ہمارے جھنڈے میں سفید رنگ کیوں ہے؟

yasir-latif-hamdani

پاکستان کے چیف جسٹس کے دو قومی نظریہ کے بارے میں بیان کو 20 دن گزر چکے ہیں اور تنقید کے باوجود چیف جسٹس نے اپنے بیان کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ اپنے بیان پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے ان کے لیے بہتر تھا کہ ایک بیان سے اپنے الفاظ کی وضاحت کردیتے کیونکہ وہ ملک کے سب سے باوقار جج ہیں۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ان سے یہی متوقع تھا۔ ایک ایسی ریاست میں جہاں ریاست کے قیام کے دن سے قائد اعظم کے بیانات اور ہدایات کے باجود اقلیتوں کو احترام نہیں دیا گیا وہاں اس سے بہتر ہم کیا توقع کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مناسب ہو گا کہ ہم جوگندر ناتھ منڈل ، پاکستان کے پہلے وزیر قانون کا وہ خط پڑھیں جس میں انہوں نے 1950 میں ہی اقلیتوں کی حالت دیکھتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دیا تھا۔ پاکستان کے قیام کے تین سال بعد انہوں نے اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے لکھا: کچھ ماہ بعد برطانوی حکومت نے 3 جون کے اعلان میں ہندوستان کی تقسیم کا ایجنڈا طے کیا۔ پورا ملک، خاص طور پر پورا غیر مسلم ہندوستان یہ سن کر حیران رہ گیا۔ سچ کی خاطر مجھے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ میں ہمیشہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کے مطالبے کے حق میں تھا۔ تقسیم ہند کے محرکات کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے یہ چیز ایک تنازعہ کا باعث تھی۔ ایوب کھوڑو جو ایک مسلم لیگی سندھی رہنما تھے ، نے بھی چھپے لفظوں فمیں سری پریکاسا کے ساتھ بات چیت میں اس چیز کا اعتراف کیا تھا۔ پریکاسا پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی ہائی کمشنر تھے۔ تقسیم کے پیچھےآزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے اقتدار میں حصہ حاصل کرنا سب سے بڑا مقصد تھا۔ منڈل بنگال میں مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ کھڑے رہے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ مسلم لیگ کا اصل مقصد تسلیم نہیں بلکہ مسئلے کا حل ہے۔ پاکستان بن گیا اور پاکستان کے قیام کے فوری بعد کرن شنکر رائے نے کانسٹیٹیوشن اسمبلی میں جناح سے پہلا سوال پوچھا: کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کیا پاکستان ایک سیکولر ریاست ہو گی؟ اس سوال کے جواب میں جناح نے تاریخی تقریر 11 اگست کو کی۔ جو بھی شخص اس تقریر کو مکمل پڑھے اسے جناح کا جواب صاف واضح طور پر سمجھ آ سکتا ہے۔

منڈل لکھتے ہیں: میرا خیال تھا کہ اس کو پوری آب و تاب کے ساتھ لاگو کیا جائے گا جیسا کہ مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940 کی قرارداد میں طے کیا تھا۔ مجھے مسلم لیگ کے وعدوں اور قائد اعظم کے بیانات پر پورا یقین تھا جو انہوں نے 11 اگست کو پاکستان کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے جاری کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہندوں اور مسلمانوں کو برابر کا شہری مانا جائے گا کیونکہ وہ سب پاکستانی ہیں۔ لیکن ان تمام وعدوں کو آپ کی نظروں کے سامنے پس پشت ڈالا جا رہا ہے اور قائد اعظم کے نظریات کو روندتے ہوئے اقلیتوں کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔

یہ 1950 کا واقعہ ہے۔ منڈل کے خط میں مشرقی پاکستان میں ہندوں کو زبردستی مسلمان کرنے اور ہندوں پر ظلم و جبر کی شکایت کی گئی تھی۔ یادرہے کہ اس دور میں ابھی پاکستان اسلامی جمہوریہ نہیں بنا تھا اور نہ ہی آئینی لحاظ سے پاکستان نے مسلمانوں اور اقلیتوں میں امتیاز برتنا شروع کیا تھا۔ منڈل نے شکایت کی کہ ایسے لوگ جو غیر مسلموں کے نمائندے نہیں ہیں انہیں اقلیتوں کا نمائندہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خط کے اختتام پر لکھا کہ میں اب اس بے ایمانی اور جھوٹ کا بوجھ اپنے ضمیر پر نہیں ڈال سکتا اس لیے میں اس وزارت سے فوری طور پر استعفٰی دیتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ آپ اسے فوری طور پر قبول کر لیں گے۔ یا اسے ایسی صورتحال میں دیکھیں گے جو آپ کی اسلامی ریاست کے مقاصد پر پورا اترتی ہو۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اس خط کے ایک سال بعد تک زندہ رہے لیکن انہوں نے کبھی اس خط کے بارے میں ایک بیان تک نہیں دیا۔ اگر لیاقت علی خان منڈل کے استعفی کو مسترد کر دیتے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتے توآج حالات کتنے مختلف ہوتے۔

67 سال بعد پاکستان میں غیر مسلم آبادی صرف پانچ فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ ہمارے مسلما ن سیاست دان اور سیاسی جماعتیں اس چھوٹی سی تعداد سے بھی سخت خائف ہیں۔ ہمارے آئین میں اقلیتوں کے لیے پارلیمنٹ کی صرف 5 فیصد سیٹیں مختص ہیں۔ ایل ایف او 2002 کے مطابق اس نمبر کو مختصر کر کے صر ف10 سیٹوں تک محدود کر دیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 51 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ غیر مسلموں کے لیے مختص سیٹوں کو مین سٹریم سیاسی جماعتوں کو تحفے میں دیا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے اسے ہم غیر مسلموں کی نمائندگی کیسے قرار دے سکتے ہیں؟

اس حوالے سے دیکھا جائے تو چیف جسٹس اپنے قول پر پورے اعتماد سے قائم ہیں۔ ان کی پوزیشن کو پچھلے ستر سال کے تجربہ کی حمایت حاصل ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ ایک اقلیت کے بارے میں ناذیبا الفاظ استعمال کر بھی لیں تو کوئی ان سے وضاحت نہیں مانگے گا۔ اگر لیاقت علی خان جیسا وزیر اعظم جوگندر ناتھ منڈل سے ایسے وقت میں وضاحت مانگ سکتا ہے جب اس طرح کے نظریات خطرہ کی علامت تھے تو 2017 کے اسلامی پاکستان میں اقلیتوں پر کون بھروسہ کر کے ان کا ساتھ دیتے ہوئے کسی مسلمان سے وضاحت مانگ سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے چیف جسٹس صرف مسلمانوں کے چیف جسٹس ہیں۔ ہمارے جھنڈے کے سفید رنگ کی کس کو ضرورت رہ گئی ہے؟ یہ ایسا معمولی حصہ بن گیا ہے جیسے انسانی جسم میں اپینڈکس۔ کیوں نہ اس سفید رنگ کو بلکل ختم کر دیا جائے؟ یہاں ایک غیر مسلم کو کون سے حقوق ملتے ہیں؟ انہیں چاہیے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں ہجرت کر جائیں۔


courtesy:http://dailytimes.com.pk/opinion/28-Aug-17/the-white-part-in-our-flag

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *