امریکی صدر نے توہین عدالت کے مجرم کو معاف کردیا!

صدر ٹرمپ اور جو آرپائیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست ایریزونا کے شیرف جو آرپائیو کو معاف کر دیا ہے ان پر توہینِ عدالت کا الزام تھا۔ 85 سالہ آرپائیو کو اس وقت مجرم قرار دیا گیا تھا جب انھوں نے مشتبہ تارکینِ وطن کی نگرانی کرنے کے عدالتی حکم کو نظرانداز کر دیا تھا۔ انھیں اکتوبر میں سزا سنائی جانی تھی۔

صدر نے ایریزونا کے شہر فینکس میں منگل کو اس بات کا اشارہ دیا تھا۔

صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آرپائیو نے کہا کہ انھیں 'وزارتِ انصاف میں صدر اوباما کے دور کی باقیات کی جانب سے سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔' انھوں نے ٹویٹ کی: شکریہ۔۔۔ میرے خلاف فیصلے کو سمجھنے کے لیے۔' انھوں نے کہا 'میں کہیں نہیں جا رہا،' تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ وہ آئندہ شیرف کا انتخاب لڑیں گے یا نہیں۔

ٹرمپ پہلے کئی بار آرپائیو کی تعریفیں کر چکے ہیں جو تارکینِ وطن کے خلاف سخت اور متنازع موقف کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ آرپائیو سنہ 2016 میں صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران کئی بار نظر آتے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے معافی کے بیان میں لکھا: 'آرپائیو کی زندگی اور کریئر 18 برس کی عمر میں شروع ہوئے جب انھوں نے کوریا کی جنگ شروع ہونے کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی۔ شیرف کی حیثیت سے آرپائیو نے عوام کو جرم اور غیر قانونی تارکینِ وطن سے بچانے کے لیے خدمات سرانجام دیں۔

'اب جب کہ ان کی عمر 85 برس ہے، ہماری قومی کی 50 برس تک قابلِ قدر خدمت کرنے کے بعد وہ صدارتی معافی کے لیے مستحق امیدوار ہیں۔' جو آرپائیو کا نام اس وقت خبروں میں آنا شروع ہو گیا تھا جب انھوں نے ہسپانوی نژاد افراد کے علاقوں میں چھاپے مارنا اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے شبے میں ہسپانوی بولنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تھی۔ تاہم انھیں سنہ 2011 میں جاری کردہ ایک حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ انھیں اکتوبر میں چھ ماہ کی سزا ہو سکتی تھی :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *