مرد ناراض نہ ہوں 

تہمینہ کنول
Image result for man flirting on social media
اسلام میں جہاں عبادات نماز ، روزہ، حج ، زکوۃ کا حکم دیا گیا ہے وہاں اخلاقیات کو سدھارنے کیلئے حیا کو بھی ایمان کا ایک جزء قرار دیا ہے ،پیغمبراسلام  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
الحیاء شعبۃ من الایمان:
کہ حیا ایمان کا حصہ ہے انسان کو اپنی عزتوں کی پاسداری کرنے کیلئے دوسرے مسلمان بھائیوں کی عزتوں کا دفاع کرنا پڑتا ہے ، بے حیائی کو اختیار کرنے پہ اسلام نے غیر شادی شدہ کے لیے بھی سزا رکھی جبکہ شادی شدہ شخص کے لیئے زیادہ سخت سزا رکھی ہے - بے حیائی کی ایک مثال میں آپ کے سامنے پیش کرتی ہوں کہ آجکل سوشل میڈیا پہ لڑکے، لڑکیوں سے پیار محبت کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر المیے کی بات یہ کہ ہمارے شادی شدہ لوگ بھی اس بری مرض میں مبتلا ہیں ۔ اور لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کیلئے طرح طرح کی لالچ دیتے ہیں جبکہ اگر حقیقت حال کو پرکھا جائے تو ہمیں دیکھنے کو آیا ہے کہ جو آدمی گھر میں پوری طرح خرچ نہیں دیتا اپنی بیوی بچوں کو پوری طرح پیار نہیں دیتا اور اپنے گھر والوں کے پوری طرح حق نہیں ادا کرتا وہ سوشل میڈیا پہ لڑکیوں کو طرح طرح کی آفرز کرواتا ہوا نظر آتا ہے جبکہ اس پیار کے صحیح حقدارتو اسکے اہل و عیال تھے اس محبت بھری باتوں کی ضرورت تو اسکی بیوی کو تھی لیکن اسنے انکا حق غیر کو دے کر اپنے رب کو ناراض اور شیطان کو خوش کرلیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر حقدار کو اسکا حق ادا کرو۔نوجوانوں کا ایسے معاملات میں پڑنا بھی کسی برائی سے کم نہیں مگر شادی شدہ لوگوں کا ایسے کام کرنا تو بہت ہی شرمناک بات ہے ۔اسلام نے بھی شادی شدہ زانی کی سزا رجم رکھی ہے اسکی وجہ بھی یہی ہے کہ جب اس کے پاس اسکے گھر میں بیوی موجود ہے پھر بھی یہ باہر منہ مارے تو اسکی سزا یہی بنتی ہے ۔اسی طرح لڑکیوں کو شادی کی پیشکش کرنے انہیں پیار ومحبت کی باتیں کرکے اپنے اور انکے ذہنوں پہ شیطان کی کاری ضرب لگائی جاتی ہےجبکہ اسلام نے غیر محرم لڑکی یا عورت سے پیار و محبت کی باتیں کرنے اور اسے لالچ وغیرہ دے کر اپنے جال میں پھنسانے کو حرام قرار دیا ہے اور حتی کہ مومنین کو تو حکم دیا کہ اپنی نگاہیں جھکا لیں جب اسلام عورت کو نگاہ اٹھا کر دیکھنے تک کی اجازت نہیں دیتا اسے بھی حرام کہتا ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ عورت سے پیار کی گفتگو کو جائز کہے گا بلکہ اس پہ تو اس سے بھی زیادہ سخت گناہ دیا جائے گا اور شادی شدہ شخص تو ڈبل گناہ کا حقدار ٹھہرے گا ایک یہ گناہ کرنے پہ اور دوسرا اپنی بیوی کا حق مارنے کا ،اگر کوئی شخص اس کام کو جائز سمجھ کر کرتا ہے وہ سوشل میڈیا  پہ کرے تو میرا اس سے سوال ہے کہ اگر یہی چکنی چپڑی محبت سے لبریز گفتگو کوئی آپ کی بیوی سے کرے تو آپ اجازت دیں گے اس پہ تو فورا آگ بگولا ہوجائیں گے کیونکہ اسکی عزت کو داغ لگے گا لیکن افسوس کہ وہ خود کتنیوں کی عزتوں کو داغدار کرچکا ہے انہی کاموں کی وجہ سے معاشرے میں طلاقیں بھی واقع ہوجاتی ہیں اور معاملات بہت حد تک بگڑ جاتے ہیں اللہ ہمیں محفوظ فرمائے آمین!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *