جب مجھے برقعہ پہننا پڑا  

رافعہ زکریا

Jeremy Hogan | Herald-Times Rafia Zakaria is a Pakistani native, mother, lawyer, PhD student, advocate of women's rights and a critic of honor killings in Pakistan.

میں نے پورا چہرہ ڈھانپنے والا نقاب اپنی شادی کے دن پہلی بار پہنا۔ میں تب 18 سال کی تھی اور اس سے قبل  کبھی برقعہ نہیں پہنا تھا۔ پاکستانی رسم و رواج کے مطابق یہ وہ دن تھا جب دلہن اپنے گھر والوں سے رخصت ہو کر سسرال جاتی ہے۔ یہ رسم اپنے خاندان کے بہت سے لوگوں کے سامنے منعقد کی جاتی ہے جس میں دلہا بارات کے ساتھ آ کر دلہن کو گھر لے جاتا ہے۔ شادی سے ایک سال قبل جو شادی کا جوڑا میرے لیے خریدا گیا وہ بہت خوبصورت تھا  اور اس سے  کوئی چیز نظر نہیں آ سکتی تھی۔ میں کچھ نہیں دیکھ پار رہی تھی اور میری دو کزن مجھے لے کر جا رہی تھیں جنہوں نے چہرے پر کچھ نہیں پہنا تھا اور وہ ہنس  کھیل رہی تھیں۔ ستمبر کا مہینہ تھا اور کراچی میں بہت گرمی تھی۔ میں اندھیرے اور پسینے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ برقعہ پہننے کا معاملہ اس دن پہلی بار شروع نہیں ہوا۔ اس کی وجہ کچھ سال پہلے کے چند واقعات تھے جنہوں نے مجھے  چھوٹا نقاب پہننے پر مجبور کر دیا تھا جب میں 15 سال کی تھی۔ اس وقت میں ایک گرلز سکول کی طالبہ تھی  ۔ اس سکول میں ہم مردوں سے دور اور محفوظ تھیں جن کی موجودگی ہی برقعہ کے ایشو کا باعث ہے۔  اس سکول میں سینکڑوں طالبات کو پڑھانے والی بھی تمام خواتین ٹیچرز ہی تھیں۔ 6 سال کی عمر سے گریجویشن مکمل کرنے تک ہم نے صرف خواتین سے پڑھا۔ ہر صبح 8 بجکر 5 منٹ پر سکول کے دروازے بند کر دیے جاتے اور مردوں سے آزاد دن گزرتا۔ سکول کے اندر کچھ مرد ہوتے جو سکول کے غریب ملازمین تھے ۔ ان میں سکیورٹی گارڈز، سویپر  وغیرہ شامل تھے۔ ان کی غربت ان کی مردانگی پر بھاری سمجھی جاتی تھی۔ سکول میں مرد نہیں تھے اس لیے سکول کے اندر برقعہ بھی نہیں پہنا جاتا تھا۔ سکول کی دیواریں برقعے کا کام کرتی تھیں۔ چھٹی کے وقت بہت سی لڑکیاں فوری طور پر ہیڈ سکارف پہن لیتیں  اورکچھ مکمل برقعے میں اپنے آپ کو چھپا لیتی۔ کچھ لڑکیوں کو صرف اپنی گاڑی تک جانا ہوتا اس لیے وہ بغیر برقعے یا سکارف کے جاسکتی تھی۔ اس دوران لڑکے ہمارے اوپر نظریں گاڑتے، فلرٹ کرتے اور ٹیلی فون نمبر بھی لڑکیوں کو جلدی میں تھما لیے جاتے۔ ہمارے سکول کے قریب ایک بوائز سکول تھا  اورلڑکے وہاں سے ہمارے سکول کے قریب آ کر لڑکیوں سے دوستی کی کوشش کرتے تھے۔ نوجوانوں کے لیے یہی موقع ہوتا تھا کہ وہ اپنی محبت کا اظہار کر سکیں۔

دسمبر کے ماہ میں دسویں کلاس کےلیے ایک پکنک پلان بنایا گیا۔ بہت سے نگران اساتذہ کی نگرانی میں لڑکیوں کی حفاظت کے اقدامات کیے گئے ۔ حفاظت کے نقطہ نظر سے ایک پرائیویٹ بیچ کا انتخاب کیا گیا اورا س جگہ کو بھی انتہائی محفوظ بنایا گیا جہاں لڑکیوں کو ٹھہرایا جانا تھا۔ اس وجہ سے ہمیں یہ سہولت دی گئی کہ ہم اپنا برقعہ ہٹا سکیں  ۔ پکنک والے دن سب لوگ پر جوش تھے۔ ہر کوئی بہت بے چین تھا۔ پرائیویٹ بیچ پر ہمارے سکول کی لڑکیوں اور نگران اساتذہ اور سکیورٹی گارڈز کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ کراچی میں صرف دسمبر کے ماہ میں گرمی نہیں ہوتی اور موسم بہت خوشگوار ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمارے پاس اس وقت بھی دھوپ سینکنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا تھا  کیونکہ سکول کے اندر دھوپ نہیں پہنچ پاتی تھی۔ کتابوں میں بھی ہمارے شہر کو سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار دیا جاتا تھا۔ ہم سمندر کے کنارے اس آزادی سے لطف اندوز ہو رہی تھیں اور ہم نے اپنے برقعے بھی اتار رکھے تھے۔

تب اچانک کچھ لڑکے نمودار ہوئے۔ آنے کے لیے واحد زمینی راستہ بند تھا اس لیے لڑکے سمندر کے راستے سے آ گئے۔ 4 سے 5 لڑکے سپیڈ بوٹ کے ذریعے ہمارے قریب پہنچ گئے۔ وہ ہمارے اتنے قریب پہن گئے کہ ہم ان کا چہرہ دیکھ سکتی تھیں اور ان کی باتیں بھی سن سکتی تھیں۔ انہوں نے اچانک میرا نام پکارنا شروع کر دیا ۔ وہ بار بار میرا نام پکارتے رہے ۔ وہ ہمارے اتنے قریب آ کر رک گئے کہ و ہ ہم سب کو دیکھ سکتے تھے۔

ہمارے نگران لوگ گھبرا گئے۔ یہ ان کے لیے ایک برے خواب جیسا تھا۔ بغیر برقعہ کے آزاد لڑکیاں اور آس پاس منڈلاتے لڑکے۔ انہوں نے ہمیں اپنے قریب بلایا تا کہ ہم اپنے آپ کو ان لڑکوں سے چھپا سکیں۔ لڑکوں اور مردوں کی موجودگی میں ہماری آنکھ کا کھلا ہونا بھی ایک مسئلہ تھا۔ جب ہم بیچ سے باہر آئے تو ہمیں مزید احکامات دیے گئے جن کے مطابق ہمیں اپنے نگرانوں کے قریب رہنا تھا اور لڑکوں سے ہر ممکن حد تک فاصلہ بنائے رکھنا تھا۔ ایک خطرے کا سماں بن گیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کوئی بھیانک ایکسیڈینٹ ہو گیا ہو اور ٹور کا مزہ بلکل ختم ہو گیا ہو۔ لڑکیوں کے والدین سے حفاظت کے بہت سے وعدے کیے گئے لیکن اب وہ سارے وعدے ٹوٹ چکے تھے۔

ہم فوری طور پر نہیں نکلے۔ بلکہ کچھ دیر وہیں رکے رہے اور اس دوران لڑکے بار بار میرا نام پکارتے رہے اور میری بہت سی کلاس فیلوز نے بھی لڑکوں کو میرا نام پکارتے سن لیا۔ جب ہم واپس جانے لگے تو تبھی سے کچھ اساتذہ خواتین مجھے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں۔ ان سب کا یہی کہنا تھا: ہمیں معلوم ہے اس میں تمہارا کوئی نہ کوئی کردار ضرور ہے۔

پکنک کے کچھ عرصہ بعد میں نے ہیڈ سکارف پہننا شروع کر دیا۔ واقعہ کے بعد بہت سے واقعات پیش آئے، میری ماں کو سکول بلوایا گیا اور میری شکایت کی گئی۔ مجھے سکول سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ مجھے اس لیے نہ نکالا جا سکا کہ میرے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے میں نے ہر بات کی تردید کا سلسلہ جاری رکھا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ وہ لڑکے کون تھے۔ مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان لڑکوں کو کیسے میرا نام معلوم پڑا جو انہوں نے پکارا۔ مجھے یقین تھا کہ ضرور کوئی لڑکیاں ان لڑکوں کے بارے میں کہانیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں۔

یہ ایک جھوٹ تھا۔ میں یہ اعتراف نہیں کر سکتی تھی کہ میں اس لڑکے کو جانتی ہوں جس نے سکول سے واپسی کے دوران مجھے اپنا موبائل نمبر دینے کی کوشش کی تھی۔ نہ ہی میں یہ بتا سکتی تھی کہ میں نے اس لڑکے سے فون پر بات بھی کی اور ہر بار وہ لڑکا مجھ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا رہا۔ ہر بار میں اسے بتاتی کہ یہ ممکن نہیں ہے  کیونکہ میں کبھی اکیلی نہیں ہوتی اور بند دروازوں کے پیچھے بھی مجھ پر نظر رکھی جاتی تھی۔ پھر ایک دن میں نے انجانے میں پکنک کا ذکر کر دیا لیکن مجھے یہ احساس تھا کہ اس موقع پر گارڈز کی موجودگی میں یہ لڑکا وہاں آنے کی ہمت نہیں کر پائے گا۔ میں نے اس لڑکے کی بات کو انڈر ایسٹیمیٹ کیا تھا۔

اگرچہ مجھے سکول سے نکالا نہیں گیا اور نہ ہی معطل کیا گیا لیکن مجھ پر کچھ دوسری نوعیت کی پابندیاں لگائی گئیں۔ ان پابندیوں سے بچنے کے لیے مجھے سخت مشکلات سے گزرنا پڑا۔ اس آخری سال کے تکمیل کے لیے مجھے کسی واضح عمل کی ضرورت تھی جس کے لیے میں نے ہیڈ سکارف کا انتخاب کیا۔ اس میں ایک چیز بہت حیران کن تھی کہ میں مردوں سے دور ایک بند سکول میں ہوتے ہوئے بھی ہیڈ سکارف پہنتی تھی۔ لیکن میں اس دوران تنہائی کی تکیلف سے دو چار رہتی تھی اور اس ماحول سے مجھے گھٹن محسوس ہوتی تھی۔ البتہ یہ بھی ایک خوش قسمتی کی بات تھی کہ مجھے کچھ زیادہ پابندی نہیں کرنا پڑتی تھی اس لیے میں پورا برقعہ لینے کی بجائے صرف ہیڈ سکارف پر انحصار کر سکتی تھی لیکن میری یہ غلطی نظر انداز تو کی جاتی لیکن کبھی معاف نہیں کی گئی۔

پہلے میں ایک باغی تھی اور پھر میں ایک کانفرمسٹ بھی بنی اور مجھے اندازہ ہوا کہ یہ چیز بہت خوبصورت اور نشہ آور ہے۔  بہت کم رازاور کم مشکلات تھیں۔ ہر طرح کی تکلیف شئیر تھی، خاص طور پر مردوں کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف مشترکہ تھیں۔ مردوں کی دنیا میں ہم لڑکیاں متحد تھیں۔ ہم ایک دوسرے کی گہری دوست تھیں۔ اس وقت اس برقعے، بند درودیوار والے سکول، اور مردوں سے دوری کے اصل مقصد کو میں سمجھ نہیں پاتی تھی۔ البتہ میں یہ جانتی تھی کہ برقعہ، تنہائی، مردوں کے سامنے بے بسی اور بغاوت کے بیچ کے نکات تھے۔ اس کے اندر ایک حکمت عملی پنہاں تھی جو کسی حد تک فطری تھی۔ اس میں اس بات کی سمجھ نہیں شامل نہیں تھی کہ کسی چیز کو اپنا بنانا یا اپنا ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے سکارف اور برقعہ کا استعمال کیا جاتا تھا۔


Courtesy:https://www.theparisreview.org/blog/2017/08/23/putting-on-the-veil/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *