عدالت نے نواز شریف کے خلاف غداری کے مقدمہ کی درخواست خارج کردی

Image result for nawaz sharif

لاہور ( این این آئی) لاہور کی سیشن عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف غداری کے مقدمہ کے اندراج کی درخواست خارج کردی ۔ایڈیشنل سیشن جج شیخ تاثیر الرحمان نے پولیس رپورٹ اور فریقین کے وکلا ء کے دلائل مکمل ہونے پر نوازشریف کے خلاف اندارج مقدمے کی درخواست خارج کی۔اس سے قبل درخواست گزار جواد اشرف نے موقف اختیار کیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدعدلیہ مخالف تقاریر کر کے عوام کو اداروں کے اکسانے کی کوشش کی، نواز شریف کا عوام کو اداروں کے خلاف اکسانہ غداری کے زمرےمیں آتا ہے۔جواد اشرف کا کہنا تھا کہ پولیس کو مقدمے کے اندراج کے لئے درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ پولیس کونوازشریف کے خلاف غداری کے الزام مقدمہ درج کرنے کا حکم دیاجائے۔ دریں اثنا سابق وزیراعظم نوازشریف نے پانامہ فیصلے کیخلاف ایک اور نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی ہے جس میں تین رکنی بنچ کے 28 جولائی کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ہفتہ کے روز سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکلاء کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی پر اعتراضات قبل ازوقت قرار دیکر مسترد کیے گئے ،ٹرائل کورٹ کو چھ ماہ میں فیصلے کا حکم کیس پر اثرانداز ہوگا، قانون ٹرائل کورٹ کی کارروائی کی مانیٹرنگ کی اجازت نہیں دیتا، عدالتی احکامات شفاف ٹرائل کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہیں،فریقین کی جانب سے دائر درخواستوں میں ایف زیڈ ای کا کہیں کوئی تذکرہ ہی نہیں تھا، جو درخواستوں میں استدعا ہی نہیں کی گئی تھی تو اس کی بنیاد پر پر نا اہل کیسے کیا جا سکتا ہے ، اثاثوں کی جو تعریف فیصلے میں کی گئی وہ بلیک لاء ڈکشنری میں کہیں نہیں ہے ،عدالت اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی کہ نااہلی ٹھوس شواہد پر ہی ہو سکتی ہے،اِنکم ٹیکس قانون کے مطابق تنخواہ وہی ہے جو وصول کی گئی ہو، ایف زیڈ ای کی تنخواہ قابل وصول تسلیم کر لی جائے تو بھی نااہلی نہیں بنتی، درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے متعلقہ فورم موجود ہے، معاملہ متعلقہ فورم پر جاتا تو دفاع کا موقع بھی ملتا،تنخواہ نہ لینا اور اسکا دعویٰ بھی نہ کرنا بے ایمانی قرار نہیں دیا جا سکتا،وصول نہ کی گئی تنخواہ کو زیادہ سے زیادہ غلطی قرار دیا جا سکتا ہے بے ایمانی نہیں ،درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹھائیس جولائی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے فیصلہ واپس لے اور عمران خان ، شیخ رشید اور سراج الحق کی درخواستوں کو کالعدم قرار دے ، درخواست میں نظر ثانی درخواست پر فیصلہ آنے تک پانامہ کیس پر عملدرآمد روکنے کی بھی استدعا کی گئی ہے ، واضح رہے کہ اس سے قبل سابق وزیر اعظم نے اپنی نظر ثانی درخواست میں نوازشریف نے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ چیلنج کیا جو تاحال درخواست سماعت کے لئے مقرر نہیں ہو سکی ۔یا د رہے کہ عدالت عظمیٰ نے پانامہ کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اعتراضات سننے کے بعد 28جولائی کو اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف کو نااہل قرار دے کر انکے اور انکے بچوں مریم نواز ، حسن نواز ، حسین نواز ، کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار سمیت دیگر کیخلاف نیب کو چھ ہفتوں میں ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا ، تاہم نواز شریف اسحاق ڈار ، کیپٹن صفدر اور نواز شریف کے بچوں نے پانامہ کیس کے 28جولائی کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کر رکھی ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *