معروف مزاحیہ سیریز"بلبلے" کی مومو سے دلچسپ انٹرویو

بشکریہ: ہلال

bulay

ہر صبح ایک آواز میرے کانوں پر دستک دیتی ’’اُٹھو صاحبو!نماز نیند سے بہتر ہے۔ اپنے رب کو راضی کر لو۔‘ ‘ یہ آواز دل پر اثر کرتی اور نیند سے بوجھل آنکھیں ایک دم سے کھل جاتیں۔ اپنے رب کو راضی کرنے کی خواہش بستر سے اٹھا دیتی۔ ہم گھر میں اکثر ذکر کرتے کہ نجانے یہ کون ہے جس کی صدا گلیوں میں گونجتی ہے۔ اس راز کا پردہ میرے والد کی وفات کے بعد اُٹھا۔ جب ان کے ایک دوست ہمارے گھر آئے اور کہنے لگے کہ آج میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ ورنہ ہر صبح دلپذیر صاحب اور میں لوگوں کو نماز کے جگانے کے لئے دور دور تک جایا کرتے تھے۔ میری والدہ اکثر والد صاحب سے پوچھتیں کہ نماز تو ساڑھے پانچ بجے ہوتی ہے۔ آپ چار بجے اٹھ کر کہاں چلے جاتے ہیں۔ تو وہ کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ میرے والد صاحب خوش گلو تھے۔ وہ اذان دیتے تو جی چاہتا سنتے ہی رہیں۔

حنادل پذیر کی آواز ان کے والد کی محبت سے سرشار تھی۔ مومو کے کردار اور نام سے پہچانی جانے والی حنا دل پذیر کے اصل نام سے شاید اتنے لوگ واقف نہیں‘ لیکن مومو کو ساری دنیا جانتی، پہچانتی اور محبت کرتی ہے۔ فن کی دنیا میں قدم رکھتے ہی کامیابیوں سے ہمکنار ہونے والی شخصیت جن کا نام ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ آیئے آج آپ کی ملاقات اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوش گفتا ر اوربا وقار حنا دلپذیرسے کرواتے ہیں۔

س۔ آپ کے نام اور کام کو تو سب لوگ جانتے اور پہچانتے ہیں۔ لیکن ہم آپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟

ج۔ میرے والد مرحوم کا تعلق ایبٹ آباد (ہزارہ)سے تھا۔ جبکہ میری والدہ کے آباء واجداد یوپی مراد آباد سے تھے۔ ہم چھ بہنیں ہیں اور ہمارا بھائی کوئی نہیں ہے۔ گھر کا ماحول بہت پر سکون تھا۔ والدین پڑھے لکھے انتہائی دانشمند تھے۔ انہوں نے ہمیں ہر قسم کے حالات میں مطمئن اور پر سکون رہناسکھایا۔ کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ والد صاحب کی اپنی بہت بڑی لائبریری تھی والدہ کی اپنی۔ ان کی دیکھا دیکھی ہم بہنوں نے بھی شیلفوں میں اپنی پسند کی کتابیں سجا کر اپنی لائبریریاں بنائی ہوئی تھیں۔ ہمارے گھر میں کھلونوں سے زیادہ کتابیں ہوتی تھیں۔ گھر پر میوزک اور مشاعرے کی محفلیں بھی ہوتی تھیں۔ لیکن نماز کا بہت زیادہ اہتمام کیا جاتا۔ بلکہ ہمارے خاندان میں نماز نہ پڑھنے والوں کو بڑی عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

س۔ آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ج۔ میں نے کراچی سے میٹرک کیا۔ میرے والد پہلے PIA میں کام کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے ایمریٹس ایئر لائن جوائن کر لی اور ان کا تبادلہ دبئی میں ہو گیا‘ تو وہاں سکائی لائن کالج سے انٹر کیا۔ کلینیکل سائیکالوجی میں ماسٹرز کیا۔ آج کل میں کوانٹم فزکس میں ماسٹرز کر رہی ہوں۔ یہ میرا پسندیدہ سبجیکٹ ہے۔ سائیکالوجی میں ماسٹرز کرنے کے بعد بڑی کوشش کی کہ مجھے جاب مل جائے۔ لیکن نجانے مجھے جاب کیوں نہیں ملی۔

س۔ شادی کیسے ہوئی پسند کی تھی یا اریجنڈ؟

ج۔ شادی مکمل اریجنڈ تھی۔ انٹر کے بعد میری شادی ہو گئی تھی جو چھ سال چلی۔ پھر وہ ختم ہو گئی تو میں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ میرا چھوٹا سا بیٹا بھی تھا میرے ساتھ۔ اب تو ماشاء اللہ وہ بڑا ہو گیا ہے۔ اس نے میٹرک کا امتحان دیا ہے اور بہت اچھے نمبر لئے ہیں۔ اصل میں قصور میرے شوہر کا بھی نہیں تھا۔ جس نتیجے پر میں پہنچی ہوں کہ میرے سابقہ شوہر کی مینٹل گروتھ ان کی عمر کے مطابق نہیں تھی۔ جب آپ کی مینٹل اپروچ نہ ہو تو آپ سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ ان کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان سے کیا ہو گیا ہے‘ وہ بُرے آدمی نہیں تھے‘ مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے اچھے طریقے سے رکھا۔ ہاں مشکل وقت بھی آئے۔ لیکن میری والدین کی دعائیں تھیں کہ مطمئن رہ کر گزار دیا۔

س۔ ڈرامے کی طرف کس طرح آئیں؟

میں سب سے پہلے سیلوٹ کرتی ہو ں اپنی فوج کو۔ یہ ہیں تو ہم ہیں۔ ہم چین کی نیند سوتے ہیں کیونکہ یہ سرحدوں پر جاگتے ہیں۔ ان کی زندگی بہت مشکل اور پُر خطر ہے۔ اپنی ملک کی عزت و آبرو کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اندھیری راتوں میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ تاکہ ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو سکیں۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے جو میں جواب میں انہیں دے سکوں۔ سوائے اس کے کہ اے راہِ حق کے شہیدو‘ وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوائیں سلا م کہتی ہیں یہی میرے جذبات ہیں۔ ہم اپنی فوج کی جتنی عزت کریں اس پر جتنا مان کریں کم ہے۔ ہم چھ بہنیں ہیں ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے۔ تویہ سب فوجی بھائی میرے اپنے بھائی، میرا فخر، میرا مان ہیں۔ ان کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سلامتی دے ان کے حوصلے بلند رکھے۔ سب کے لئے بہت بہت محبت۔ میری دعائیں ان کے

ساتھ ہیں۔

momo2

ج۔ شادی ختم ہونے کے بعد جب میں واپس کراچی آئی تو مجھ پر ایک بچے کی ذمہ داری بھی تھی۔ میرے والدین ان دنوں امریکہ میں تھے۔ لیکن مجھے یہ گوارا نہیں تھا کہ کوئی میری مدد کرے۔ اس کےلئے مجھے خود کام کرنا تھا۔ میں نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز ہر جگہ لیکچرر شپ کے لئے اپلائی کیا‘ لیکن مجھے کہیں ملازمت نہ ملی۔ کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا۔ لکھنے کا مجھے بچپن سے شوق تھاتو میں نے ایک کہانی لکھی اور وہ دینے کے لئے ’’ہم‘ ‘ ٹی وی کے دفتر گئی۔ ہوا یہ کہ جب میں سکرپٹ دینے گئی تو بڑی مشکل سے آدھا راستہ پیدل چل کر گئی کیونکہ پیسے تو میرے پاس ہوتے نہیں تھے۔ اس دن بارش بھی تھی۔ جب وہاں پہنچی تو پتہ چلا کہ بارش کی وجہ سے زیادہ تر لوگ چھٹی کر چکے تھے۔ میں نے اس طرح سے کچھ کہاکہ بھئی یہ رکھا ہے میرا ڈرامہ، کرنا ہے یا نہیں، جو بھی ہے مجھے ابھی بتا دیں۔ میں اتنی تکلیف نہیں اُٹھا سکتی کہ بار باراتنی دور آؤں۔ تو بجائے کہانی لینے کے فصیح باری خان جنہوں نے ’’برنس روڈ کی نیلوفر ‘ ‘ لکھا تھا‘ کہنے لگے آپ ڈرامے میں کام کریں گی؟ میں نے کہا کہ میں نے تو کبھی ٹی وی پر کام نہیں کیا۔ (البتہ دبئی میں تھیٹر کیا ہواتھا۔ ریڈیو پر آٹھ سال کام کیا تھا۔ ریڈیو ایشیا،دبئی میں لکھنے، پروگرام اور ڈرامے کا مجھے تجربہ تھا۔ ) تو میں نے کہا کہ آپ نے اپنا ڈرامہ فلاپ کرواناہے۔ وہ بولے نہیں بس آپ نے یہ رول کرنا ہے۔ فی الحال ہم آپ کو پندرہ ہزار دیں گے۔ مجھے اپنے بیٹے کی فیس دینی تھی میں نے سوچاکہ کر لیتی ہوں۔ مجھے کس نے دیکھنا ہے۔ وہ ڈرامہ میں نے کیا پھر میں نے جیو کا ڈرامہ کیا ’’میری ادھوری محبت‘ ‘ نورالہدیٰ شاہ کا سکرپٹ تھا۔ اس میں ایک ہندو عورت کا کردار تھا۔ تو میں نے کہا کہ ہندو فیملی کو اتنی صاف اردو نہیں بولنی چاہئے‘ تو میں نے سارا سکرپٹ ہندی میں بدل دیا۔ سیریل’’یہ زندگی ہے‘ ‘ بھی لوگوں کو پسندآیا۔ بہت سارے ٹیلی پلے کئے۔ بہت ساری زندگیاں جینے میں بہت مزہ آتاہے۔

س۔ پہلے ڈرامے کا تجربہ کیسا رہا؟

ج۔ مجھے تو پہلے ڈرامے میں بھی یہی خوف تھا کہ میں نہیں کر پاؤں گی اور اب بھی یہ ہی حال ہوتا ہے۔ پہلی مرتبہ ہی اتنے بڑے بڑے لوگ میرے سامنے تھے۔ عابد علی جیسے بڑے انسان کے آگے اداکاری کرنا بہت مشکل تھا۔ مجھے تو ٹینشن سے بخارہی ہو گیا۔ ڈائیلاگ یاد نہیں ہو رہے تھے۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ یہ کس کو کاسٹ کر لیا ہے۔ اس کو ڈائیلاگ ہی یاد نہیں ہو رہے۔ خیر میں ڈرامہ کر کے آگئی اور جب یہ آن ایئر ہوا تو اگلے دن میرے فون کی گھنٹی رُک ہی نہیں رہی تھی۔

ہم امریکہ شو کرنے کے لئے جا رہے تھے۔ میں نے دیکھاکہ سب نے اپنے پاسپورٹ اپنی ہتھیلیوں میں اس طرح پکڑے تھے کہ وہ نظر نہ آئے مگر مجھے لگا کہ یہ ہی میری پہچان ہے۔ مجھے خوشی تھی کہ میں پاکستانی ہوں اور میرے ہاتھ میں ہرے رنگ کا پاسپورٹ ہے۔ وہاں جا کر شو کیا تو لوگوں کی اتنی محبت ملی کہ بیان نہیں کر سکتی اور وہ بچے جو اردو نہیں جانتے تھے وہ چیخ رہے تھے مومو آنٹی آئی لَوّْ یو۔ تومجھے اپنے دل کے اطمینان پر فخر ہوا۔

س۔ مومو کا کردار کیسے شروع ہوا؟

ج۔ بلبلے کی 25قسطیں چل چکی تھیں۔ چھبیسویں قسط میں مجھے نبیل کا فون آیا کہ آپ نے ایک قسط کرنی ہے۔ میری ماں کا کریکٹر ہے جو فیصل آباد سے آتی ہے۔ میرے ذہن میں ایک کیریکٹر ابھرا کہ ماں کو ایسا ہونا چاہئے جو بہت معصوم، سیدھی اوربیوقوف عورت ہو۔ جس کی اپنی سمارٹنس نہ ہو۔ پھر میں نے اس کا حلیہ ڈیزائن کیا۔ ایسا چشمہ منگوایا جس میں آنکھیں بڑی بڑی نظر آئیں۔ جب چشمہmomo3 لگایا تو مجھے کچھ نظر ہی نہ آیا۔ کبھی زمین قریب نظر آتی تھی اور کبھی کوئی گڑھا نظر آتا تھا۔ گرنے سے بچنے کے لئے میں پاؤں گھسیٹ کر چلتی تھی تو آٹومیٹیکلی وہ چال بن گئی جو بے حد پسند کی گئی۔ یہ انسپائیریشن میں نے ’’فائینڈنگ نیمو‘ ‘ کارٹون فلم میں ایک کیریکٹرسے لی تھی جو شارک کے منہ کے سامنے کھڑے ہوکر کہتی تھی ’’میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے‘ ‘ مجھے یہ بات بہت اچھی لگتی تھی۔ تو مومو بھی ایک ایسا کیریکٹر بن گیا‘ جسے ڈرخوف ہے ہی نہیں۔ جو اللہ توکل پر چلتی ہے۔ بعض اوقات میں نے کنگھی بھی نہیں کی ہوتی۔ سر پر دوپٹہ رکھا‘ لپ سٹک لگائی اور ڈرامہ کر دیا۔ اس سے مجھے فائدہ بہت ہوتا ہے کہ میرا وقت بچ جاتا ہے۔ لوگوں اور بچوں نے خاص طور پر اسے پسند کیا۔

ایک مرتبہ تھیلسیمیا کے مریض بچوں سے ملنے کے لئے مجھے بلایا گیا۔ ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ ہم نے ان بچوں کو ڈرامہ بلبلے دکھایااور بچے خوب ہنسے‘ اس کے بعد ان کا بلڈ ٹیسٹ لیا گیا تو پتہ چلا ان کے ریڈ بلڈ سیلز(RVCs) کی گروتھ ہونا شروع ہو گئی ہے۔ تو میں اپنے اندر ہی سجدے میں گر گئی کہ میرے کام سے لوگ خوش ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے۔

س۔ کیا شاعری کی طرح اداکاری کا بھی نزول ہوتا ہے؟

ج۔ کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ میں نے قدوسی صاحب کی بیوہ کیا۔ وہ بہت مشکل ڈرامہ تھا۔ اس کے سب گیٹ اپ اور پروفائل ڈیزائننگ میں نے خود کی۔ میرے پاس کوئی گیٹ آپ آرٹسٹ نہیں ہوتا۔ پر فارمنگ آرٹ یا کوئی بھی کری ایشن یا انوویشن ایسی چیز ہے جو ہمارے وکیبلری میں نہیں ہوتی۔ اس کا نزول ہوتا ہے تو پھر لوگ کہتے ہیں کہ یہ کوئی ایجاد ہے۔ کوئی نئی بات ہے۔

س۔ ڈرامہ سائن کرتے وقت کیا چیز دیکھتی ہیں؟

ج۔ کہانیاں تو سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔ میرے لئے اہم بات یہ ہے کہ سکرپٹ کس طرح سے لکھا گیاہے جو بھی سٹوری آتی ہے ایسا نہیں ہوتا کہ ہم نے اس کو پہلے کبھی سنا نہ ہو۔ لیکن اپنا اپنا اسلوب، اپنا طرزِ تحریر ہوتا ہے۔ جو بات کو ایک نیا رنگ دیتا ہے۔ ہمارے پاس رائٹرز کی کمی ہے۔ ایک زمانہ تھا پی ٹی وی کے دور میں بہت اچھے رائٹرز ہوا کرتے تھے۔ اب تو بہت کم لوگ ہیں۔ میں سکرپٹ پر سمجھوتا نہیں کر سکتی۔ ورنہ میرا تو ایک دن بھی فارغ نہ گزرے۔

س۔ اداکاری اور نخرہ لازم و ملزوم ہے۔ آپ بھی نخرے کرتی ہیں؟

ج۔ نہیں۔ اگر نخرہ کریں گے پھر اداکاری نہیں ہو سکتی۔ اس شعبے میں اپنے آپ کو مٹانا پڑتا ہے اور جب اپنے آپ کو مٹا دیتے ہیں تو پھر نخرے بھی چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ اندر سے مٹے ہوئے نہ ہوں تو دنیا آپ کو مٹا دیتی ہے۔

س۔ کہا جاتا ہے کہ اس فیلڈ میں پیسہ بہت ہے،کیا واقعی ایسا ہے؟

ج۔ جی ہاں، پیسہ بہت ہے۔ لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ جب کسی کوپیسے کی حرص ہوتی ہے‘ پیسہ اس سے بھاگ جاتا ہے۔ یہ بڑی نیگیٹو انرجی ہے۔ ورنہ تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ گاڑی سے پیٹرول اور کچن میں سے آٹا کبھی ختم نہ ہو۔ کیونکہ رزق کا وعدہ تو اللہ نے کیا ہوا ہے۔ مگر ہمارایہ خوف کہ آٹا اور پیٹرول ختم نہ ہو جائیں‘ اس کو ختم کر دیتا ہے اور جو اس کے پیچھے نہیں بھاگتے ان کے مقدر کا لکھا ان کے پیچھے آتا ہے۔

س۔ آپ کا ہر کردار سپر ہٹ ہوتا ہے ؟کیا اچھی اداکاری کے لئے مشاہدہ اہمیت رکھتا ہے؟

ج۔ اصل میں ہر کردار کی ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ کیونکہ میں نے کیریکٹر بیسڈ ڈرامے زیادہ کئے ہیں اور میری کوشش ہوتی ہے کہ اس میں ایک پوائنٹ کی بھی کمی نہ رہے۔ اگر میں گاؤں کی عورت بنی ہوں اور میں نے ہاتھوں اور ناخنوں پر فرینچ مینی کیور کیا ہوا ہے تو وہ مجھے اندر سے کھا جائے گا۔ ایک عورت چا ہے وہ کچھ بھی ہو ‘ سبزی یا کھلونے بیچنے والی‘ اس کو کیسا ہونا چاہئے‘ کون سا وقت اس پر کیسا گزرا ہوگا، کیاکیا اس کے دل پر گزری ہو گی‘ کس چیز کو اس نے کیسا محسوس کیا ہو گا‘ یہ سوچنے میں بڑا وقت لگتا ہے۔ جوچیز جیسی ہو اس کو ویسا ہی لگناچاہئے۔ ہم چیزوں کو بہت خوبصورت بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن مجھے زیادہ اچھا لگتا ہے کہ چیزیں اپنے اصل کی طرح ہوں۔ ڈرامہ مٹھو اور آپا میں مٹھو کے کیریکٹر کے لئے مجھے دس جوڑے دیئے گئے۔ میں نے کہا کہ مٹھو ایک غریب عورت ہے۔ جس کوبھائی نے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔ اس کاکوئی ذریعہِ آمدن نہیں ہے۔ عید کے عید بھائی جوڑا بنا دیتا ہو گا۔ میں نے چار جوڑے رکھ کر باقی واپس کر دیئے۔

س۔ کیا ٹریننگ سے اداکاری سکھائی جا سکتی ہے؟

ج۔ نہیں، اداکاری سکھائی نہیں جا سکتی۔ یہ ٹیلنٹ یا تو ہوتاہے یا نہیں ہوتا۔ ہا ں جس میں ہو اس کو اس کی ایتھیکس(ethics) اور کنٹرول سکھایا جا سکتا ہے۔ اگرآپ کوئی بہت مظلوم کردار ادا کر رہے ہوں جس پر بہت ظلم ہو رہا ہے اداکار کا کمال یہ ہے کہ آنسو کیریکٹر کی آنکھ سے نہیں بلکہ دیکھنے والے کی آنکھ سے گرنا چاہئے۔ ہر آرٹسٹ کو اپنے مشاہدے کو بڑھانے کے لئے اکیڈمی ضرورجوائن کرنی چاہئے یا پھر ریسرچ کرنی چاہئے۔

س۔ زندگی کا وہ لمحہ جب خود پر فخر محسوس ہوا ہو؟

ج۔ ہم امریکہ شو کرنے کے لئے جا رہے تھے۔ میں نے دیکھاکہ سب نے اپنے پاسپورٹ اپنی ہتھیلیوں میں اس طرح پکڑے تھے کہ وہ نظر نہ آئے مگر مجھے لگا کہ یہ ہی میری پہچان ہے۔ مجھے خوشی تھی کہ میں پاکستانی ہوں اور میرے ہاتھ میں ہرے رنگ کا پاسپورٹ ہے۔ وہاں جا کر شو کیا تو لوگوں کی اتنی محبت ملی کہ بیان نہیں کر سکتی اور وہ بچے جو اردو نہیں جانتے تھے وہ چیخ رہے تھے مومو آنٹی آئی لَوّْ یو۔ تومجھے اپنے دل کے اطمینان پر فخر ہوا۔

س۔ زندگی کا یادگار واقعہ؟

ج۔ اسلام آباد اور کراچی کے ٹائم میں تھوڑا فرق ہے۔ ایک دفعہ میں اسلام آباد سے کراچی جارہی تھی۔ میں اپنے ٹائم کے حساب سے کاؤنٹر پر پہنچی تووہاں موجود خاتون بولیں کہ پلین توچل پڑا ہے آپ لیٹ ہو گئی ہیں۔ اتنے میں ایک صاحب دوڑے دوڑے آئے کہ ’’مومو اپنا بورڈنگ کارڈدیجئے جلدی سے‘ ‘ پھر میں نے دیکھا کہ جہاز واپس مڑا، سیڑھی لگی اور جب میں جہاز میں گئی تو کیپٹن نے اعلان کیا کہ ’’اور ہمارے ساتھ موجود ہیں مومو۔ ویلکم مومو‘ ‘ ۔ لوگوں نے تالیاں بجائیںیہ سب ان کی محبت ہے۔ اسی طرح ایدھی صاحب کے ریٹائرڈ ہوم میں ہم کچھ سین کرنے کے لئے گئے تو وہاں موجود ہوش و حواس سے بیگانہ خواتین مومو ، مومو کہہ کر مجھ سے لپٹ گئیں۔

س۔ آپ کی کامیابی کا راز ؟

ج۔ صبر،قناعت اور خوش رہنا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب آپ لوگوں کی دعا ئیں ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ نماز بر وقت ادا کروں مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ کوشش کرتی ہوں کہ میرا قلب ہر وقت میرے رب کی طرف رہے۔ اللہ کی قدرت لامحدود ہے جو اس نے دیا میں اس پر خدا کا شکر ادا کرتی ہوں اور جو نہیں ملتا اس کے لئے یہ سوچ کر کہ یہ میرے لئے بہتر نہیں ہوگا یہ وہی جانتا ہے۔ اس کے لئے بھی خدا کی شکر گزار رہتی ہوں۔

س۔ فلموں میں کام کرنے کا ارادہ ہے؟

ج۔ ارادہ تو نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی پسند کا سکرپٹ ملا تو کر بھی لوں گی۔

س۔ ہر اداکارآپ کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔ آپ کس کے ساتھ کرنا چاہتی ہیں؟

ج۔ مجھے ہمیشہ بہت اچھے لوگ ملے ہیں۔ عظمیٰ گیلانی بہت پیاری لگتی ہیں‘ ان کی ادا کاری میں بہت ڈیپتھ ہے‘ ان کے ساتھ کام کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ہمارے ہاں بہت اچھے اورٹیلنٹڈ لوگ ہیں۔ اگر ان کو اچھے سکرپٹ مل جائیں تو بہت اچھا کام کریں۔

س۔ پسندید اداکار

ج۔ انتھونی کوئین کی ادا کاری بہت پسند ہے۔ وہ اللہ کے بہت نوازے ہوئے انسان لگتے ہیں۔

س۔ کتنے ملکوں کی سیر کی؟

ج۔ بہت زیادہ۔ ٹریولنگ کا بہت شوق ہے۔ بے تحاشہ جگہوں پر گئی ہوں۔ کسی بھی ملک میں جا کر میری خواہش ہوتی ہے کہ میں سب سے پہلے وہاں کے میوزیم دیکھوں۔ اس کے بعد میں کوشش کرتی ہوں کہ ان کی گلی محلے کی زندگی کا مشاہدہ کروں۔ مجھے تفریح گاہوں میں جانے کی خواہش نہیں ہوتی۔ ترکی بہت پسند ہے۔ پاکستان کا مقابلہ کسی ملک سے نہیں کر پاتی۔ کیونکہ جہاں بھی جاؤں دس پندرہ دن بعد بے چین ہوجاتی ہوں کہ اپنے ملک واپس جاؤں۔

س۔ پسندیدہ رائٹر؟

ج۔ قدرت اللہ شہاب کا ’’شہاب نامہ‘ ‘ بہت پسند ہے۔ اشفاق احمد ،بانو آپا ،ڈپٹی نذیراحمد، عصمت چغتائی اور منٹو سب بہت با کمال ہیں‘ سب کی کتابیں پڑھتی ہوں۔

س۔ شعروشاعری سے دلچسپی؟

ج۔ شاعری بہت پسند ہے۔ غالب پسندیدہ شاعر ہیں۔ ان جیسا تو کوئی ہے ہی نہیں۔

س۔ لوگوں کو ہنسانے والی خود کب ہنستی ہے؟

ج۔ آرام سے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر، بہت آسانی سے۔

س۔ زندگی کا دکھ؟

ج۔ کوئی نہیں۔ ہاں یہ خیال ضرور آتا ہے۔ کہ والد اگر زندہ ہوتے تو ان کی خدمت کرتی۔

س۔ مستقبل کے ارادے؟

ج۔ جو ابھی آیا نہیں اس کے بارے میں کیا کہوں۔ یہی ایک لمحہ زندگی ہے جو میرے پاس ہے وہی اچھا ہے۔

س۔ زندگی میں محبت کی؟

ج۔ سب سے کی۔ محبت بہت ضروری ہے۔ کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی محبت ہے۔ اللہ کی تمام مخلوقات سے محبت۔

س۔ آج کل ہمارے اداکار اینکر پرسن بن کر بھی پروگرام کر رہے ہیں۔ آپ کا بھی ایسا کوئی ارادہ؟

ج۔ اگر ایساکچھ ہو ا تو ضرور کروں گی‘ شایدکچھ ٹاک شو کروں۔

س۔ ملکی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

ج۔ ہمیں باہمی اتفاق کی ضرورت ہے۔ یہ جو گڑ بڑ پھیلی ہوئی ہے۔ سب ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ مجھے اس سے اختلاف ہے۔ جب ہر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہمارا مقصد پاکستان کی بقا ہے تو آپس میں لڑتے کیوں ہیں۔

س۔ فوجی بھائیوں کے نام کوئی پیغام؟

ج۔ میں سب سے پہلے سیلوٹ کرتی ہو ں اپنی فوج کو۔ یہ ہیں تو ہم ہیں۔ ہم چین کی نیند سوتے ہیں کیونکہ یہ سرحدوں پر جاگتے ہیں۔ ان کی زندگی بہت مشکل اور پُر خطر ہے۔ اپنی ملک کی عزت و آبرو کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اندھیری راتوں میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ تاکہ ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو سکیں۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے جو میں جواب میں انہیں دے سکوں۔ سوائے اس کے کہ اے راہِ حق کے شہیدو‘ وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوائیں سلا م کہتی ہیں

یہی میرے جذبات ہیں۔ ہم اپنی فوج کی جتنی عزت کریں اس پر جتنا مان کریں کم ہے۔ ہم چھ بہنیں ہیں ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے۔ تویہ سب فوجی بھائی میرے اپنے بھائی، میرا فخر، میرا مان ہیں۔ ان کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سلامتی دے ان کے حوصلے بلند رکھے۔ سب کے لئے بہت بہت محبت۔ میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔


courtesy:http://hilal.gov.pk/index.php/layouts/item/535-2014-12-23-10-40-07

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *