جب عدلیہ نے میڈیا کو خاموش کر دیا

عدنان رحمت

Illustration by Rohail Safdar Munshi

پاکستان میڈیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بننے والا کیس پانامہ معاملہ تھا۔ آپس میں مقابلہ بازی کرنے والا میڈیا اس چیز سے واقف تھا کہ اس معاملے سے عوام کی توجہ اپنی طرف کیسے مبذول کروائی جا سکتی ہے۔ اسی ریس اور مقابلہ بازی کی وجہ سے سب سے بڑا میڈیا گروپ جنگ اور جیو سپریم کورٹ کے سامنے حاضر ہونے پر مجبور ہو گیا اور اس نیٹ ورک پر توہین عدالت کا فرد جرم عائد کر دیا گیا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ جنگ/جیو گروپ نے نواز شریف کے خلاف ہونے والی تحقیقات پر رپورٹنگ کرنے میں حد سے تجاوز کیا ہے ۔ اس معاملے میں نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا اور انہیں نیشنل اسمبلی کی رکنیت سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔

عدالت نے جنگ/جیو کے علاوہ 'دی نیوز' کے پبلشر اور پرنٹر کو نوٹس بھیجا اور احمد نورانی کو ڈانٹ پلائی کیونکہ انہوں نے رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اپیکس کورٹ نے آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی ٹیم کی تحقیقات کی نگرانی کا کام سونپا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی اخبار یعنی 'دی نیوز' کی ٹیم کو ایک دوسری سٹوری کور کرنے پر بھی عدالت کے سامنے وضاحت کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ سٹوری پانامہ کیس کے فیصلے سے ایک دن قبل شائع کی گئی جس میں بتایا گیا کہ شریف خاندان کو بے گناہ پایا گیا ہے۔ رپورٹر نے فیصلے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے جج سے روابط کی بھی کوشش کی تھی۔

 جے آئی ٹی نے نواز شریف کو قصور وار پایا اور عدالت کو ان کے خلاف فیصلہ دینے کا مشورہ دیا۔ پرنٹر، پبلشر وار رپورٹر نے جج سے رابطہ کرنے کی کوشش پر معافی بھی مانگی ۔ انہوں نے آئی ایس آئی کیس میں عدالت کے حکم پر عمل کیا اور عدالت میں پیش ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تفصیلی جواب پیش کرنے کے لیے مہلت بھی مانگی۔ انہیں 22 اگست تک کا وقت دیا گیا۔

پاکستان جیسے ملک میں میڈیا کو بھی بہت احتیاط سے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ میڈیا کے پاس یہ مینڈیٹ ہے کہ وہ تمام حقائق اور عوامی مفاد میں عوام کے سامنے لائے۔ میڈیا کے لیے لازمی تھا کہ وہ جے آئی ٹی کے کاموں اور تحقیقات کے طریقوں پر نظر رکھے خاص طور پران الزامات کے بعد جو شریف خاندان نے جے آئی ٹی ممبران پر لگائے تھے۔

اگرچہ یہ ممکن ہے کہ رپورٹر نے حد سے تجاوز کیا ہو لیکن اس کے باوجود عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ میڈیا سے سختی سے پیش آئے، خاص طور پر ایسے معاملے پر جو عوامی مفاد میں ہو ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جے آئی ٹی کی نگرانی میں حساس اداے کا کرداراور اس کا عدالت سے کنکشن ایک حقیقت تھی جسے رپورٹر نے عوام کے سامنے لانے کی ہمت دکھائی ۔

رپورٹر کے مطابق انہوں نے سکیورٹی اور جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ سے بھی رابطہ کیا لیکن ان کی بات کی تردید یا تصدیق نہ کی جا سکی۔ اس کی تردید کر دی جاتی تو معاملہ بدل جاتا۔ میڈیا کو عوامی مفاد میں تھوڑی بہت غلطی پر بھی معافی ملنی چاہیے ورنہ عوام کو جاننے کا حق جو انہیں 19 اے کے مطابق حاصل ہے ان سے چھین لیا جا سکتا ہے اور طاقتور طبقہ کو کوئی ان کے غلط کاموں پر جوابدہ نہیں بنا سکے گا۔ اب جب پانامہ فیصلہ آ چکا ہے تو یہ عوام کی پراپرٹی ہے ۔ کوئی بھی شخص اس پر تبصرہ کر سکتا ہے اس لیے کوئی بھی اس پر میڈیا کو سزا دینے کا حق نہیں رکھتا۔ رپورٹنگ کے دوران کی گئی غلطیاں بھی اب بے معنی ہو چکی ہیں کیونکہ ان تما م کہانیوں کو پوائنٹ آوٹ اور قبول کیا جا چکا ہے۔ عدلیہ کے احترام سے مراد میڈیا کی آزادی پر قدغن کا حق کبھی نہیں ہونا چاہیے۔


courtesy:https://herald.dawn.com/news/1153835/when-the-judiciary-silenced-the-media

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *