فیس بک پر سول بالادستی کا رجحان 

tariq ahmed

دیکھنے میں آ رہا ھے۔ فیس بک پر موجود اینٹی اسٹیبلشمنٹ افراد، ڈیموکریٹس، سول سوسائٹی کی بالادستی کے داعی اور عوام کے حق حکمرانی کی آواز اٹھانے والے ایک وسیع گروپ کی شکل میں اکٹھے ھو رھے ھیں۔ اس روز افزوں پھیلتے اور مضبوط ھوتے گروپ سے نہ صرف ان احباب کے اعتماد اور اعتبار میں اضافہ ھو رہا ھے۔ ان دوستوں کے آپس میں روابط بھی استوار بلکہ گہرے ھو رھے ھیں ۔ وہ ایک دوسرے کو سمجھتے ھیں ۔ ایک دوسرے کی پوسٹس کو فالو کرتے ھیں ۔ حمایت میں کمنٹس کرتے ھیں ۔ پوسٹس شیئر کرتےھیں ۔ اور ان باکس میں جا کر تبادلہ خیال کرتےھیں ۔ خاص معلومات شیئر کرتےھیں ۔ اور ایک ھی وقت میں ایک ھی ٹاپک کو اٹھا لیتے ہیں ۔ جس سے اس ٹاپک کی اہمیت اور اثرات میں دو چند اضافہ ھو جاتا ھے۔ ان کی آواز دن بدن توانا ھو رھی ھے۔ اور ان کے فالوورز میں اضافہ ھوتا جا رھا ھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے ۔ یہ حق حکمرانی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی ایک بھر پور تحریک کی شکل بنتی جا رہی ہے ۔ یہ احباب اپنا نقطہ نظر مدلل طریقہ سے بیان کرتے ھیں ۔ اپنی پوسٹوں کو تاریخی و سماجی حوالوں سے مزین کرتےھیں ۔ سیاسی و تاریخی شعور کو بنیاد بناتے ھیں۔ گفتگو میں منفیت کی بجائے مثبت سوچ لے کر آتے ھیں ۔ سستی اور پھکڑ باز لفاظی سے پرھیز کرتےھیں ۔ البتہ ھلکے پھلکے طنز و مزاح سے کام لیتے ھیں ۔ اور اپنا مدعا بیان کرکے آگے گزر جاتے ہیں ۔ مخالفین سے الجھتے نہیں ۔ ان کی وال پر نہیں جاتے۔ جو پوسٹ بری لگے۔ اس پر کمنٹ نہیں کرتے۔ خاموشی سے بائ پاس کر جاتے ھیں ۔ اگر کوئی ان کی وال پر آ کر اظہار رائے کے نام پر بد تمیزی کرے۔ ایک دو چانس دیتے ھیں ۔ پھر بلاک کر دیتے ہیں ۔ ان کے مخالفین کا خیال تھا ۔ یہ پرو نواز شریف لوگ ھیں ۔ لیکن یہ بات بڑی حیرت سے نوٹ کی گئی ۔ کہ نواز شریف کی نااہلی نے ان احباب کو مایوس کرنے کی بجائے زیادہ مضبوط کر دیا ھے۔ اور وہ زیادہ قوت سے اپنا موقف بیان کر رھے ھیں۔ سوشل میڈیا پر اٹھنے والی یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ تحریک انشاءاللہ ایک دن کامیاب ھو گی۔
دوسری جانب ایک وہ گروپ تھا اور ھے۔ جو اسٹیبلشمنٹ کو گلوری فائی کرتا ہے ۔ سیاستدانوں اور جمہوریت پسندوں کو گالی نکالتا ھے۔ دلیل کی بجائے پٹواری ، درباری، چور اور ڈاکو کہہ کر بھاگ لیتا ھے۔ متحارب والز پر جا کر پنگا بازی کرتا ھے۔ پھکڑ بازی اور نا شائستگی کا مظاہرہ کرتا ھے۔ لفافہ لینے کے الزام لگاتا ھے۔ لفظوں کے مناسب استعمال میں بے بہرہ ھے۔ سیاسی و سماجی و تاریخی شعور سے عاری ھے۔ کوئی دلیل ان پر اثر نہیں کرتی۔ خوامخواہ الجھتا ھے۔ اس کا سارا زور نواز شریف کی نااہلی تک تھا۔ اب فارغ ھو کر بیٹھا ھے۔ کرپشن اور احتساب کی بات سے چڑنے لگا ھے۔ حکومت تبدیل ھوئ نہ نیا پاکستان بنا۔ بلکہ نواز شریف کی نااہلی کی اصل وجوہات اس کی سمجھ میں آنے لگی ھیں ۔ خواب ماند پڑ گئے ھیں ۔ اور گلٹ اور احساس جرم گھیرتا جا رھا ھے۔ یہ وہ لوگ تھے۔ جو جانے انجانے تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے۔ ان کا ٹارگٹ نواز شریف تھا۔ جو دراصل کسی اور کا ٹارگٹ تھا۔ یہ پرائی جنج میں عبداللہ دیوانہ بن کر ناچتے رھے۔ آج بھی نواز شریف کا گوڈا پکڑ کر کھڑے ھیں۔ جبکہ سول بالا دستی اور عوام کے حق حکمرانی کا علم بلند کرنے والے باہم یکسو ھو کر آگے اور آگے مارچ کر رھے ھیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *