علی ابرار کے دوستو! شرم سے ڈوب مرو

نعمان انصاری

numan ansari

 پاکستانی سوشل میڈیا پہ ایک وڈیو  وائرل ہوئی۔ اس میں ایک خوبصورت جوان دریا کنارے چٹان پر کھڑا معصوموں کی طرح پانی کے بہاؤ کو دیکھ رہا ہے۔   اس کے دوست اسے چھلانگ لگا کے دوسرے کنارے  پر جانے کے لیے اکسا رہے ہیں۔ لڑکے کی آنکھوں میں خوف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اندازہ ہے کہ بہت تیز پانی کا بہاؤ ھے،پانی میں پوشیدہ خطرات ہیں اور جب تک وہ سپر مین نہیں وہ مصیبت میں ہے۔لیکن دوستوں کا دباؤ ڈالنا ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ یہ دباؤکسی کو بھی غلط فیصلہ کرنے پر چند سیکنڈز میں مجبور کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ان ممالک میں جہاں نوجوان اتنے پر اعتماد نہیں ہوتے اور اپنے دوستوں یاروں کے دباؤ میں آ کے کچھ کرنے کی ہمت کرتے ہیں۔کچھ اور اکسانے پر لڑکے نے چھلانگ لگا دی۔ پیلے تو وہ اپنے  قابو میں رہا لیکن فطرت نے جلد ہی غلبہ پا لیا اور وہ بہاؤ کی لپیٹ میں آگیا۔

جیسے ہی اس بات کا احساس اس کے دوستوں کو ہوا وہ صدمے سے چلانے لگے۔ چیخو پکار کی آواز وڈیو میں سنائی دے رہی ہے جیسے کے دیکھنے والوں کو پتہ لگ گیا تھا کے وہ خطرے میں ہے۔صدمے سے دوچار وڈیو بنانے والا ہی شاید وہ شخص تھا جو جس کی آواز ہم سن سکتے ہیں وہ مدد کے لئے لپکا پر دیر ہو چکی تھی۔رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کے یہ خطرہ مول لینے والا نوجوان 19 سال کا علی ابرار تھا۔ جو اسے اکسا رہے تھے وہ اس کے پانچ دوست تھے اور یہ گجرات سے چھٹیاں منانے آئے تھے۔ انہوں نے پہلے اسے یہ خطرہ مول لینے پر 15000 اور موبائل فون کی پیشکش کی تھی اور نہ کام ہونے پر وہ فون کھو دے گا طے ہوا تھا۔

میں نے یہ وڈیو دیکھی تو مجھے صرف مایوسی ہی محسوس ہو ئی۔ایک جوان زندگی بلا وجہ ضائعکر دی گئی جس کی وجہ جوانی کا جوش اور ان لڑکوں کی خود غرض سوچ تھی جو کہنے کو ابرار کے دوست تھے۔پرانی کہاوت ہے کہ ایسے دوست ہوں تو دشمنوں کی کیا ضرورت- کوئی پوچھے کے آخر اتنا اکساتے وقت ان کے ذہنوں میں کیا چل رہا تھا۔انہیں پکا پتہ تھا کہ  خطرہ ہے ورنہ وہ خود چھلانگ لگا دیتے اسے بچانے کے لیے۔ تیز لہروں کو دیکھتے ہوئے وہ کیا امید کر رہے تھے کے کیا ہو گا؟ لیکن ڈوبنے کا یہ پہلا حادثہ نہیں اور نہ ہی آخری ہو گا۔ یہ ذمہ داری گورنمنٹ کی ہے۔ اگرچہ یہ دور کا علاقہ ہے لیکن ایسی جگہوں پر بھی نوجوانوں کو بیوقوفی سے بچانے کے لیے وارننگ کی تحریروں کے بورڈ لگانے چاہییں۔ تھوڑی دیر کےلیے جہلم کو بھول جاتے ہیں۔ کراچی کے ہاکس بے میں ہر سال کتنی جانیں گنوائی جاتی ہیں۔ اکثر یہ بات سننے میں آتی ہے کہ ایک ہی فیملی کے کچھ لوگ ایک ساتھ ڈوب گئے۔ دوسروں کی طرح ہاکس بے پر میرا بھی کئی موقعوں پہ جانا ہوا۔ ہالانکہ ہر بار یہ ساحل سیاحوں سے بھرا ہوا ملا لیکن میں نے کبھی کسی وارننگ سائن یا لائف گارڈ کو ڈیوٹی پر نہیں دیکھا۔پانی دھوکے باذ ثابت ہو سکتا ہے،اور میں نے کئی لوگوں سے سنا ہے کہ وہ بس اپنی جان گنواں بیٹھتے ہیں، لیکن ابھی تک اس طرح کی جگہوں کو محفوظ نہیں بنایا گیا۔

 جہاں تک ابرار کا تعلق ہے، میں خوش ہوں کہ اس کے دوستوں کو پولیس نے پکڑ لیا۔اس کو خودکش چھلانگ لگانے پر اکسانے کے لیے وہ کم سے کم اتنی سزا کے مستحق تھے۔کیا ابرار اپنی کرتوت کا خود ذمہ دار تھا؟ ہاں، لیکن اس سے اس کے دوست ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔  صاف ظاہر ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ سے پہلے سے وہ کافی دیر سے اسے اکسا رہے تھے ۔ بالآخر اس نے ہار مان لی اور اپنے دوستوں کے دباو کے سامنے سر تسلیم خم کر لیا۔ یہ صرف اس کی غلطی نہیں تھی۔

ali

اگرچہ زیادہ تر لوگوں نے علی ابرار سے ہمدردی کا اظہار کیا لیکن مجھے یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کے بہت سے عوام نے کسی قسم کی ہمدردی نہیں دکھائی۔ یہ بات البتہ واضح ہے کہ یہ ایک غلطی تھی اور ہم میں سے ہر شخص کبھی نہ کبھی غلطی کرتا ہے۔جوانی میں دوستوں کے پریشر میں آ کر انسان غلطی کر بیٹھتا ہے۔ ابرار سے بھی فیصلہ کرنے میں غلطی ہوئی جس کا اسے زندگی گنوانے کی صورت میں خمیازہ بھگتنا پڑا۔

امید ہے کہ پاکستانی نوجوان اس واقعہ سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے دوستوں کے اکسانے پر اس طرح کے خطرات سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ کوئی بھی ابرار کو بچانے کےلیے دریا میں نہیں کودا، ہم یہ جان سکتے ہیں کہ اسے اس کام پر اکسانے والے لڑکے کسی صورت عقلمند نہیں تھے۔ اس طرح دوست کسی دوسرے کو تو خطرہ اٹھانے پر اکسا لیتے ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر ہمیشہ غائب ہو جاتے ہیں۔


courtesy:https://blogs.tribune.com.pk/story/55608/with-friends-like-ali-abrars-who-needs-enemies/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *