امریکہ کی ایک اور قلابازی

khalid irshad sofi

آپ نے سنا‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہا۔ جو کہا‘ چار دن گزر جانے کے باوجود اس کی باس (بدبو) ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی۔ اپنے آٹھ ماہ کے دور صدارت میں انہوں نے جنوبی ایشیا کے بارے میں پہلی بار منہ کھولا اور ایسا کھولا کہ اگلی پچھلی سب کسریں پوری کر دیں۔ وہ جس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور جس طرح کے بے تکے بیانات دیتے ہیں‘ ان کو سامنے رکھا جائے تو ان کا یہ بیان اتنا حیرت انگیز بھی نہیں۔ ان سے یہی توقع تھی۔ انہوں نے پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ‘اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا‘ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اپنے آقا ہی کے لہجے اور ٹون میں بات کرتے ہوئے پاکستان کی نان نیٹو اتحادی کی حیثیت ختم کرنے کی دھمکی دے دی۔ واشنگٹن میں افغان پالیسی پر میڈیا بریفنگ کے دوران ٹلرسن نے یہ بھی کہا کہ جہاں دہشت گرد ہوں گے، حملہ کریں گے۔ یہ پاکستان کو کھلم کھلا دھمکی ہے ‘ جسے سن کر مجھے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش جونیئر کا وہ فرمان یاد آ گیا‘ جو انہوں نے نائن الیون کے بعد پاکستان کو افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرتے ہوئے کہی تھی۔ امریکہ نے پاکستان سے اس مہم کے لئے تعاون کے لئے دست طلب دراز کیا تو یہاں سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ امریکہ ہر بار پاکستان کو استعمال کر کے بے یارومددگار چھوڑ دیتا ہے۔ اس نے چین سے تعلقات بڑھانے کے لئے پاکستان سے تعاون حاصل کیااور پھر پاکستان کو 1965اور 1971کی جنگوں میں تنہا چھوڑ دیا۔ اس نے افغانستان پر سوویت قبضے کے خلاف پاکستان سے مدد حاصل کی اور پھر ہمیں پریسلر ترمیم کے تحت پابندیوں کا شکار بنا دیا۔ اس کے ردعمل میں بش جونیئر نے کہا تھا کہ اس بار پاکستان کے ساتھ پائیدار اور گہرے تعلقات قائم کئے جا رہے ہیں‘ جو تادیر قائم رہیں گے‘ لیکن بش کو گئے ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے اور پاکستان کے بارے میں ٹرمپ نے جو زبان استعمال کی‘ وہ پوری دنیا نے سنی۔ امریکی انتظامیہ کو پاکستان سے کوئی تکلیف ہے تو ضرور بات کرے ‘ لیکن بدمعاشوں کی طرح نہیں‘ انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ دھمکی آمیز لہجے میں نہیں‘ مشاورت کے انداز میں۔
میرے خیال میں امریکہ پاکستان کے اندر براہ راست کارروائی سے گریز کرے گا‘کیونکہ وہ پہلے ہی افغانستان میں پھنسا ہوا ہے اورپاکستان میں کارروائی کی صورت میں یہ اس کے لئے دوسرا کمبل ثابت ہو سکتا ہے‘جسے امریکہ چھوڑنا چاہے گا‘ لیکن پھر کمبل اسے نہیں چھوڑے گا۔ امریکہ اس لئے بھی پاکستان پر حملہ آور نہیں ہو سکتا کہ اس صورت میں اسے افغانستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے پاکستان سے درکار تعاون کی رہی سہی امید اور توقع بھی ختم ہو جائے گی۔ پھر بھی امریکہ کی نئی افغان پالیسی کے تحت چار طرح کے اقدامات سامنے آ سکتے ہیں۔ پہلا: مغربی بارڈر سے شرپسندوں کے ذریعے دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ۔ دوسرا: اقتصادی پابندیاں مثلاً امریکہ کی جانب سے ملنے والی مالی امداد اور تجارتی سامان کی بندش۔ تیسرا: امریکی شہ پر بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف اقدامات میں شدت‘ جیسے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال کارروائیوں کی تعداد میں اضافہ‘ اور چوتھا: پاکستانی علاقے‘ بالخصوص فاٹا کے علاقوں میں امریکہ کے تئیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں میں اضافہ۔ بلاشبہ ان میں سے ہر اقدام پاکستان کے لئے مشکلات بڑھانے کا باعث بنے گا۔ اس لئے میری نظر میں پاکستان کوامریکی دھمکی کا بھرپور جواب دینا چاہئے تاکہ حالات اجاگر ہو سکیں اور امریکہ اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی پر مجبور ہو جائے۔ کچھ ردعمل سامنے آئے بھی ہیں۔ وفاقی کابینہ نے امریکی صدر کے بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی موقف امریکی انتظامیہ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف اس سلسلے میں جلد امریکہ کا دورہ کریں گے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکہ پر واضح کیا کہ ہمیں امریکہ سے کسی قسم کی مالی یا مادی امداد نہیں چاہئے‘ ہم امریکہ سے اعتماد اور اپنی قربانیوں کا اعتراف چاہتے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان پر دہشتگردوں کی حمایت کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکی فوجی افسران اور اہلکاروں کوحالیہ دورہ پاکستان کے دور ان حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقدامات کے شواہد فراہم کئے گئے تھے۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بھارت ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بڑا دبنگ بیان دیا ۔ کہا: ڈونلڈ ٹرمپ دھمکیاں دیتے وقت کمبوڈیا اور ویت نام میں اپنا حشر یاد رکھیں‘ ٹرمپ اگر پاکستان کو امریکی فوجیوں کا قبرستان بنانا چاہتے ہیں تو خوش آمدید۔ امریکہ کی تنبیہ کے جواب میں چین نے بھی موثر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی کوششوں کا تسلیم کرنا چاہیے‘ چین ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ چین کے اس دوٹوک بیان کے بعد بھی امریکہ کو یہ جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ پاکستان میں براہ راست کوئی کارروائی کرے۔ وطن عزیز کے خلاف سازشوں کا تو وہ ایک عرصے سے حصہ ہے ہی۔
امریکی بیانات کے بعد بلا شبہ پاکستان ایک طرح سے بحران کی زد میں ہے۔ اس کے لئے پاکستان کو اپنا موقف موثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ امریکہ پربھی واضح کرنا ہوگا کہ افغانستان کے مسائل کی وجہ پاکستان نہیں،خود افغانستان اور امریکہ کی سابقہ پالیسیاں ہیں۔ امریکہ کو یہ بھی باور کرانا ہو گا کہ صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنی تقریرمیں پاکستان کے خلاف جو لب ولہجہ اختیار کیا‘ امریکہ کا اپنا نہیں‘ افغان حکومت اور بھارت کا بیانیہ لگتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ صدر ٹرمپ کا دھمکی آمیز لہجہ نے پاک امریکی تعلقات دوباہ پٹڑی پر آنے کے رہے سہے امکانات بھی ختم کر دئیے ہیں۔ لگتا ہے کہ امریکی صدرافغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی راہ ہموار کرتے ہوئے طویل ترین جنگ کے خاتمے کے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جبکہ پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے تاکہ اسے دباؤ میں لا کر افغانستان میں حالات کی درستی کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس بار یہ تعاون مفت نہیں ملنے والا۔امریکہ کو اپنی جیب میں ہاتھ ڈالنا ہی پڑے گا۔ اس نئی صورتحال کے تناظر میں امریکہ پاکستان سے مختلف مطالبات کرے گا۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ افغانستان کی جنگ جیت سکتا ہے لیکن اس کے لیے پاکستان کی جانب سے تعاون حاصل ہونا ضروری ہے۔ امریکہ کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ 16 سال میں جنگ نہیں جیت سکے‘جبکہ پاکستان کا بجا موقف یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنا تعاون پاکستان نے کیا‘ بھارت سمیت کسی اور ملک نے نہیں کیا اور جتنی جانی اور مالی قربانیاں پاکستان نے دیں‘ کسی اور قوم نے دی ہوں گی۔ اس کے باوجود ڈو مور کا تقاضہ چہ معنی دارد؟ ٹرمپ نے سوچا ہو گا کہ پہلے دھمکی دی تھی تو فوجی ڈکٹیٹر مشرف اس کے قدموں میں لوٹنے لگا تھا‘ اب بھی دھمکی دیں گے تو ایسا ہی ہو گا‘ تو عرض ہے کہ حضور! پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔ اب پہلے والے زمانہ نہیں اور نہ ہی ملک پر پرویز مشرف حکمران ہے۔ دھمکی آمیز الزام تراشیوں کے اس نئے سلسلے سے پاکستان کو ناقابل فراموش سبق حاصل کرنا چاہیے۔ یہ کہ اپنی مرضی سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اقدامات ضرور کرنے ہیں‘ لیکن اس کے لئے امریکہ کو بلا سبب کندھا پیش نہیں کرنا۔ افغانستان میں امریکہ کی ارتھی اٹھتی ہے تو اٹھتی رہے۔ ہماری بلا سے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *