مشرف کا حمایتی طبلہ نواز ٹولہ

محمد اقبال قریشی

muhammad iqbal qureshi

آج ایک مخصوص طبلہ نواز طبقہ پرویز مشرف کو ہیرو اور پاکستان کا اصل نجات دہندہ قرار دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ، وہ شاید یہ بھول رہا ہے کہ پرویز مشرف جیسا شرابی اور طبلہ نواز خاندانی میراثی کبھی بھی پاکستان کا خیر خوا نہیں رہا، آئیے ان تلخ حقائق پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو بہت سوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہیں :
شاید آپ کو معلوم نہ ہو لیکن پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں سرکاری قرضے لے کر معاف کروانے کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ، اس نے نہ صرف خود اس بہتی گنگا میں ہاتھ منہ دھوئے بلکہ اپنے ہر شناسا اور مددگار کو بھی خوب کھلایا پلایا ۔ اگر کہا جائے کہ پرویز مشرف نے یہ کھیل نواز شریف اور بے نظیر سے کہیں زیادہ مہارت کے ساتھ کھیلا تو بے جا نہ ہو گا۔ پرویز مشرف پر لعنت بھیج کر اگر ان کے دور میں قرضے معاف کروانے والے سیاستدانوں کی ہی طویل فہرست دیکھ لی جائے تو اس وقت کے حساب سے اس رقم کا تخمینہ 60 ارب سے کہیں زیادہ بنتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید کم ہی لوگوں کے علم میں ہو لیکن قومی اسمبلی کی لائبریری کے سرکاری ریکارڈ میں یہ سب اندراج موجود ہے اور اپنے وقت کے موسی کا منتظر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی تو آئے گا جو قومی خزانے پر نانا جی کی فاتحہ پڑھنے والے جدی پشتی ڈوم اور میراثی سے اس ایک ایک پائی کا حساب لے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2007میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ 2002سے 2007کے دوران پرویز مشرف نے 54ارب روپے کے قرضے معاف کیے جو بااثر سیاستدانوں اور طاقتور صنعتی گروپوں پر واجب الادا تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Image result for musharraf playing tabla

اس ضمن میں بینکاری قوانین کا سہارا لے کر بہت سے قرضے اس انداز میں معاف کروائے گئے کہ شاید ان پر کوئی بھی قانون دست اندازی نہ کر پائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لسٹ اگر یہاں شائع کی گئی تو مجھے شک ہے کہ شاید سوئی ہوئی قوم کو اگلے الیکشن سے پہلے کچھ غیرت آجائے اور وہ نان اور بریانی کے عوض اپنی قومی دولت کا لائسننس ان حرام خوروں کو الاٹ نہ کرتی پھرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں جانتا ہوں ایسا کبھی نہیں ہوگا، یہ قوم نواز شریف ، مشرف ، بے نظیر ، اور دوسرے بہت سے حرام خوروں کے اسی طرح گن گاتی رہے گی ، انھیں قومی خزانے پر قابض کرواتی رہے گی اور بعد میں ان کی گاڑیاں چوم چوم کر انھیں دوبارہ واپسی کا راستہ بھی دے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس حمام میں سب ننگے نہیں ، ہڈیوں تک ننگے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے میری پیاری کھوتی عوام یہ اربوں کھربوں روپیہ جو معاف کروایا گیا تمھارا اور تمھارے بھوک سے بلکتے بچوں کا حق تھا ، یہ ان بے روزگاروں کا حق تھا جو روشن مستقبل کی چاہ میں یونان جاتے ہوئے کنٹینروں میں دم توڑ گئے ، یہ ان لڑکیوں کا حق تھا جو جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہوگئیں لیکن ان کے ہاتھ پیلے نہ ہوسکے ، یہ ان ماں باپ کا حق تھا جنھوں نے بھوک اور افلاس سے مجبور ہو کر اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے زہر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش کہ تم جاگ سکو، اپنا حق چھین سکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے تم سے اچھے تو وہ ہیجڑے ہیں جن کو اگر کوئی ان کے ناچ گانے کا معاوضہ نہ دے تو تالیاں پیٹ پیٹ کر اگلے کا جینا حرام کر دیتے ہیں اور ایک تم ہو کہ اپنا لوٹا ہوا مال واپس لینا تو درکنار اپنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھٹوا کر بھی تالیاں پیٹتے نہیں تھکتے !!!
پسِ نوشت : بہت سے احباب کہیں گے کہ پندرہ صفحات پر محیط و لسٹ یہاں عام کر دی جائے ، لیکن مجھے افسوس ہے میں ایسا نہ کر سکوں گا، جب تک مجھے یقین نہ ہو جائے کہ مجرم کو سزا نہیں ملتی اور اس کا راز فاش کرنے والے کو غائب نہیں کر دیا جاتا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *