پاکستان، افغان جنگ سے کیسے نکلے؟

asghar khan askari

ہم نے ویتنام جنگ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن اس کے بارے میں بزرگوں سے سنا ہے اور کتا بوں میں بھی تھوڑا بہت پڑھا ہے۔اسی طر ح ہم کمبوڈیا کے بارے میں زیادہ نہیں جا نتے لیکن بزرگوں سے اس کے بارے میں کہانیاں ضرور سنی ہے اور تھوڑا بہت اس ملک کے بارے میں مطالعہ بھی ہے۔رہی افغانستان میں گز شتہ 40 سالوں سے جاری جنگ تو اس کے ہم عینی شاہد ہے۔سوویت یونین جب افغانستان میں لڑ رہا تھا تو کئی مجاہدوں کو محاذ جنگ پر رخصت کیا تھا۔افغان جنگ کے بارے میں اس وقت پختون خوا ،قبا ئلی علا قہ جات اور افغانستان میں دو آراء پائی جاتی تھی۔ایک مکتبہ فکر کا نقطہ نظر یہ تھا کہ افغانستان میں جہا د ہے جبکہ دوسرے کی رائے یہ تھی کہ وہاں جہاد نہیں بلکہ فساد ہو رہا ہے۔جب افغانستان میں سوویت یو نین کو شکست ہو گئی تو جہادی نقطہ نظر رکھنے والوں نے خوشیاں منائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سرخ ریچ کو دریا ئے آمو کے اس پار آنے سے روک دیا۔وہ اس بات پر جشن منا رہے تھے کہ ہم نے کیمونزم کے نظر یے کو افغانستان کی فضاؤں میں تحلیل کر کے اسے درہ خیبر کے راستے پاکستان آنے سے روک دیا ہے۔دوسری طر ف جن کا فلسفہ یہ تھا کہ افغا نستان میں جہا دنہیں فساد ہے وہ انتظار میں تھے کہ کب پاکستان کے حالات خراب ہو نگے تاکہ وہ بھی اپنی سچائی کا اعلان کرئے۔جب پاکستان میں دھماکے ہونا شروع ہوگئے تو اسی مکتب کے لوگوں نے چیخنا شروع کیا کہ ہم نے تو سالوں پہلے کہا تھا کہ افغانستان میں جہاد کے نام پر فساد ہو رہا ہے۔بہر کیف افغان جنگ کے کئی ادوار ہے۔سوویت یونین کے بعد مجاہدین آپس میں دست و گریبان رہے۔خانہ جنگی کے بعد طالبان کا ظہور ہوا۔پھر 9/11 کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرکے ایک نئے جنگ کا آغاز کر دیا ۔سولہ سالہ جنگ کے دوران امریکہ نے افغان جنگ کی نا کامی کا سارا ملبہ ہمیشہ پاکستان پرہی ڈالا ہے،لیکن اب یہ جنگ طویل ہو تی جا رہی ہے اس لئے امریکہ کی کو شش ہے کہ افغانستان میں با قاعدہ شکست تسلیم کئے بغیر یہاں سے چلا جا ئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیش رو بارک اوبامہ کی طر ح وہی پرانے الزامات دہرا کر شکست کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا ہے۔لیکن امریکہ کو اس مرتبہ ان الزامات کو دہرانے کی وجہ سے پاکستان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔اسلام آباد میں امریکی سفیر نے فوج کے سربراہ جنرل قمر جا وید باجوہ سے ملا قات کی ہے،اس ملا قات میں انھوں نے واشنگٹن کو دوٹوک جواب دیا ہے۔پارلیمنٹ نے بھی خودمختار ہو نے کا ثبوت دیا ہے۔وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنا دورہ امریکہ ملتوی کر دیا ہے،جبکہ امریکہ کے نا ئب وزیر خارجہ کو بھی اسلام آباد آنے سے روک دیا ہے۔یقیناًما ضی میں امریکہ کو ان الزامات پر اسی طر ح کے شدیدردعمل کا سامنا نہیں کر نا پڑا تھا۔اسی ردعمل کا نتیجہ ہے کہ امریکہ کے محکمہ خارجہ کے تر جمان نے بیان دیا ہے کہ دہشت گر وں کے ٹھکانے سر حد کے دونوں اطراف مو جود ہے۔بہر حال اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو اس جنگ سے نکلنے کے لئے کیا کر نا چا ہئے؟اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ ریا ستی ادارے اس بات کو یقینی بنا ئے کہ کسی بھی نان سٹیٹ ایکٹر کو امریکی الزامات کے بعد ملک میں احتجاجی جلسوں کی اجازت نہ دی جائے۔جس طر ح کہ امریکی الزامات کے بعد مو لانا سمیع الحق اور دفاع پاکستان کو نسل متحرک ہو ئے ہے۔پورے ملک میں موقع پرست تنظیموں نے احتجاج شروع کر رکھا ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ان تنظیموں کو لگام دیں۔ اس لئے کہ امریکہ کو جواب دینے کے لئے ریاست ،حکومت اور ادارے مو جود ہے،لہذا غیر متعلقہ افراد کو جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ حکومت کو چا ہئے کہ کو لیشن سپورٹ فنڈز میں جو امداد امریکہ نے کی ہے اس کی تمام تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کریں۔قوم کو بتا یا جائے کہ جو امداد امریکہ نے دی تھی اس کو کس مد میں استعمال کیا گیا ہے اور اس کے بدلے میں کون سی سہولیات امریکہ کو فراہم کی گئی تھی،ساتھ یہ بھی واضح کیا جائے کہ امریکہ کے ساتھ سہولیات کی فراہمی کے معا ہدے زبانی تھے یا تحریری۔پاکستان واضح طور پر امریکہ سے مطالبہ کریں کہ جہاں ان کو شک ہے کہ سرحد کے اس پار دہشت گر دوں کی محفوظ پنا گا ہیں ہیں،امریکہ ٹھوس ثبوت دیں اور الزامات لگانے سے گریز کریں۔پاکستان کو چا ہئے کہ امریکہ سے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کریں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے تمام رہنماؤں کو ہمارے حوالے کریں۔ اس لئے کہ یہی لوگ افغانستان میں این ڈی ایس ،را اور خود امریکہ کی زیر سرپرستی کام کر رہے ہیں۔پاکستان کو چا ہئے کہ امریکہ سے مطالبہ کریں کہ اپنے فوجی کمانڈروں کا مکمل احتساب کریں کہ سولہ سال جنگ کرنے کے بعد وہ ابھی تک افغانستان میں دہشت گروں کو ختم کرنے میں نا کام کیوں ہے؟پاکستان کا حق بنتا ہے کہ امریکہ سے سوال کریں کہ افغانستان کے گز شتہ اور مو جودہ حکمرانوں کا مکمل محا سبہ کریں اور ان سے پوچھا جائے کہ اربوں ڈالر سالا نہ امداد ملنے کے باوجود وہ ابھی تک اپنے ملک میں فعال فوج بنانے میں کامیاب کیوں نہیں ہو ئے؟پاکستان امریکہ سے یہ پو چھنے میں حق بجناب ہے کہ افغانستان کو پابند کریں کہ ہندوستان کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر نے کی اجازت نہیں دیں گے ،جبکہ ہندوستان کو بھی پیغام دیا جائے کہ وہ پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گر دی سے باز رہیں۔رہی بات حقانی نیٹ ورک کی تو پاکستان کو چا ہئے کہ اس حوالے سے واضح پالیسی امریکہ کے سامنے رکھیں۔ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں امریکہ کو صاف جواب دیا جائے کہ وہ ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ہے اس لئے آئندہ اس کے بارے میں الزام کو نہ دہرائے۔سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے امریکہ سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس حوالے سے پاکستان کی مالی اور تکنیکی طور پر مدد کر یں۔پاکستان میں مو جود افغان پنا ہ گزینوں کی جلد اپنے ملک واپسی کے لئے اقدامات کریں۔پاکستان کو امریکہ پر واضح کرنا چا ہئے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے ہر قسم کی مدد کے تیار ہیں،لیکن ایسا مطا لبہ نہیں کیا جائے کہ جو ہمارے بس سے با ہر ہو۔بہر صورت پاکستان کو امریکی الزامات کاتر تیب وار جواب دینا ہو گاکہ جس سے یہ پیغام واضح ہو کہ اسلام آباد افغان جنگ کو ختم کرنے میں سنجید ہ ہے لہذا امریکہ کو بھی الزامات کی بجا ئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کی الزامات سے پاکستان میں ایک کہرام مچا ہو ا ہے۔بعض لوگ پاکستان کو ڈرا رہے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے خلاف جارحیت کرسکتا ہے۔مو جودہ حا لات میں اگر امریکی فوج اور صدر ٹرمپ پاگل پن کی تمام سرحدوں کو عبور بھی کرلیں تو وہ پاکستان پر بر اہ راست حملہ آور نہیں ہو سکتے۔اس لئے کہ افغانستان نہ امریکی فوج کے زیر نگین ہے اور نہ ہی افغان حکومت کی۔جب تک امریکہ افغانستان پر مکمل قبضہ نہیں کرتا اسی وقت تک وہ پاکستان کے ساتھ براہ راست تصادم کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *