ریپ سٹوری

عینی زیدی

aini zaidi

یہ کوئی سائنس فکشن یا قوم بننے کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک ریپ سٹوری ہے جس میں ہم سب کردار کی طرح شامل ہیں۔ اس کہانی میں ہر مرد، عورت، کا جسم ایک ریاست کی ملکیت ہوتا ہے لیکن اس کے تصرفات کے فیصلے کا اختیار،باپ، بھائی اور دوسرے خاندان کے مردوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ جسم کسے سونپا جائے۔ اس کے بعد ایک نیا شخص اس جسم کا مالک بن جاتا ہے اور اسے اپنے طریقے سے استعمال کر کے نتائج حاصل کرتا ہے۔

کئی بار اس میں رقم کا لین دین بھی ہوتا ہے۔ جب کوئی نیا شخص ایک جسم کا کنٹرول حاصل کرتا ہے تو وہ اس جسم کی حفاظت کے عوض پیسے لیتا ہے کیونکہ اب وہ اس جسم کو کھلانے پلانے اور کپڑے پہنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جسم کے پہلے مالک نے بھی اس جسم کو بہت کھلایا پلایا ہے لیکن اسے اس کا معاوضہ نہیں ملا ہے۔ اس کے علاوہ مرد اس جسم کے ٹوٹنے یا خراب ہونے کے ذمہ دار بھی نہیں ہوتے۔ اس کہانی میں سب ریپسٹ ہیں لیکن کچھ کو مختلف عہدے دیے گئے ہیں۔ مظلوم بھی ہیں لیکن ان کو مظلوم کہنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو ریپ کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔

اس لیے مظلوموں کو عوام کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ ان اجسام کو ننگا کرنے، ان کو سزا دینے، ان پر کوڑے برسانے اور انہیں کرنٹ کے جھٹکے دینے کےلیے ایسا کرنا ضروری ہے ۔ اس کہانی میں ریپسٹ حضرات ریٹائر ہو کر آرام دہ زندگی گزار سکتے ہیں جس کی وجہ کئی بار ان ظلم کا شکار ہونے والے اجسام، ان کے رشتہ دار اور ان کے معاشرے ہوتے ہیں۔

اس کہانی میں عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ دو جسموں کا ملاپ ایک پیار کا نتیجہ ہے یا یہ عصمت دری ہے اور اس کےلیے ان جسموں کی رائے کو بھی کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔جب ایک شخص ایک جسم کو بیچ دیتا ہے تو نیا خریدار اسے اپنے لحاظ سے استعمال کرتا ہے۔ اس کہانی میں جنسی عمل اور رومانس کو ریپ کا نام دیا جاتا ہے اور پیار کے نام سے ریپ پلیٹ میں رکھ کر دوسروں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

اس ریپ سٹوری میں کوئی ریاست یا عدالت پوری طاقت اور اختیار رکھنے کے باوجود عصمت دری کا شکار ہونے والے جسم کو بچا نہیں سکتی۔ اس طرح کے اجسام ان کے مالکان کو سونپ دیے جاتے ہیں اور ساتھ خاموشی کے ذریعے یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ ان اجسام کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اس طرح کی کہانیوں میں یہ بھی لازمی ہوتا ہے کہ جسم کے بارے میں نئے خیالات کو اس طرح سامنے لایا جائے کہ جسم کا اس کے استعمال پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ بھی بتایا جائے کہ استعمال کے بعد جسم کی ویلیو میں اضافہ نہیں بلکہ کمی آتی ہے۔

اس طرح کے خیالات کہ جسم ایک لالچی شے ہےا ور اسے مستقبل میں بھی ماضی کی طرح سزا ملتی رہنا چاہیے۔ جنسی حملے کا شکار ہونے کے بعد فوٹو گراف کے لیے منہ پر مسکراہٹ لانے سے بڑی دنیا میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اس کہانی میں اپنے عصمت دری کرنے والے ظالم کو ساتھ کھڑا کر کے تصویر بنوانے سے ریپ کینسل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی کہانیوں میں طاقت ہی جذبہ کی علامت ہوتی ہے۔ کسی ایک جسم کی خواہشات یا اجسام پر مشتمل ایک ریاست کی خواہشات، یا پوری قوم کی خواہشات کو عظمت کا نشان مانا جاتا ہے۔

ایک طاقتور جسم یا کچھ طاقتور اجسام جب اپنی مرضی کمزور اجسام پر مسلط کرتے ہیں تو اسے عظیم کام مانا جاتا ہے اور اخلاقی طور پر درست تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کہانی میں عصمت دری کرنے والوں کو عہدے ملتے ہیں۔ وہ بزنس سنبھالتے ہیں، گلدستے بیچتے ہیں، اپارٹمنٹ اور کمپلیکس کی نگرانی کرتے ہیں، سٹیل کو پگھلاتے ہیں، اور شہر کی کونسل اور ریاست کے شعبے سنبھالتے ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی عصمت دری کرنے والے کے بغیر نہ تو کوئی بزنس سنبھالا جاتا ہے ، نہ کسی گھر کی نگرانی کی جا سکتی ہے، نہ سٹیل پگھلایا جا سکتا ہے اور نہ ریاست کو چلایا جا سکتا ہے۔

یہ سمجھا جاتا ہے کہ عصمت دری کا شکار ہونے والوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کیونکہ وہ کوئی کاروبار نہیں چلا سکتے اور نہ ہی وہ کسی چیز کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کا کام صرف نئے انسان پیدا کرنا ہے لیکن یہ کام بھی صرف ریپ کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ اس طرح یہ کہانی جاری رہتی ہے۔ ان تمام کہانیوں کو بار بار دہرایا جاتا ہے ، ان پر ایکٹنگ کی جاتی ہے اور ہر جگہ ان پر بحث و مباحثے کیے جاتے ہیں۔ کئی بار یہ کہانیاں سننے والوں کو ناگوار گزرتی ہیں اور کئی بار سنانے والے بھی اکتا جاتے ہیں۔ لیکن ان کہانیوں کو کبھی بھی ختم نہیں کیا جاتا۔ اس طرح ایک ریپ کلچر بنتا ہے جس میں ہم سب رہتے ہیں۔


courtesy:http://blogs.tribune.com.pk/story/55158/the-rape-story-we-are-all-living-inside-of/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *