رضا ربانی کا انتخاب، کس کے لیے پیغام؟

رؤف طاہرrauf

 پیپلز پارٹی کے جناب رضا ربانی بلا مقابلہ پارلیمان کے ایوانِ بالا کے چیئرمین منتخب ہوگئے۔ زرداری صاحب کا یہ بلاشبہ ماسٹر اسٹروک تھا۔ جناب وزیراعظم اور ان کی مسلم لیگ کی نظریں اس اُمیدکے ساتھ5مارچ کو منعقد ہونے والے سینیٹ کے الیکشن پر لگی ہوئی تھیںکہ وہ اس میں سنگل لارجسٹ پارٹی کی حیثیت اختیار کر لے گی اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ اسے ایوانِ بالا میں کمفرٹیبل میجارٹی حاصل ہوجائے گی۔ حالیہ الیکشن سے قبل پیپلز پارٹی 104 کے ایوان میں 41ارکان کے ساتھ سنگل لارجسٹ پارٹی تھی۔ مسلم لیگ(ن) کے 14 ارکان تھے۔ الیکشن سے قبل زرداری صاحب اسلام آباد آکر بیٹھ گئے۔ ان کا کہنا تھا، مسلم لیگ (ن) بڑے دل کا مظاہرہ کرے، اس کے لئے انہوں نے اپنی مثال پیش کی اور یاد دلایا کہ انہوں نے سینیٹ کے گزشتہ الیکشن میںدوسری جماعتوں کے لئے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ان کے حق سے زیادہ دے دیا تھا۔ کہا جاتا ہے، یہ ان کا ’’حسنِ طلب‘‘ تھا۔ وہ مسلم لیگ(ن) سے پنجاب سے ایک نشست مانگ رہے تھے لیکن مسلم لیگ(ن) نے سنی ان سنی کردی اور پنجاب اور وفاق سے تمام نشستیں جیت لیں۔ سندھ میں اس نے پیرپگارا کے اُمیدوار کو سپورٹ کیا لیکن یہاں بعض مسلم لیگیوں کی سرکشی نے رحمن ملک کی فتح کی راہ ہموار کردی۔ (وہ پیپلز پارٹی کے کامیاب اُمیدواروں میں آخری نمبر پر رہے)۔ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کے ساتھ خاموش مفاہمت کے نتیجے میں مسلم لیگ(ن) کو ایک زائد نشست حاصل ہوگئی جبکہ بلوچستان میں اسے اس کی توقعات سے دو نشستیں کم ملیں(یہاں بھی اسے اپنے ہی دوستوں نے یہ دن دکھایا تھا)۔
فاٹا کی 4نشستوں کے سوا، الیکشن مکمل ہوا تو پیپلز پارٹی 27نشستوں کے ساتھ مسلم لیگ(ن) سے ایک نشست آگے تھی۔ بلوچستان میں سردار یعقوب ناصر کو شکست دینے والے آزاد اُمیدوار جمال دینی کی شمولیت کے ساتھ یہ تعداد 28ہوگئی۔ ایوانِ بالا کی سربراہی کے لئے مسلم لیگ(ن) نے زرداری صاحب کے روایتی حلیفوں سے بھی رابطہ کیا۔ اِسے آپ جمہوریت کا حسن کہہ لیں، کہ اس میں دُوریاں قربتوں میں بدلتی ہیں۔ شہباز شریف نے فون پر الطاف حسین سے بات کی(کہا گیا ، یہ رابطہ 17 سال بعد ہوا تھا)۔ پرویز رشید اور سعد رفیق نے چوہدریوں کی قاف لیگ سے رابطہ کیا لیکن مسلم لیگ(ن) نے دیر کر دی تھی۔ زرداری صاحب پہلے ہی بساط بچھا چکے تھے۔ کھیل مسلم لیگ(ن) کے ہاتھ سے نکل گیا اور زرداری صاحب نے چھوٹے گروپوں کی تائید و حمایت کے ساتھ جناب رضاربانی کو اُمیدوار نامزد کردیا۔ نتیجہ سب کو نظر آرہا تھا، وزیراعظم نے جوڑ توڑ کے کھیل کو طوالت دینے کی بجائے، زرداری صاحب کے اُمیدوار کو اپنالیا۔ خواجہ سعد نے تو5مارچ کی شب الیکشن کا نتیجہ آتے ہی، اپنی ’’ذاتی رائے‘‘ کا اظہار کردیا تھا کہ دونوں بڑی جماعتیں، چھوٹے گروپوں سے سودے بازی کے چکر میں پڑنے (اور یوں ان کی بلیک میلنگ میں آنے)کی بجائے اتفاقِ رائے سے اپنا اُمیدوار لے آئیں۔
رضاربانی پارلیمان کے ایوانِ بالا کی سربراہی کے لئے یقینا ایک موزوں شخصیت تھے۔ (شروع میں رحمن ملک کا نام بھی پڑھنے سننے میں آیا جس پر بعض سنجیدہ عناصر کا تبصرہ تھا، پاکستان کی پارلیمنٹ کی قسمت میں یہ دن بھی لکھا ہے)۔ رضاربانی کے ساتھ اعتزاز احسن کا نام بھی آیا تھا لیکن رضاربانی اپنی متانت اور سنجیدگی کے اعتبار سے بھی اعتزاز سے زیادہ قدآور تھے۔ ہمارے بعض دوستوں نے رضاربانی کی جمہوریت پسندی اور آئین سے وفاداری کو مسئلہ بنایا۔ انہیں21ویں ترمیم کے موقع پر رضا کے آنسو بھی یاد آئے اور یوں وہ یہ دُور کی کوڑی لائے کہ ان کی نامزدگی سے اسٹیبلشمنٹ کو بہت سخت (یاغلط) میسج گیا ہے۔ نومنتخب چیئرمین کے طور پر وہ ان کی تقریر کے اس حصے کو بھی ’’سرکشی‘‘ کا عنوان دے سکتے ہیں جس میں انہوں نے پارلیمان پر یلغار کی صورت میں اس کی مزاحمت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رضاربانی کا رویہ، بلاشبہ ان کے منصب کے شایانِ شان تھا۔
کاغذاتِ نامزدگی کامرحلہ مکمل ہوا، ان کے (بلامقابلہ) منتخب ہوجانے میں کوئی شک نہیں رہا تھا، لیکن انہوں نے الیکشن کے رسمی عمل کی تکمیل اور چیئرمین شپ کا حلف اُٹھانے کے بعد ہی اپنے چیمبر کا رُخ کیا۔ وہ اس سے قبل بھی ایک شاندار مثال پیش کرچکے تھے۔ ادھر چیئرمین شپ کے لئے ان کی نامزدگی کا اعلان ہوا، اُدھر وہ پیپلزپارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی ہوگئے کہ یہ منصب جماعتی حیثیت سے بالاتر ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔ دُنیا بھر کے جمہوری معاشروں میں بھی یہی روایت ہے اور پاکستان میں بھی اسی کی پیروی کی جاتی رہی ہے۔ بدقسمتی سے جناب زرداری کا معاملہ مختلف رہا۔ وہ مملکت کے سب سے بڑے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی پارٹی کے شریک چیئرپرسن رہے۔ تب ایوانِ صدر پارٹی کی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ جہاں صدرِ مملکت ، اپنی پارٹی کے اجلاسوں کی صدارت بھی فرماتے ، یہاں تک کہ عدالتِ عالیہ کو ان کے اس خلافِ آئین رویے کا نوٹس لینا پڑا۔
وزیراعظم نے ڈپٹی چیئرمین شپ کے الیکشن سے بھی دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔ چیئرمین شپ سندھ کو مل جانے کے بعد، وہ ڈپٹی چیئرمین شپ پربلوچستان کا حق فائق سمجھتے تھے۔( قومی اسمبلی میں سپیکر پنجاب سے ہے تو ڈپٹی سپیکر خیبرپختونخواسے)وہ چاہتے تھے سینیٹ کی ڈپٹی چیئرمین شپ کا فیصلہ بلوچستان کی جماعتیں خود کر لیں۔ یہ عہدہ مولانا لے اُڑے اور بلوچستان میں اپنے دیرینہ رفیق مولانا غفور حیدری کو بھاری اکثریت سے منتخب کرانے میں کامیاب رہے۔ کپتان نے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا لیکن آخرکار اسے درست فیصلہ کرنے کی توفیق مل گئی۔ کہا جاتا ہے، اِسے اس راہِ راست پر لانے میں سیاسی ذہن رکھنے والے اس کے اپنے رفقا کے علاوہ سراج الحق صاحب کا بھی ہاتھ تھا۔غفور حیدری کے مدمقابل تحریکِ انصاف کے فراز شبلی کے 16ووٹ سب کے لئے حیرت کا باعث تھے۔ ایک روز قبل سینیٹر ہمایوں مندوخیل کی شمولیت کے بعد تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد سات ہوگئی تھی۔ ایک ووٹ سراج الحق کا تھا۔ تو یہ باقی ماندہ 8ووٹ کہاں سے آگئے۔ ایک بابر اعوان کا ہوسکتا ہے، جو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دائر کردہ ہتک عزت کے دعوے میں عمران کے وکیل ہیں۔ تو باقی سات کون ہیں؟ اس میں قاف لیگ والے بھی ہوسکتے ہیں اور آزاد ارکان بھی۔
مذہبی اور فرقہ ورانہ دہشت گردی والی 21ویں آئینی ترمیم کی مخالفت میں مولانا نے یہ فقرہ بھی کسا تھا ، سزا سے بچنا ہے تو داڑھی منڈواؤ، پگڑی اُتارو اور صولت مرزا اور اجمل پہاڑی بن جاؤ۔ پھانسیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کی خبر بھی آئی لیکن پھانسی ملتوی ہوگئی۔ اب ایم کیوایم کے مرکز نائین زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے ساتھ، صولت مرزا کے نئے ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کی خبر بھی آگئی۔ 19مارچ پھانسی کی تاریخ قرار پائی ہے جس کے لئے اِسے بلوچستان کی مچھ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ نائن زیرو پر چھاپہ ، اسلحہ کی برآمدگی اور خطرناک لوگوں کی گرفتاریوں کے ساتھ، صولت مرزا کی پھانسی…… 21ویں ترمیم کے مذہبی اور فرقہ ورانہ پہلو پر احتجاج کرنے والے عناصر کو نوید ہو، ضربِ عضب غیر مذہبی اور غیر فرقہ ورانہ کارروائیوں کے خلاف بھی بروئے کار آرہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *