پاکستان تیار ہے؟

نوید چودھری
naveed chaudhry
امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف تقریر کے بعد حکومتی جواب تاخیر سے آنے کے باوجود کافی حد تک بہتر ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا افغانستان میں استحکام کی کوششوں میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں عمدگی سے واضح کیا گیا کہ افغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جا سکتی اور پاکستان چاہتا ہے کہ امریکی فوج افغان سرزمین پر قائم دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ٹھکانوں سمیت پاکستان میں دہشت پھیلانے والوں کو ختم کرنے کیلئے فور ی اور مو ¿ثر کوششیں کرے۔ امریکی صدر کے اس دعویٰ کو بھی مسترد کر دیا گیا کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دی گئی ہے۔ اس کی بابت بتایا گیا کہ اس حوالے سے ہونے والی ادائیگیوں کا تعلق امریکہ کی جانب سے افغانستان میں آپریشن کیلئے زمینی اور فضائی حدود کے استعمال کیلئے ہے نہ کہ کسی مالی امداد سے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے نتیجہ میں اتنا جامع اور ٹھوس موقف آنے کے بعد پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ یقینی طور پر اسٹیبلشمنٹ نے بھی سوچا ہو گا اگر سکرپٹ رائٹر کے منصوبے پر پوری طرح سے عمل کرتے ہوئے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے ساتھ ہی حکومت بھی ختم کر کے اقتدار ٹینکو کریٹس کو سونپ دیا جاتا تو آج سب مشکل میں پھنسے ہوتے۔ اس اجلاس کی صدارت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کی اور حکومتی سائیڈ سے تین، چار وزراءشریک ہوئے جو حقیقت میں اپنے عہدوں پر موجود ہونے کے باوجود محض ”ڈمی“ بنے ہوئے ہیں۔ نواز شریف کی فراغت کے ساتھ ہی سول حکومت کا پورا سیٹ اپ عہدوں کی تہمت سروں پر سجائے ادھر ادھر گھوم رہا ہے۔ اب کوئی انہیں سیریس لینے کیلئے تیار نہیں۔ غیر یقینی کی یہ فضا ملک کے اندر ہی نہیں باہر بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس اجلاس سے قبل اسٹیبلشمنٹ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اہم وزراءسمیت سعودی عرب جا کر حمایت حاصل کرنے کی تجویز دی۔ پاکستانی وزیراعظم جدہ ایئر پورٹ پر اترے تو استقبال کیلئے کوئی اعلیٰ سعودی عہدیدار موجود نہ تھا۔ مقامی گورنر تک نے خود آنا گوارا نہ کیا بلکہ اپنے نائب کو بھیج کر واضح کر دیا کہ پاکستان کے موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں سول حکومت کی اہمیت برائے نام ہی ہے۔ پاکستانی وفد کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات محض 20 منٹ جاری رہی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ دورہ ناکام ہو گیا ہاں مگر یہ ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ سول حکمرانوں کی اندرون و بیرون ملک اہمیت زیرو کرنے میں کن عناصر نے کردار ادا کیا؟حکومت ہی کیا اب تو ہماری اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں بھی بیرون ملک عجیب و غریب باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ابھی تین روز قبل بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے حکومت کو کسی معاملے پر احکامات جاری کیے، وزیراعظم حسینہ واجدنے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان نہیں ، یہاں ہر لحاظ سے بالادستی پارلیمان کی ہی ہو گی۔
اسٹیبلشمنٹ کی کوئی ”نیکی“ کام آگئی کہ ٹرمپ کے دھونس جمانے تک جیسا تیسا سول سیٹ اپ موجود تھا، اگر ٹینکو کریٹس کی حکومت ہوتی تو مشرف دور سے بھی زیادہ برا حال ہونا تھا۔ بیان بازی کی حد تک معاملہ ٹھیک ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ نواز شریف کی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل ہی چودھری نثار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ عدالتی فیصلے پر چوں چراں نہ کی جائے۔ چکری کے چودھری نے قوم کو ”یرکاتے“ ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان کے خلاف انتہائی خوفناک منصوبہ بن چکا ہے جس کا علم صرف دو سیاسی شخصیات (یعنی وزیراعظم اور وزیر داخلہ اور دو فوجی عہدیداروں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی) کو ہے ہو سکتا ہے کہ فوجی حلقوں میں معلومات تمام کور کمانڈروں تک پہنچائی جا چکی ہوں۔ یہ عملاً ممکن نہیں ہوتا کہ ملک کو جنگی حوالے سے خطرات درپیش ہوں اور فارمیشن کمانڈروں کو بروقت آگاہ نہ کیا جائے۔ اس وقت چودھری نثار نے اس حوالے سے خود توکوئی اشارہ نہیں دیا تھا مگر چند ہی روز بعد پاکستان کے عسکری حلقوں نے ذرائع کے حوالے سے خبریں چلائیں کہ امریکہ نے فاٹا اور بلوچستان میں فضائی حملوں کا منصوبہ بنالیا ہے۔ پھر یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی فورسز ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جارحیت کرنے والے طیاروں کو مار گرایا جائے، نیز میزائلوں کے رخ مشرق ہی نہیں مغربی سرحدوں پر بھی دشمن کے فوجی ٹھکانوں کی جانب موڑ دئیے گئے ہیں۔ ان اطلاعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ کی نئی پالیسی کے تحت فاٹا میں بھی کافی اندر آ کر حملے کرنے کے خدشات پائے جارہے ہیں اور بلوچستان میں توا س حوالے سے محض ایک ہی مثال تھی جب چند سال قبل طالبان کے اس وقت کے سربراہ ملا اختر منصور کو نشانہ بنایا گیا ۔اب اگر امریکی طیارے بلوچستان میں بھی فاٹا کی طرح حملے کرنا معمول بنا لیں گے تو یقینی طور پر اس سے جنگی صورت حال ہی پیدا ہو گی۔ ہمیں دھمکایا تو یہ کہہ کر جارہا ہے کہ ہماری حدود میں حقانی نیٹ ورک وغیرہ کے ٹھکانے موجود ہیں مگر اصل تکلیف سی پیک ہی ہے۔ منصوبے پر کام شروع ہونے سے لے کر اب تک طرح طرح کی سازشیں کی جارہی ہیں۔
صرف بیرونی دشمن ہی نہیں اندرون ملک بھی ہر شعبہ ہائے زندگی میں موجود سہولت کار اس گھناﺅنے کام میں بھرپور ہاتھ بٹارہے ہیں۔ پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کیلئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے ٹرمپ سے بھی بڑھ کر دھمکیاں لگائیں۔ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ہی غیر محفوظ قرار دے کر خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ اب خدانخواستہ یہ تباہ کن سازش آگے بڑھی تو مزید دباﺅ آئے گا۔ سب سے پہلے تو یہ کوشش کی جائے گی کہ پاکستان کو طاقت سے مرعوب کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو سی پیک سے بدظن کرنے کیلئے بھرپور میڈیا مہم چلائی جائے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس غلیظ پروپیگنڈے میں بھی وہی میڈیا ہاﺅسز اور اینکر استعمال ہونگے جو 2014 ءسے لے کر اب تک اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر سول حکمرانوں سمیت تمام سیاستدانوں اور جمہوریت کے حامی حلقوں پر تبریٰ کرتے چلے آرہے ہیں۔ کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ان ضمیر فروشوں کو ڈالر اور دھونس دکھا کر کسی بھی کام پر لگایا جا سکتا ہے۔ سوچنے کی بات مگر یہ ہے کہ ان حالات میں چین کیا کرے گا؟ کم فہم اور کوتاہ اندیش حلقوں کے ساتھ قوم کو گمراہی میں مبتلا رکھنے کیلئے منظم پروپیگنڈا مہم چلانے والے مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ چین ہی نہیں روس بھی پاکستان کی مدد کیلئے آجائے گا۔ یہ دنیا ہے دنیا ، یہاں تو محلے میں کوئی کسی اور کی لڑائی نہیں لڑتا۔ عالمی جنگ ہونے کے دور دور تک آثار نہیں ہاں !مگر خانہ جنگی کے خطرات ضرور ہیں۔ ایسے میںکسی ملک کو کیا پڑی ہے کہ دوسرے کی لڑائی میں کودے۔ چین کی سرتوڑ کوشش ہے کہ امریکی اور بھارتی اقدامات کے باعث پاکستان میں عدم استحکام نہ پھیلے۔ چین ہی نہیں روسی حکومت کے بیانات بھی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش ہیں لیکن اگر کسی تصادم کی نوبت آگئی تو اپنی لڑائی خود ہی لڑنا ہو گی۔ دوست کے متعلق بدگمانی رکھنا درست نہیں تو خوش فہمی میں بھی نہیں رہنا چاہیے۔ چین نے دنیا بھر میں سرمایہ کاری کررکھی ہے ۔صرف برطانیہ میں اس کی سرمایہ کاری کا پیکیج پاکستان سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ ہمیں جذباتی ہونے کے بجائے چین کی مجبوریوں کا احساس کرنا ہو گا۔
تجزیہ تو یہ کیا جانا چاہیے کہ پاکستان کو درپیش مشکلات کیلئے آخر ہمیں کیا پالیسی اختیار کرنی ہے۔ امریکی صدر کے دھمکی آمیز خطاب کے بعد ہماری عسکری قیادت نے کہا تھا کہ ہمیں کسی قسم کی امداد کی ضرورت نہیں۔ بس ہم پر اعتماد کیا جائے۔ کیا ملک کے اندر بھی ایسے حالات ہیں کہ کہا جا سکے کہ اقتدار کے تمام سٹیک ہولڈر ایک دوسرے پر بھرپور اعتماد کر رہے ہیں۔ جی نہیں !ایسا ہر گز نہیں۔ پوری قوم اور ایک دو کے سوا تمام شعبے تقسیم کا شکار ہیں۔ کوئی کسی پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ایک طرف سیاسی تقسیم ہے جس میں کھل کر اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دوسری جانب خود اسٹیبلشمنٹ کے بغل بچہ پولیٹیکل اور دیگر گروہ ہیں جو بچی کھچی سول حکومت کو دھمکا رہے ہیں۔ ججوں کو وکلاءکے ہاتھوں جس ہزیمت کا سامنا ہے اس کی ماضی میں مثال تک نہیں ملتی۔ اپنی ہی عدالتوں میں بیٹھنے کیلئے رینجرز کی سکیورٹی لازمی ہو چکی ۔ صوبائی منافرت بڑھ رہی ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر بلوچستا ن میں آج ہونے والی ہڑتال سب کے سامنے ہے۔ کراچی میں مہاجر ازم پھر پروان چڑھایا جارہا ہے۔ قوم پرست کے پی کے اور اندرون سندھ میں متحرک ہیں۔ ہائیکورٹ سے حکم لایا جاتا ہے کہ نواز شریف ،وزیراعلیٰ پنجاب اور 14 وزراءکے عدلیہ مخالف بیانات پر پابندی ہے۔ اگلے روز وکلاءکنونشن میں ن لیگ نے اس کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ حیرت کی بات ہے ایک طرف تو اسٹیبلشمنٹ کے کارندے دھمکارہے ہیں کہ شریف خاندان جیل جائے گا اور بعد میں جلاد کے حوالے کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب کلثوم نواز شریف کی علالت پر آرمی چیف سابق وزیراعظم کو عیادت کیلئے فون بھی کر دیتے ہیں۔ ذاتی حیثیت میں ہوتا تو شاید سمجھ میں بھی آجاتا۔ آرمی سے ناراض سابق وزیراعظم کو فون کر کے خبر باقاعدہ آئی ایس پی آر کے ذریعے جاری کی گئی۔ اگر وزیراعظم پورے خاندان سمیت کرپٹ اور نااہل ہے تو پھر ایسے فون کے حوالے سے سوالات تو پیدا ہونگے۔ شریف خاندان کو گرفتار کیوں نہیں کیا جارہا؟ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت کوئی بھی کلیئر نظر نہیں آرہا کہ معاملات کو کس سمت لے کر جانا ہے۔فرقہ واریت کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے۔ چنیوٹ میں تبلیغی جماعت کے دو ارکان کی ایک شخص کے ہاتھوں شہادت کے بعد کسی نے خبر تک چلانے کی زحمت نہیں کی۔ نیشنل ایکشن پلان کہاں رہ گیا۔ فوجی عدالتیں کیا کررہی ہیں۔ سی ٹی ڈی کو صرف ایک ہی طرف سب خرابیاں نظر آتی ہیں کیا۔ ہوش کے ناخن لینے کیلئے اب شاید زیادہ وقت باقی نہیں بچا۔
ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے اس مضحکہ خیز ڈرامے میں گرتی پڑتی ن لیگی حکومت نے ریمنڈ ڈیوس جیسے کسی معاملے کے حقائق آشکار کر دئیے تو ........بس نہ ہی پوچھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *