جنسی زیادتی کے الزام میں سزا پانے والے گرمیت سنگھ کون ہیں؟

گرو رام رحیم

گرمیت رام رحیم انڈیا کے ایک خود ساختہ روحانی پیشوا ہیں جو ریاست ہریانہ میں ڈیرہ سچا سورا نامی فرقے کے سربراہ بھی ہیں۔اپنے شوخ انداز کی وجہ سے وہ ’راک سٹار گرو‘ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ گذشتہ کچھ برسوں سے ان کے نہ صرف ہزاروں پیروکار بنے بلکہ ان کا سیاسی اثر و رسوخ بھی قائم ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ تنازعات سے بھی الگ نہیں رہے۔

 2002 میں انڈیا کی وفاقی پولیس نے خلاف قتل اور ریپ کے مقدمات کی تحقیقات شروع کیں جن سے وہ انکار کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے اپنے 400 پیروکاروں کو مجبور کیا وہ اپنی مردانہ صلاحیت سے محروم ہو جائیں تاکہ وہ خدا کے قریب ہو سکیں۔گرو رام رحیمرام رحیم گرو 15 اگست 1967 میں مودیا نامی گاؤں میں پیدا ہوئے جو ریاست راجستان میں واقع ہے۔ ان کا کوئی بہن بھائی نہیں۔

23 ستمبر 1990 میں وہ ڈیرہ سچا سودا کے ہریانہ میں واقع صدر دفتر کے سربراہ بن گئے۔سرسا میں اس تنظیم کا ایک وسیع و عریض ہیڈ کوراٹر ہے جبکہ پورے ملک میں متعدد آشرم ہیں۔ گذشتہ کچھ برسوں سے رام رحیم نے خود کو ایک سماجی اصلاح کار کے طور پر پیش کیا جس کے دوران انھوں نے صفائی اور خون عطیہ کرنے کے لیے مہمات چلائیں۔

سنہ 2010 میں ایک اجتماعی شادی کی تقریب میں ان کے 1000 پیروکاروں نے جسم فروش عورتوں سے شادی کی۔

ان کی ذاتی ویب سائٹ پر ان سے متعلق کافی بڑے بڑے دعو ے کیے گئے ہیں۔ اس سائٹ کے مطابق وہ ’روحانی پیشوا، انسان دوست، ورسٹائل گلوکار اور آل راؤنڈر کھلاڑی‘ ہیں۔ وہ متعدد میوزک ویڈیوز میں بھی دکھائی یے۔گرو رام رحیم گذشتہ چند برسوں میں انھوں نے پردۂ سیمیں پر بھی اپنے جلوے دکھا کر اپنی ہر فن مولا شخصیت کا سکّہ منوانا چاہا۔ 2015 میں انھوں نے فلم بنائی جس کا نام ’ایم ایس جی: میسنجر آف گاڈ‘ تھا۔ وہ اس فلم کے مصنف، شریک ہدایتکار، موسیقار اور گلوکار تھے۔ اگلے ہی برس انھوں نے اس فلم کا ’ایم ایس جی 2: میسنجر آف گاڈ‘ سیکوئل بھی بنایا۔

اس فلم نے بڑے پیمانے پر شائقین کو متاثر کیا جس میں انھوں نے خود کو خلائی مخلوقات، بھوتوں اور ہاتھیوں سے تنہا لڑتے ہوئے اور معاشرے کے مسائل کو اکیلے ہی حل کرتے ہوئے دکھایا۔

اپنی شبیہہ بنانے کی انہی کوششوں کی وجہ سے انہیں ’راک سٹار بابا‘ کہا جاتا تھا۔ انہیں زیور سے مزین رہنے کی وجہ سے ’چمکیلے زیور والا گرو‘ بھی کہا جاتا تھا۔

ان کی کوششوں کی وجہ سے وہ بڑی تعداد میں پیروکار بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ڈیرہ سچا سودا کے مطابق دنیا بھر میں ان کے چار کروڑ سے زائد پیروکار ہیں۔ تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ان کے زیادہ تر پیروکار پنجاب اور ہریانہ میں ہیں۔ وہ سیاست میں بھی سرگرم رہے۔ان کے بیٹے کی شادی سیاسی جماعت کانگرس کے رکن ہرمندر سنگھ جسّی کی بیٹی سے ہوئی۔سنہ 2017 میں انھوں نے ریاست میں حزبِ اختلاف کے اتحاد کی حمایت کا اعلان کیا۔ 2007 میں وہ ایک اشتہار میں سکّھوں کے پیشوا گرو گوبند سنگھ کی طرح ملبوس ہوئے جس پر سکھ برادری ناراض ہوئی۔ اس کے بعد  2015 میں ایک ہندو تنظیم نے ان کے خلاف شکایت درج کروائی جس کے تحت ایک ویڈیو میں رام رحیم نے ہندو بھگوان وشنو کا روپ دھار رکھا تھا۔ ناقدین کے مطابق انھوں نے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں۔ان تمام تنازعات کے باوجود ان کے پیروکاروں اور حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن میں سیاستدان بھی شامل ہیں۔ ان کے گروہ کو حکمراں بھارتیا جنتا پارٹی اور کانگرس دونوں کی ہی حمایت حاصل رہی ہے۔


courtesy:BBC

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *