گڈ بائے امریکہ

 میر معید 
mir moeed
جرنل نکلسن نے جو کہ افغانستان میں امریکی فوج کا کمانڈر ہے واشنگٹن پوسٹ کی پاک افغان بیورو چیف  پامیلہ کانسٹیبل  کو انٹرویو دیتے ہوئے انتہائی خطرناک لیکن  قدرے مضحکہ خیز الزام  لگایا ہے کہ داعش پاکستان کی پیدا کردہ تنظیم ہے اور پاکستان تمام تر دہشتگردی کا موجب و محور ہے جواباً   قائم مقام امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز کے دورہ پاکستان کو ملتوی کرنے کاپاکستانی  مطالبہ نئی امریکی حکمت عملی کو پاکستانی  وزیر خارجہ کے امریکی دورے کے ملتوی کیے جانے کے بعد دوسرا دھچکا ہے۔
امریکہ کے پاس پاکستان کے خلاف مستقبل قریب میں کاروائی کے لیے چند محدود آپشنز موجود ہیں ۔ ایک یہ کہ امریکہ پاکستان کو اتحادی ملک ہونے کے درجے سے گرا دے جس کا امریکہ کو بے انتہا نقصان ہوگا اور پاکستان کا اعتماد علاقے میں جاری جنگ میں فریقین پر بحال ہو گا اور کافی حد تک مستقبل قریب میں پاکستان اس لامتناحی جنگ و جدل سے نکل پائے گا ۔ پاکستان کو ڈرانے کا دوسرا آپشن یہ ہے کہ امریکہ پاکستان پر کاروباری پابندیاں لگا دے اور پاکستان کی معیشت کو گہری ضرب لگا کر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو نئے ورلڈ آرڈر میں نئے پاور سٹرکچر کے مطابق چائنہ اور رشیاسے وہ کچھ ملنے کی امید ہے جو کہ امریکہ اپنی بگڑتی معیشت اور وعدہ خلافی کی عادت کے باعث کبھی نہیں دے پائے گا اور پاکستان کی معیشت امریکی پابندیوں کے باعث بہتر ہوسکے گی ۔ اس کے علاوہ پاکستان کو پابندیوں کا سامنا اگر موجودہ صورت حال میں کرنا پڑا جب پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات بہتری اور بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ رہے ہیں تو پاکستان خوداری کی منازل حادثاتی طور پر پا سکتا ہے جو کہ ملک خداداد کے باشندوں کو اس ذلت آمیز  بھکاریوں کی سی زندگی سے نجات دلا سکتی ہے ۔ محنت کی روکھی سوکھی زندگی ایک دن ہمیشہ کا آرام لاتی ہے اور زلت کا آرام ایک دن رینگنے پر مجبور کر کے زلت کی اتہا گہرائیوں میں ڈال دیتا ہے -
Related image
امریکہ کے پاس ایک اور آ پشن یہ ہے کہ وہ افغانستان میں موجود وار لارڈز کو انٹیلی جنس فراہم کرنا شروع کرے اور انھیں پاکستان کے خلاف کاروئیوں کے لیے استعمال کر سکے اس آپشنز پر ماضی میں بھی کافی عمل کیا گیا مگر خود امریکی انٹیلی جنس افسران کی کتابیں اس طرح کی فائنڈنگز سے بھری پڑی ہیں کہ جب جب امریکہ نے در پردہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی خاطر وار لارڈز کو استعمال کیا تو الٹا انھو ں نے امریکہ کے خلاف زیادہ کاروائیاں کیں اور خود امریکہ کو اس کا زیادہ نقصان ہوا۔
ایک آخری آپشن اور کہا جائے کے امریکہ کے پاس ٹرمپ کارڈ یہ ہے کہ خطے میں بھارت کو کھلی چھوٹ دے دے کہ وہ پاکستان کے خلاف کھلی اور در پردہ کاروئیاں کرے اور بدلے میں  امریکی دوستانہ اور عیارانہ یارانہ اوج کمال کو پہنچے۔ اس صورت کے پیش نظر چائنہ نے بھارت پر محدود پیمانے پر جنگ مسلط کر رکھی ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے  پاکستان کے خلاف بھارت کی آبی جارحیت کو روکنے کے لیے چائنہ نے برہم پترا دریاؤں کا پانی جو کہ چائنہ سے بھارت میں داخل ہوتے ہیں بلکل ویسے ہی قحط سالی اور سیلابی صورت حال پیدا کرنے کے لیے جوباً  استعمال کیا جیسے بھارت نے پاکستان میں داخل ہونے والے دریاؤں سے پاکستان کو نقصان پینچایا نتیجہ صاف ظاہر ہے بھارت آبی جارحیت بھول کر چائنہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا۔
پاک امریکہ تعلقات میں لو ہیٹ (love hate ) ریلیشن ہمیشہ سے قائم ہیں غیر یقینی کی صورت اس سے زیادہ گھمبیر کبھی نہیں ہوئی جب 1979 میں اسلام آباد میں  امریکی ایمبیسی پر حملے کے نتیجےمیں دو امریکی مارے گئے تھے اور پاکستان کو امریکی پابندیوں کے باعث تنہا کر دیا گیا تھا ۔ مگر اب حالات یکسر بدل چکےہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف جنوبی ایشیائی پالیسی پاکستان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان دوست ممالک سے مشوروں کے بعد امریکہ کو ایک مناسب جواب دے اور امریکی عوام کو قا ئل کرنے کی کوشش میں جتے امریکی عسکری و سول قیادت کو دوست ممالک کی مدد سے امریکی بلکہ بین الاقوامی رائے عامہ کو درست استوار کیا جائے کہ افغانستان جنگ کی ناکامی پاکستان کے سر ڈالنے سے امریکہ میں نہ جاب مارکیٹ میں اضافہ ہوگا نہ ہی ریسیشن کو افاقہ ہوگا بلکہ اس گمراہ کن پالیسی سے امریکہ کے لیے حالات مزید بد سے بدتر اور بدترین ہو جائیں گے امریکہ کو سمجھنا ہو گا کہ ہم ایڑیاں اونچی کرکے قد بڑھانے کی بجائے علاقائی دوستانہ حکمت عملی سے نمو پا کر  بلند قامت اور ناقابل تسخیر ہوئے ہیں پاکستان کو عراق بنانے کا خواب امریکہ کو روس بنا دے گا -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *