطالبات بھی پیش کرنا شروع کر دیئے ہیں جن میں سے بعض کو سن کر ایسا لگتا ہے کہ تارکینِ وطن پاکستان کے برابر کے شہری سے زیادہ پاکستان کے داماد بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ویسے تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بھی کم و بیش اتنی ہی اقسام ہیں جتنی کہ اندرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی۔ تاہم دو گروہ واضح ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو روزی کمانے کی غرض سے بیرونِ ملک بالخصوص خلیجی ریاستوں میں مقیم ہیں اور اپنی آمدنی کا بڑا حصّہ پاکستان اپنے گھر والوں کو بھیج دیتے ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو بال بچّوں سمیت باہر مقیم ہے اور اپنی آمدنی کا بڑا حصّہ مقامی طور پر خرچ کرتا یے۔ اس طبقے کے پاس عموماً غیر ملکی شہریت بھی ہوتی یے اور ہر آنے والی نسل کے ساتھ اس کا پاکستان سے تعلّْق کمزور ہوتا جا رہا یے۔ پاکستانی معیشیت میں اس طبقے کا حصّہ اول الذّکر طبقے سے قدرے کم سہی مگر ملک کے لئے اپنی خدمات کا اعتراف کروانے کی تڑپ کہیں زیادہ ہے۔

ایک مطالبہ جو شدّومد کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے ووٹ ڈالنے کی سہولت ہے۔ اس مطالبے میں خاصا وزن ہے اور دنیا کے کئ ممالک اپنے شہریوں کو یہ سہولت دیتے ہیں (امریکہ اپنے شہریوں کو یہ حق اور سہولت دینے کے ساتھ ان سے یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ وہ دنیا میں جہاں کہیں بھی مقیم ہوں اپنی آمدن پر امریکی ٹیکس ادا کریں۔ امریکی ویزے کے حصول کی شدید خواہش اپنی جگہ لیکن اس معاملے میں امریکہ کی تقلید ہم پر ہرگز لازم نہیں)۔ اس ضمن میں راقم کے نزدیک جو بات توجّہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ جو پاکستانی سفارت خانے دن میں پاسپورٹ کی سو دو سو درخواستیں ڈھنگ سے نہیں بھگتا سکتے وہ ممکنہ طور پر ہزارہا ووٹوں سے کیسے نمٹ سکیں گے؟ اگر آپ جواباً ڈاک کے ذریعے ووٹ کی مثال دیں گے تو عرض ہے کہ جس ملک میں شناختی کارڈ کی پابندی اور پولنگ ایجنٹس کی پولنگ سٹیشنز پر بنفسِ نفیسں موجودگی بھی دھاندلی کا واویلا نہ روک سکے وہاں ڈاک کے ذریعے ترسیل کئے گئے ووٹوں پر جو غدر مچے گا اس کا تصوّر کرنا مشکل نہیں۔

اس سے ملتا جلتا ایک مطالبہ قومی اسمبلی میں تارکینِ وطن کے لئے نشستیں مخصوص کرنے کا ہے۔ یاد رہے کہ اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیّتوں کے لئے نشستیں مخصوص ہیں۔ ان سے خواتین اور اقلیّتوں کے حالات میں اگر کوئی بہتری آئی ہو تو راقم کو مطلع کر کے شکریے کا موقع دیں۔

اوپر کی سطور کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ راقم پاکستان میں اپنے لئے سہولتوں کا خواہشمند نہیں۔ دل تو خاکسار کا بھی چاہتا ہے کہ وطنِ عزیز میں چھٹیاں گذارنے کے دوران اگر بیمار ہونے کی حماقت کر بیٹھے تو ڈاکٹر کی فیس سن کر حالت مزید خراب نہ ہو، اگر کردہ و ناکردہ گناہوں کی پاداش میں کسی سرکاری یا نیم سرکاری محکمے جانا پڑ جائے تو بغیر خوار ہوئے کام بو جائے، گرمیوں میں بجلی اور سردیوں میں گیس کی فراہمی بلا تعطّل ہو، جسے بکرے کا گوشت سمجھ کر خریدا ہے وہ واقعی بکرے کا گوشت ہو وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کافی سوچ بچار کے بعد بھی کوئی ایسی وجہ نہیں ڈھونڈ پایا جس کی بناء یہ مسائل اندرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مقابلے میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے زیادہ تکلیف دہ ہوں۔ اب جہاں اندرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ساڑھے تین سو کے لگ بھگ نمائندے ان مسائل کو حل نہ کر سکے وہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ایک آدھ درجن نمائندے کیا توپ چلا لیں گے؟

ذاتی ظور پر خاکسار کو ترکِ وطن کے نتیجے میں جو مسائل درپیش ہیں ان میں تنخواہ کا ایک بڑا حصّہ ٹیکسوں کی مد میں چلا جانا ہے جسے بچانے یا چھپانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ کار پر حکومت صرف ٹیکس وصول کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتی بلکہ اسے ہر وقت ٹھیک حالت میں رکھنے پر بھی اصرار کرتی ہے۔ کہنے کو افسری ہے لیکن چائے کی طلب تو اٹھ کر خود بنانا پڑتی ہے۔ گھر کا نل ٹھیک کرانا ہو تو مستری صاحب سے باقائدہ وقت لینا پڑتا ہے اور اجرت دیتے وقت بیگم سے طعنہ سننا پڑتا یے کہ اگر کالج و یونیورسٹی میں وقت برباد کرنے کی بجائے ڈھنگ سے پیچ کس و پلاس پکڑنا سیکھ لیا ہوتا تو زندگی زیادہ بہتر گذر سکتی تھی۔

ان دکھوں سے نجات کے لئے اگر کسی کے پاس کوئی تجاویز ہوں تو خاکسار ہمہ تن گوش ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *