اتفاق سے ایسا ہوا کہ

yasir pirzada

’’زندگی بے معنویت سے عبارت ہے‘‘۔ ایسا ماننا تھا البرٹ کامیو کا۔ یہ صاحب کون ہیں، کیا بیچتے تھے، یہ جاننے کے لئے آپ گوگل کر سکتے ہیں۔ خاکسار کی دوڑ چونکہ وجاہت مسعود تک ہے سو اُن سے ایک جہالت آمیز سوال کر ڈالا کہ قبلہ ذرا رہنمائی فرما دیجئے کہ انگریزی میں تو Albert Camusلکھا ہے ہم اسے اردو میں کیسے لکھیں گے؟ تو درویش نے سر اٹھایا اور بولا..... ’’انیس ناگی صاحب ہمیں بتا گئے ہیں کہ اردو میں Camusکو کامیو لکھا جائے گا۔‘‘ جی چاہا ہے کہ اس استادانہ جواب پر درویش کا منہ چوم لوں مگر پھر یہ سوچ کر ارادہ بدل دیا کہ درویش خاصے آزاد خیال واقع ہوئے ہیں کہیں اس حرکت کا کچھ اور مطلب ہی نہ نکال لیں۔ اچھا، تو بات البرٹ کامیو کی ہو رہی تھی، آپ ایک فلسفی اور لکھاری تھے، 1957میں انہیں ادب کے نوبیل انعام سے نوازا گیا اور پھر 4جنوری 1960کو محض چھیالیس برس کی عمر میں اُن کی موت واقع ہو گئی۔ یہ موت بے حد عجیب انداز میں ہوئی۔ کامیو کرسمس کی چھٹیاں گزارنے کے بعد بذریعہ ٹرین واپس پیرس جانے کا قصد کر رہا تھا، بیوی بچے ساتھ تھے، ٹرین کا ٹکٹ جیب میں تھا، پھر آخری لمحے میں اچانک اُس نے اپنا پروگرام بدل دیا اور ٹرین میں واپس آنے کی بجائے اپنے پبلشر کے ساتھ اُس کی گاڑی میں بیٹھ گیا، راستے میں گاڑی برفیلی سڑک سے پھسل کر ایک درخت سے جا ٹکرائی، حادثہ اتنا شدید تھا کہ موقع پر ہی کامیو کی موت ہو گئی۔ وہ فلسفی جو زندگی کی بے معنویت پر یقین رکھتا تھا، خود بھی ایک لایعنی قسم کی موت کا شکار ہو گیا۔ اسٹیفن ہاکنگ کی مثال اور بھی عجیب ہے، ہاکنگ ’’موٹر نیورون ‘‘ نامی ایک بیماری کا شکار ہے جس کی تشخیص اُس وقت ہوئی تھی جب ہاکنگ کی عمر اکیس برس تھی، ڈاکٹروں نے اسے بتایا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دو برس مزید زندہ رہ سکتا ہے، اس حساب سے 23برس کی عمر میں ہاکنگ کو مر جانا چاہئے تھا، مگر اب 2017آچکا ہے، اسٹیفن ہاکنگ کی عمر پچھتر برس ہے، وہ اب بھی زندہ ہے اور آئے دن لیکچر دیتا ہے اور نت نئی تھیوریاں پیش کرتا ہے۔ مذہب اور معجزوں پر اُس کا یقین نہیں، بقول اسٹیفن ہاکنگ ’’مذہب اور سائنس میں ایک بنیادی فرق ہے، مذہب کی بنیاد اختیار (یا ایمان ) پر ہے جبکہ سائنس مشاہدے اور دلیل پر استوار ہے، جیت سائنس کی ہوگی کیونکہ سائنس کا طریقہ کار نتیجہ خیز ہے۔‘‘ اب یہ کون پوچھے کہ خود ہاکنگ کی زندگی کسی معجزے سے کم نہیں اور میڈیکل سائنس کی رو سے اسے پچاس سال پہلے مر جانا چاہئے تھا، اگر میڈیکل سائنس کی پیشین گوئی درست ہوتی تو آج ہاکنگ یہ بتانے کے لئے زندہ نہ رہتا کہ مذہب اور سائنس میں سے جیت کس کی ہوگی!
کامیو جیسے فلسفی اور ہاکنگ جیسے سائنس دان دل و دماغ کی کھڑکیاں کھولنے کا سبب ضرور بنتے ہیں اور کچھ ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جن کے جواب تلاش کرتے کرتے آپ لایعنی سمندروں کے پانیوں میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں اور پھر یہ گتھی سلجھنے کی بجائے الجھتی چلی جاتی ہے۔ یہ سوالات بے حد دقیق ہیں اور مجھ ایسے عامی کے پاس تو اِن کے جوابات بالکل بھی نہیں، یہ دو مثالیں ذہن کے کسی گوشے میں چپکی ہوئی تھیں سو آج یاد آگئیں، ایسے لاتعداد واقعات تلاش کئے جا سکتے ہیں جن کی بظاہر کوئی توجیہہ نہیں، کوئی دلیل نہیں، کوئی ٹھوس یا مطمئن کرنے والا جواب نہیں۔ ایک لفظ البتہ ہم نے ایسے مباحث کا جواب دینے کے لئے ایجاد کر رکھا ہے ’’اتفاق‘‘۔ البرٹ کامیو کی موت ایک اتفاقی حادثہ تھی، اسٹیفن ہاکنگ کا زندہ رہنا محض اتفاق ہے! ایسے ہی ایک اور فلسفی سارتر کا افسانہ ’’The Wall‘‘(دیوار) یاد آیا۔ سپین کی خانہ جنگی کے دوران زیرزمین باغی تحریک کے چند سرگرم کارکنوں کو پولیس گرفتار کرتی ہے، ان میں ایک نوعمر لڑکا بھی ہے جو بے حد خوفزدہ ہے، پولیس اُن سے چند سرسری سوالات کرتی ہے اور پھر سمری ٹرائل کے بعد اُن تمام کارکنوں کو بے نیازی سے سزائے موت سنا دی جاتی ہے، اگلے روز اُس سزا پر عمل ہونا ہے، ’’دیوار‘‘ کے ساتھ کھڑا کرکے انہیں گولیاں مار دی جائیں گی، اِس دوران اُن کے سرغنہ کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے کہ وہ کہاں چھپا ہے مگر کوئی نہیں بتاتا سو اب اُن سب کی سزا یقینی ہے۔ سزا سے کچھ دیر پہلے اچانک اُس نو عمر لڑکے کو نہ جانے کیا سوجھتی ہے کہ وہ پولیس کو بلا سوچے سمجھے کہہ دیتا ہے کہ تنظیم کا سرغنہ شہر کے قبرستان میں چھپا ہے، یہ سنتے ہی پولیس کی دوڑیں لگ جاتی ہیں جسے دیکھ کر وہ لڑکا محظوظ ہوتا ہے کہ کم از کم اسے اِن پولیس والوں کو بیوقوف بنانے کا موقع تو ملا، مگر جب پولیس والے واپس آتے ہیں تو اس لڑکے کی سزائے موت کو منسوخ کردیا جاتا ہے کیونکہ تنظیم کا سرغنہ واقعی اُس قبرستان سے گرفتار ہو جاتا ہے جس کا نام اُس نوجوان نے یونہی جھوٹ موٹ لیا تھا۔ یہ سارتر کی بہترین کہانیو ں میں سے ایک ہے، ایک ’’اتفاق‘‘ اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے، زندگی کی بے معنویت کو اجاگر کیا گیا ہے اور شاید انسان کی بے بسی کو بھی ۔
ہماری زندگیوں میں بھی ایسے ہی اتفاقات بھرے ہوئے ہیں مگر اُن میں سے کچھ کا ہمیں احساس نہیں ہو پاتا اور کچھ کو ہم ضرورت سے زیادہ ڈرامائی رنگ دے دیتے ہیں۔ مثلا ً اکثر ہم جب کسی کی تعزیت کے لئے جاتے ہیں تو لواحقین سناتے ہیں کہ مرنے سے ایک رات پہلے مرحوم نے اچانک اپنے اہل خانہ کو اکٹھا کیا اور نصیحتیں کرنا شروع کر دیں، پس ثابت ہوا کہ مرحوم نیک سیرت تھے اور انہیں موت کا فرشتہ نظر آگیا تھا اس لئے انہوں نے خاندان بھر کو اکٹھا کرکے پہلے ہی اشارہ دے دیا۔ حالانکہ ہر گھر میں خاندان والے بیسیوں مرتبہ اکٹھے ہوتے ہیں، ایسے موقعوں پر بڑے بوڑھے نصیحتیں بھی کرتے ہیں مگر اگلے روز فوت نہیں ہوتے، اُس وقت کسی کو یہ مثال دینی یاد نہیں آتی۔ گزشتہ برس میں کوالالمپور گیا تو ایک شاپنگ مال سے نکلتے ہوئے مجھے اندازہ نہیں ہو پایا کہ میں اُس راستے سے گزر رہا ہوں جہاں سے گاڑیاں پارکنگ ٹکٹ دکھا کر گزرتی ہیں جس کے بعد لوہے کا ایک بیرئیر یکدم نیچے کو آجاتا ہے، اگر ایک لمحے کی مزید تاخیر ہو جاتی تو وہ بیرئیر سیدھا میرے سر پر جا لگتا، ’’اتفاق‘‘ سے ایسا نہیں ہوا، سو آج آپ میرا یہ کالم پڑھ رہے ہیں۔ اسکول کے زمانے میں ہم لڑکے آپس میں شرط لگا کر لوہے کے پائپ سے بنا ہوا ایک ’’پُل‘‘ دوڑ کر عبور کیا کرتے تھے جو ایک ایسے گندے نالے کے اوپر واقع تھا جس میں گرنے کی صورت میں موت یقینی تھی، اصل میں وہ پُل نہیں تھا بلکہ ڈیڑھ فُٹ چوڑے پائپ تھے جو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے تھے، میں نے درجنوں مرتبہ اُن پائپوں پر دوڑ کر شرطیں جیتیں، ’’اتفاق‘‘ سے میں کبھی گرا نہیں ۔
اتفاق کیا ہوتا ہے، قسمت کا لکھا کسے کہتے ہیں، زندگی میں کتنی معنویت ہے..... میں نہیں جانتا کیونکہ وہ بچے جو افریقہ کے کسی قحط زدہ علاقوں میں پیدا ہوتے ہیں اُن کا فلسفہ وجودیت اُن بچوں سے بالکل مختلف ہے جو کینیڈا میں کسی کروڑ پتی کے گھر پیدا ہوتے ہیں اور وہ بچے جو یمن کی خانہ جنگی کے دوران اپاہج ہو کر اسپتالوں میں پڑے ہیں اُن کا تصور اتفاقی حادثات اُن بچو ں سے بالکل مختلف ہے جو سکینڈے نیوین ممالک میں پرورش پا رہے ہیں۔ اپنا اپنا مقدر ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *