ریپ کا ملزم یونیورسٹی کا وائس چانسلربن گیا

اسد ضیاء

bacha

پشاور۔ باچا خان یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر نہ صرف جنسی حملوں کے ملزم رہ چکے ہیں بلکہ اپنی آخری سیلری کلیرنس سرٹیفیکیٹ جمع کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں جو اس عہدہ کے لیے لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے پروفیسر ڈاکٹر ثقلین نقوی کو تین سال کے کنٹریکٹ پر یونیورسٹی کا وائس چانسلر تعینات کیا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر نقوی پی ایم اے ایس کے ڈین آف فیکلٹی رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر نقوی کو دفتر میں خواتین پر جنسی حملوں کے الزام میں لاہور ہائی کورٹ میں بھی طلب کیا جا چکا ہے۔ یونیورسٹی قوانین کے مطابق وائس چانسلر کے لیے لازمی ہے کہ وہ پچھلی تنخواہ کا سرٹیفیکیٹ پیش کرے اور اس کے بعد عہدے پر براجمان ہو۔ اس قانون کے مطابق یونیورسٹی انتطامیہ نے ڈاکٹر نقوی کو خط کے ذریعے سیلری سرٹیفیکیٹ مہیا کرنے کا کہا۔ جواب میں پی ایم اے ایس یونیورسٹی انتظامیہ نے 7 جولائی کو لکھا کہ ڈاکٹر نقوی کو ان کے برے کردار کی وجہ سے متعلقہ سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا جا سکتا۔

ایک خط جس کیساتھ شائع کی جارہی  ہے میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر نقوی پراپر چینل سے ہٹ کر خط و کتابت میں مصرو ف رہے ہیں اور وہ اپنے سینئرز کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کے واقعات میں بھی ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کا بہت سا قیمتی وقت ضائع کیا ہے۔

خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ انہیں 18 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ نے جنسی حملوں کے الزام میں عدالت طلب کیا تھا ۔ اس سے قبل ڈاکٹر نقوی کو فیڈرل اومبڈزمین کی طرف سے بھی خواتین پر دست درازی کے الزام میں سزا دی جا چکی ہے۔یونیورسٹی کے اساتذہ نے ڈاکٹر نقوی کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یونیورسٹی کا امیج مزید خراب ہو گا۔ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈاکٹر نقوی نے اس وقت رجسٹرار کا عہدہ سنبھالا جب رجسٹرار محمد علی نے ڈاکٹر نقوی کو کہا کہ وہ اپنا تازہ ترین پے سرٹیفیکیٹ دکھائیں تا کہ انہیں سیلری جاری کی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ باچا خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سیلری 3 لاکھ کے قریب ہے جب کہ ڈاکٹر نقوی 6 لاکھ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ وائس چانسلر روزانہ چکوال سے یونیورسٹی جاتے ہیں اور اس میں سفری اخراجات بھی یونیورسٹی کے ایکس چیکر سے لیے جاتے ہیں۔

یونیورسٹی اہلکاروں نے حکومت پر ایک متنازعہ شخص کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر تعینات کرنے پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کا شکار باچا خان یونیورسٹی پہلے ہی خسارے میں چل رہی ہے۔ جب کے پی ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ایڈیشنل سیکرٹری خالد خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ان تمام معاملات سے لا علم ہیں۔


courtesy:https://tribune.com.pk/story/1470784/professor-faces-sexual-assault-charges-appointed-bacha-khan-university-vc/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *